تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی۔ وہ اپنے صفحات میں محفوظ ہر زخم کو وقت آنے پر دوبارہ یاد دلا دیتی ہے۔ پشاور کے علاقے حسن خیل کے نواحی گاوں پستوانہ میں عام شہریوں پر مبینہ ڈرون حملے کی خبر نے بھی پاکستانیوں کو انہی تلخ یادوں کی طرف لوٹا دیا ہے جنہیں اس قوم نے بے شمار قربانیوں کے بعد دفن کرنے کی کوشش کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں متعدد بے گناہ شہری زخمی ہوئے۔ اگر تحقیقات ان اطلاعات کی تصدیق کرتی ہیں تو یہ ایک بار پھر اس حقیقت کی نشاندہی ہوگی کہ دہشت گردی کا پہلا اور آخری شکار ہمیشہ عام انسان ہی بنتا ہے وہ انسان جو نہ ہتھیار اٹھاتا ہے، نہ جنگ کا حصہ ہوتا ہے، مگر اس کے حصے میں صرف خون، آنسو اور ویرانی آتی ہے۔پاکستان کی گزشتہ دو دہائیوں کی تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ دہشت گردی نے کسی ایک شہر، ایک طبقے یا ایک ادارے کو نہیں بخشا۔ خوارج نے ماضی میں بھی خودکش حملوں کا سلسلہ تھمنے نہیں دیا، ان حملوں نے مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں، اسکولوں، مزارات اور جنازوں تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ماضی کی کچھ تلخ حقیقت کا ذکر کرنا بہت لازم ہے جیسے کہ 10 جنوری اور 16 فروری 2013 کو کوئٹہ میں ہونے والے ہولناک دھماکوں میں درجنوں بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 22 ستمبر 2013 کو پشاور کے آل سینٹس چرچ پر حملہ مذہبی ہم آہنگی پر کاری ضرب ثابت ہوا۔پھر وہ دن آیا جسے پاکستان کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے میں 140 سے زائد افراد، جن میں اکثریت معصوم بچوں کی تھی، زندگی سے محروم ہو گئے۔ اس روز صرف ماو¿ں کی گودیں اجڑیں یا اسکول کی دیواریں خون سے رنگیں نہیں، بلکہ پوری قوم کی روح زخمی ہوئی۔ دہشت گردوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ مستقبل پر حملہ کر سکتے ہیں، لیکن وہ یہ نہ جان سکے کہ قوموں کا مستقبل کتابوں، قلم اور حوصلوں سے بنتا ہے، گولیوں سے نہیں۔اگر خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع کی تاریخ دیکھی جائے تو وہاں کے عوام نے دہشت گردی کی سب سے بھاری قیمت ادا کی۔ سینکڑوں دیہات اجڑے، ہزاروں شہری جان سے گئے، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور کئی نسلوں کا سکون چھن گیا۔ اسی طرح 30 جنوری 2023 کو پشاور پولیس لائنز مسجد میں خودکش حملے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ دہشت گردی جب سر اٹھاتی ہے تو عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہتیں۔لیکن یہ پوری کہانی کا صرف ایک رخ نہیں۔ دوسرا رخ قربانی، استقامت اور قومی عزم کا ہے۔ دہشت گردی کے عروج کے زمانے میں پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، قبائلی عمائدین، علما اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن ردالفساد صرف فوجی کارروائیاں نہیں تھیں بلکہ ریاست کے اس عزم کا اظہار تھیں کہ پاکستان کو دہشت گردی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان قربانیوں کے نتیجے میں ملک کے بیشتر علاقوں میں امن بحال ہوا، بازار دوبارہ آباد ہوئے، سکولوں میں گھنٹیاں بجنے لگیں اور سرمایہ کاری و ترقی کی امید نے دوبارہ جنم لیا۔آج اگر عام شہریوں پر حملوں کی خبریں سامنے آتی ہیں تو یہ محض چند زخمی افراد کا معاملہ نہیں بلکہ یہ اس امن کو چیلنج کرنے کی کوشش ہے جو ہزاروں شہداءکے خون سے حاصل ہوا۔ دہشت گرد ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ عوام خوفزدہ ہوں، اداروں پر اعتماد کھو دیں اور معاشرہ تقسیم کا شکار ہو جائے۔ مگر پاکستان کی تاریخ نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ قوم آزمائشوں سے کمزور نہیں بلکہ زیادہ مضبوط ہو کر ابھرتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ایسے واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہوں، حقائق سامنے لائے جائیں، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور سہارا فراہم کیا جائے۔ امن صرف بندوق سے قائم نہیں ہوتا بلکہ انصاف، قانون کی حکمرانی، عوام کے اعتماد اور قومی یکجہتی سے مضبوط ہوتا ہے۔تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ واضح ہوتا ہے۔ وہ قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے شہداءکو یاد رکھتی ہیں، اپنے زخموں سے سبق سیکھتی ہیں اور خوف کے آگے سر نہیں جھکاتیں۔ دہشت گردی نے پاکستان سے بہت کچھ چھینا ہے، لیکن ایک چیز نہیں چھین سکی اس قوم کا حوصلہ۔ آج بھی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ معصوم شہریوں کا خون بہا کر وہ پاکستان کے عزم کو کمزور کر سکتا ہے تو اسے تاریخ کے صفحات دوبارہ پڑھنے چاہییں۔ اس سرزمین نے ہر اندھیری رات کے بعد طلوعِ سحر دیکھا ہے، اور یہ یقین آج بھی اتنا ہی مضبوط ہے کہ امن، اتحاد اور قانون کی طاقت آخرکار ہر فتنے اور ہر دہشت گردی پر غالب آئے گی۔یہ واقعہ اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ خوارج کا بنیادی طرزِ عمل خوف و ہراس پھیلانا اور مقامی آبادی کو دہشت زدہ کرنا ہے۔ شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا ان کے اس وسیع تر اور منظم تشدد پر مبنی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد معاشرتی سکون اور استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس دہشتگردی سے نجات بھی اتحاد سے ممکن ہے مذہبی ، لسانی، معاشرتی تفریق کو بالائے طاق رکھ کر ہی منزل حاصل ہوگی۔



