59.3 F
Pakistan
Monday, October 19, 2026
HomeBusinessخیبرپختونخوا: معدنیات کے لائسنسز کے اجرا میں اضافہ، خواجہ آصف اور پی...

خیبرپختونخوا: معدنیات کے لائسنسز کے اجرا میں اضافہ، خواجہ آصف اور پی ٹی آئی میں اختلاف

خیبرپختونخوا میں معدنیات کی تلاش اور نکالنے کے لیے لائسنسز کے اجرا پر ایک عسکری ادارے ’ایف ڈبلیو او‘ کے کردار اور صوبائی آمدن کے حوالے سے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر معدنیات عارف احمدزئی کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔ خواجہ آصف نے ایکس پر 17 اکتوبر کو ایک بیان میں کہا کہ صوبے میں معدنیات کی تلاش اور انہیں نکالنے کے لیے لائسنسز کی تعداد میں نمایاں اضافہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں ہوا۔ جبکہ سابق صوبائی وزیر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لائسنسز کی تعداد بڑھنے کی بڑی وجہ پالیسی میں تبدیلی تھی، جس کا مقصد زیادہ افراد کو کاروبار اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ خیبرپختونخوا معدنی وسائل کے اعتبار سے پاکستان کے اہم صوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں سنگِ مرمر، گرینائٹ، چونا پتھر، کرومائٹ، جپسم، صابن پتھر اور مختلف قیمتی و نیم قیمتی پتھر پائے جاتے ہیں۔ یہ وسائل تعمیرات، سیمنٹ سازی، صنعتی پیداوار، پتھر کی تراش خراش اور برآمدات کے شعبوں میں اہم معاشی امکانات رکھتے ہیں۔ تاہم ان وسائل سے صوبے کو حقیقی فائدہ پہنچانے کے لیے شفاف لائسنسنگ، مؤثر نگرانی، مناسب رائلٹی کی وصولی اور مقامی آبادی کو روزگار کی فراہمی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ قیامِ پاکستان سے 2010 تک خیبرپختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنسز یا ٹائٹلز جاری کیے گئے تھے۔ ’پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی۔ 2020 تک 1, 762، فروری 2024 تک 3, 962، اور موجودہ وقت میں کل 4, 917 مائننگ لائسنسز جاری ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 4, 133 آباد اضلاع میں اور 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیں۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) وزیر دفاع نے مزید دعویٰ کیا کہ معدنیات کے شعبے میں عسکری ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو صرف ایک لائسنس 2015 میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں دیا گیا تھا، جہاں ادارہ تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا۔ ان کے مطابق اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیرِ غور ہیں، جن میں کوئی درخواست عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے۔ خواجہ آصف نے ان اعداد و شمار کی بنیاد پر مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں معدنیات کے لائسنسز کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کے دور حکومت میں جاری ہوئی۔ دوسری جانب سابق وزیر معدنیات خیبرپختونخوا عارف احمدزئی نے خواجہ آصف کے مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لائسنسز کی تعداد میں اضافے کو صرف سیاسی حکومت کی کارکردگی یا کسی مخصوص ادارے کے کردار سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ اس اضافے کی ایک اہم وجہ لائسنسنگ پالیسی میں تبدیلی بھی تھی۔ عارف احمدزئی کے مطابق 2017 تک تقریباً 1, 200 افراد کو لائسنسز جاری کیے گئے تھے، جبکہ پہلے ایک ٹھیکیدار یا کمپنی کو 80 تک لیزز رکھنے کی اجازت دی جا سکتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے یہ حد کم کر کے پانچ لیزز مقرر کی، تاکہ زیادہ افراد کو معدنیات کے کاروبار میں حصہ لینے اور روزگار حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔ سابق صوبائی وزیر نے دعویٰ کیا کہ اسی پالیسی کی وجہ سے لائسنسز کی تعداد بڑھ کر چھ سے سات ہزار تک پہنچ گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’صوبائی حکومت کے پاس چار بڑے لائسنسز تھے، جن میں سے ایک ایف ڈبلیو او کو دیا گیا جبکہ باقی تین خالی ہیں۔‘ عارف احمدزئی نے معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس شعبے سے صوبے کو تقریباً 70 کروڑ روپے حاصل ہوتے تھے، جبکہ اب یہ آمدن 14 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے ایف ڈبلیو او پر رائلٹی کی ادائیگی کے حوالے سے بھی الزامات عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ ادارے کے پاس تقریباً 40 لیزز ہیں، لیکن وہ صوبے کو مقررہ 10 فیصد رائلٹی ادا نہیں کر رہا۔ ان کے بقول مبینہ واجبات 35 سے 40 ارب روپے تک بنتے ہیں، جبکہ ادارے کی جانب سے صرف 14 کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں۔ ان الزامات اور مالی اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ معدنیات کے لائسنسز پر یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو امن و امان اور ’دہشت گردی‘ کے خلاف ناکافی اقدامات پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا، جس کی بعد ازاں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظوری بھی حاصل کی گئی۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کو سکیورٹی کی صورت حال سے جوڑا، جبکہ پی ٹی آئی نے اسے سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ پاکستان خیبر پختونخوا پاکستان تحریک انصاف معدنیات خیبرپختونخوا میں معدنیات کی تلاش اور نکالنے کے لیے لائسنسز کے اجرا پر اور صوبائی آمدن کے حوالے سے وفاقی وزیر دفاع اور سابق پی ٹی آئی وزیر کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 19, 2026 – 11: 15 Main image: type: news related nodes: خیبر پختونخوا: معدنیات کمپنی بنانے کا بل تنقید کے بعد واپس خیبر پختونخوا: دہشت گردی کی تلخ تاریخ اور گورنر راج خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی مجبوری میں لگائی ہے: شہباز شریف ایف ڈبلیو او اور ٹرک ڈرائیوروں کے درمیان تنازع، کب کیا ہوا؟ SEO Title: خیبرپختونخوا: معدنیات کے لائسنسز کے اجرا میں اضافہ، خواجہ آصف اور پی ٹی آئی میں اختلاف copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments