امریکہ اور چین کے درمیان جیوپولیٹیکل مقابلے سے عبارت، عالمی طاقت کی جاری منتقلی کے اس دور میں، داعش اور اس کی علاقائی شاخوں نے عملی اور نظریاتی دونوں محاذوں پر چین کو اپنے نئے دشمن کے طور پر نشانہ بنا لیا ہے۔ اس سے قبل داعش اور اس کی علاقائی شاخوں کی چین کے ساتھ دشمنی زیادہ تر موقع پرستی اور مخصوص معاملات تک محدود تھی، جیسے کہ چین اور طالبان کی قربت، سنکیانگ میں ایغور برادری پر عائد پابندیاں، یا ترکستان اسلامک پارٹی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات۔ ماضی میں داعش اور اس کی علاقائی شاخوں، بالخصوص داعش خراسان نے چینی منصوبوں، شہریوں اور ساتھ ہی ان کے اقتصادی و سفارتی مفادات کے خلاف اپنے حملوں کا جواز پیش کرنے کے لیے ان ہی معاملات کا فائدہ اٹھایا۔ تاہم، اب ایک بنیادی فکری تبدیلی رونما ہو رہی ہے جس کے تحت چین کو اسلام کے دشمن اور اس طرح ایک مستقل حریف کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے ہی چین داعش کے نشانے پر رہا ہے، لیکن اس دہشت گرد گروپ کے پروپیگنڈا لٹریچر میں چین مخالف بیانیے کو زیادہ تر داعش خراسان ہی آگے بڑھا رہی تھی۔ داعش خراسان کی یہ توجہ مستقل نہیں تھی بلکہ کسی منظم سوچ یا ایجنڈے کے بغیر کبھی کبھار سامنے آتی تھی۔ تاہم، اب یہ انداز بدل رہا ہے کیونکہ داعش اور داعش خراسان باقاعدگی کے ساتھ اور اپنے واضع عزائم کے اظہار کے ذریعے اپنے چین مخالف پروپیگنڈے کو تیز کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق داعش کی خراسان شاخ اس گروپ کے کم از کم ایک درجن یا اس سے زیادہ عسکریت پسند دھڑوں میں سے ایک ہے جو داعش کی چھتری تلے سرحدوں کے پار ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں(فائل فوٹو: اے ایف پی) چین کے خلاف داعش کے پروپیگنڈے کا لہجہ، ارتکاز اور تعداد (تکرار) ماضی کی کوششوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر مختلف ہے۔ اب یہ زیادہ موضوعاتی، مرکوز، منظم اور باقاعدہ ہو چکا ہے۔ ماضی کے برعکس جہاں الزامات محض اتفاقیہ اور سرسری طور پر لگائے جاتے تھے، اب وہ سوچے سمجھے اور ایک محتاط انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں۔ داعش خاص طور پر سنکیانگ میں ایغور برادری کے ساتھ چین کے سلوک پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، اور اسے انسانی یا مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر پیش کرنے کی بجائے ایک تہذیبی تصادم اور مذہبی ظلم و ستم کے معاملے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ چین کے حوالے سے داعش کی اس نئی توجہ کے دو رُخ یا مراحل ہیں؛ نظریاتی اور عملی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) فی الحال اس کا نظریاتی مرحلہ سامنے آ رہا ہے، جس کے تحت چین کے خلاف پروپیگنڈے کو تیز کیا جا رہا ہے۔ یہ تشہیر کی جا رہی ہے کہ جیسے جیسے چین عالمی سطح پر ابھر رہا ہے، اس کی اسلام مخالف پالیسیاں صرف ایغور برادری تک محدود نہیں رہیں گی۔ چین اسلام کے ساتھ اپنی اس دشمنی کا دائرہ کار ایشیا اور افریقہ کے ان مسلم ممالک تک بڑھا دے گا جہاں اس نے ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو’ کے تحت معاشی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ امریکہ کے خلاف پروپیگنڈا کرنا تو آسان تھا، کیونکہ اس نے افغانستان، عراق، شام اور لیبیا پر حملے کر کے دہشت گردی کے خلاف جنگ چھیڑی تھی، لیکن چین کو اسلام کے دشمن کے طور پر پیش کرنا آسان نہیں ہے۔ سنکیانگ کے علاوہ، چین کے زیادہ تر مسلم ممالک مثلاً پاکستان، افغانستان، وسطی ایشیائی ریاستوں، ایران، سعودی عرب اور قطر وغیرہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ اسی لیے اسلام کے خلاف چین کی دشمنی ثابت کرنے کے لیے ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو’ کے منصوبوں کو مسلم ممالک کے خلاف معاشی جبر کے ہتھیار اور ان کے وسائل کو لوٹنے کی ایک سازش کے طور پر بدنام کیا جا رہا ہے۔ داعش ایک ایسی دنیا میں راستہ تلاش کر رہی ہے جو بڑے پیمانے پر تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے کیونکہ طاقت مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اس بڑی عالمی تبدیلی کے ساتھ ساتھ، داعش اپنے دشمنوں کی درجہ بندی کی ازسرنو تعریف کر رہی ہے۔ چونکہ اب یورپ عالمی توجہ کا مرکز نہیں رہا اور امریکہ ایک زوال پذیر بالادست (سپر پاور) ہے، اس لیے داعش نے خود کو منظرِ عام پر رکھنے اور اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے چین پر نظریں جما لی ہیں۔ فائل فوٹو: نامعلوم تاریخ کی اس تصویر میں شدت پسند تنظیم داعش سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو اسلحے کے ہمراہ دیکھا جا سکتا(اے ایف پی) چین ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے اور وہ ان خطوں میں اپنے معاشی قدم جما رہا ہے جہاں داعش کی بھاری موجودگی ہے، یعنی ایشیا اور افریقہ۔ چنانچہ، عملی اور نظریاتی دونوں وجوہات کی بنا پر، داعش کے لیے چین مخالف موقف سے فائدہ اٹھانا آسان اور موزوں ہے۔ داعش کے چین مخالف پروپیگنڈے کا ایک مقصد ‘ترکستان اسلامک پارٹی’ کی ہمدردیاں حاصل کرنا بھی ہے۔ اس وقت ترکستان اسلامک پارٹی شام اور افغانستان کے درمیان بکھری ہوئی ہے اور وہ اس کشمکش میں مبتلا ہے کہ آیا طالبان اور القاعدہ کے وفادار رہا جائے یا پھر داعش/داعش خراسان میں شمولیت اختیار کر لی جائے، جو اپنے چین مخالف پروپیگنڈے اور حملوں میں زیادہ متحرک ہو چکے ہیں۔ مجموعی طور پر، افغانستان اور شام میں ایغور جنگجوؤں کی تعداد تقریباً 5, 000 سے 6, 500 کے درمیان ہے۔ اگر ان میں سے آدھے بھی داعش/داعش خراسان میں شامل ہو جاتے ہیں، تو اس سے اس دہشت گرد گروپ کی طاقت میں اضافہ ہو گا۔ چنانچہ، چین مخالف پروپیگنڈے کو تیز کرنے، اسے منظم و موضوعاتی بنیادوں پر استوار کرنے اور مستقل کوریج دینے کے پیچھے اصل سوچ ترکستان اسلامک پارٹی کی توجہ حاصل کرنا، ان کی ہمدردیاں جیتنا اور انہیں داعش/داعش خراسان میں شامل ہونے پر قائل کرنا ہے۔ چونکہ اب انسدادِ دہشت گردی بین الاقوامی برادری کی بنیادی توجہ کا مرکز نہیں رہی اور تمام تر توجہ و وسائل بڑی طاقتوں کے مابین مقابلے کی طرف منتقل ہو چکے ہیں، اس لیے داعش اور اس کی علاقائی شاخوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ موجودہ حساس نوعیت کے اختلافات (فالٹ لائنز) کا فائدہ اٹھا کر عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔ نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ مصنف ایس راجاراتنام سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ داعش داعش خراسان چین سنکیانگ شدت پسند تنظیم امریکہ کے خلاف پروپیگنڈا کرنا تو آسان تھا، کیونکہ اس نے افغانستان، عراق، شام اور لیبیا پر حملے کر کے دہشت گردی کے خلاف جنگ چھیڑی تھی، لیکن چین کو اسلام کے دشمن کے طور پر پیش کرنا آسان نہیں ہے۔ عبدالباسط خان سوموار, جون 22, 2026 – 06: 45 Main image:
26 جولائی 2016 کو مشرقی صوبہ ننگرہار کے ضلع کوٹ میں جاری جھڑپوں کے دوران ایک مسلح افغان سپاہی اسلامک اسٹیٹ گروپ کے بینر لگی دیوار کے قریب سے گزر رہا ہے (نور اللہ شیرزادہ / اے ایف پی)
زاویہ type: news related nodes: چین کے خلاف داعش کی پھیلتی جنگ داعش کے کابل اور اسلام آباد میں حملے، تنظیمی مایوسی؟ داعش اسلام آباد تک کیسے پہنچ گئی؟ داعش کا رکن پاکستان، افغانستان سرحدی علاقے سے گرفتار: ترک میڈیا SEO Title: داعش چین کے خلاف ایک مستقل محاذ کھول رہی ہے؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



