حوثیوں کی جانب سے ریاض کے ہوائی اڈے پر بار بار کیے جانے والے حملوں نے، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مسافر اور عملے کے ارکان جان سے گئے یا زخمی ہوئے، یہ ثابت کیا ہے کہ انہیں بین الاقوامی قوانین کی کوئی پروا نہیں جو ہوائی اڈوں جیسے شہری اہداف پر حملوں سے منع کرتا ہے اور جان بوجھ کر ایسے مقامات کو نشانہ بنانے کو جنگی جرم بھی قرار دیتا ہے۔ یہ حملے انسانی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے اسی بے لگام بے حسی کا تسلسل ہیں جو اس سے قبل مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں اور سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں واضح طور پر دیکھی گئی۔ یہ ایسے مقامات ہیں جہاں بڑی تعداد میں شہری جمع ہوتے ہیں۔ ریاض کے ہوائی اڈے پر حالیہ حملوں کے متاثرین میں متعدد زائرین بھی شامل تھے جو مکہ جا رہے تھے۔ حوثیوں نے سعودی عرب پر اس لیے حملے کیے ہیں کہ وہ ان کے منصوبے کے خلاف یمنی حکومت کی حمایت کے لیے 2015 میں قائم کیے جانے والے اہم اتحاد میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ باغیوں نے تشدد اور افراتفری پھیلائی، ریاست کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور یمنی عوام کو غربت میں دھکیل دیا۔ لاکھوں شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بعض نے بیرون ملک، زیادہ تر سعودی عرب میں، پناہ لی جبکہ دیگر ملک کے اندر بے گھر ہوئے، جن کی اکثریت حکومتی کنٹرول میں موجود صوبہ مارب میں مقیم ہے۔ یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے اتحاد نے باب المندب کا کنٹرول حوثیوں سے واپس لینے میں یمنی حکومت کی مدد کی۔ اس طرح آبی گذرگاہ پر قبضہ کرنے اور بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی حوثیوں کی تازہ کوشش کو ناکام بنایا گیا۔ حوثیوں کو مسلم دنیا میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار سے رنج ہے۔ وہ سعودی عرب پر حملہ کرنے اور مکہ و مدینہ کے اسلامی مقدس شہروں کا کنٹرول خود حاصل کرنے کی اپنی خیالی کوشش کو چھپاتے بھی نہیں۔ یہ کبھی واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ محض ایک تصوراتی کہانی ہے جو وہ اپنے پیروکاروں کو سناتے ہیں یا وہ حقیقتاً اس عجیب و غریب فریب پر یقین رکھتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں ان ہی مقدس مقامات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانا خاصا عجیب دکھائی دیتا ہے جبکہ وہ ایسے نظریات کی بھی حمایت کرتے ہیں جو دنیا کے 200 کروڑ مسلمانوں کی اکثریت کے عقائد سے متصادم ہیں۔ وہ سعودی عرب کو پاکستان اور ترکی کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے کی وجہ سے بھی نشانہ بناتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے اتحاد میں شامل ممالک کے وزرائے دفاع اور خارجہ نے ریاض میں ملاقات کی تاکہ معاہدے میں طے شدہ دفاعی اور بازدارانہ نظام کو فعال کیا جا سکے۔ ان اقدامات میں سعودی عرب کے دفاع میں مدد کے لیے افواج اور فوجی سازوسامان کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ حوثی سعودی عرب کے ترقی کے پرعزم منصوبوں کو نقصان پہنچانے اور سرمایہ کاروں کو دور رکھنے کے لیے بھی اس پر حملے کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے یمن کو غربت میں دھکیلنے کے حوثیوں کے اپنے شرم ناک کارنامے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات سمیت نمایاں اہداف پر حملے کر کے حوثی سعودی عرب کے استحکام اور خوش حالی کے مرکز کی حیثیت سے قائم تشخص کو داغ دار کرنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب ایسے غیر ملکیوں کے لیے ایک پرکشش مقام ہے جو وہاں اپنا مستقبل بنانے کے خواہش مند ہیں اور ایک کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ تارکین وطن اس ملک میں رہتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سعودی عرب میں رہنے والے 20 لاکھ یمنیوں میں سے بیشتر اپنے وطن رقوم بھیجتے ہیں، جن سے یمنی معیشت کو سہارا ملتا ہے۔ ان رقوم سے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ حوثیوں کو اپنے سب سے بڑے غیر ملکی دشمن پر اس تضحیک آمیز انحصار سے رنج ہے۔ حوثی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کو محاذ جنگ پر ہونے والی فوجی ناکامیوں کی تلافی کے لیے بھی نشانہ بناتے ہیں۔ یمنی حکومت ان کی بعض پیش قدمیوں کو پلٹنے میں کامیاب ہوئی ہے، جن میں باب المندب پر ان کا عارضی قبضہ بھی شامل ہے۔ یہ آبی گذرگاہ حوثیوں کی حالیہ فوجی مہم کا بنیادی تزویراتی ہدف تھی۔ حوثیوں نے امن اور مفاہمت کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر ثالث اس تعطل کو ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ حوثیوں نے جنگ روکنے کے لیے یمنی حکومت اور بین الاقوامی برادری کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔ چنانچہ گذشتہ ہفتے ان کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا حکومتی فیصلہ برسوں تک انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کے بعد کیا گیا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے علاوہ آج دنیا یمنی حکومت اور یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے اتحاد کی حمایت میں پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہے۔ متعدد ممالک پہلے ہی حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، بالخصوص بحری جہاز رانی اور توانائی کی رسدی زنجیروں پر ان کے حملوں کے بعد۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی حوثی باغیوں کے خلاف کئی قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ ان میں اقوام متحدہ کے منشور کے باب ہفتم کے تحت منظور کی گئی بعض قراردادیں بھی شامل ہیں، جو حوثیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے اضافی قانونی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ نے ان قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے ادارے قائم کیے ہیں، لیکن حوثیوں نے یمن میں ان اداروں کے لیے کام کرنا مشکل بنا دیا ہے اور اقوام متحدہ کے درجنوں اہلکاروں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ یمنی حکومت کی کوششوں نے قیادت کرنے کے اس کے عزم کو ثابت کیا ہے اور اتحاد نے ان کوششوں کی حمایت کی ہے۔ وہ نہ صرف یمن بلکہ بین الاقوامی نظام کا بھی دفاع کر رہے ہیں، جس میں بحری سکیورٹی اور رسدی زنجیروں کا تحفظ شامل ہے۔ تاہم حوثیوں کی جارحیت اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کی پالیسی کے پیش نظر بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ یمنی حکومت کی اپنی جگہ برقرار رکھنے اور حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کو پسپا کرنے کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات کرے۔ اول: یہ ضروری ہے کہ وسائل رکھنے والے ممالک پورے یمنی علاقے میں حکومتی اختیار بحال کرنے اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے لیے یمنی حکومت کی فوجی کارروائی کی حمایت کریں۔ دوم: ان ممالک کو یمنی عوام کا اتحاد برقرار رکھنے میں مدد کرنی چاہیے اور دیگر مطالبات کے مقابلے میں حوثیوں کی شکست کو ترجیح دینی چاہیے۔ دوسرے مطالبات سے بعد میں نمٹا جا سکتا ہے۔ سوم: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت گذشتہ ہفتے اعلان کردہ دفاعی اور بازدارانہ نظام کو فعال بنانے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ چہارم: سعودی عرب کی قیادت میں قائم کثیرالاقومی بحری دفاعی اتحاد کو باب المندب کے دفاع کے لیے بین الاقوامی سطح پر رابطہ کاری کی ذمہ داری دی جانی چاہیے۔ اسے خطے بھر میں سرگرم متعدد بحری اتحادوں اور اداروں، جن میں امریکی، یورپی اور بین الاقوامی گروپ شامل ہیں، کی کوششوں کو یکجا کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ پنجم: یمنی فریقین کو جلد از جلد سیاسی حل تک پہنچانے کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کی جانی چاہییں۔ ششم: یمنی حکومت کے شروع کردہ اقتصادی اور انسانی پروگرام کی حمایت کے لیے مزید مالی وسائل جمع کیے جانے چاہییں۔ مصنف خلیج تعاون کونسل کے سیاسی امور اور مذاکرات کے معاون سیکریٹری جنرل ہیں۔ اس مضمون میں بیان کیے گئے خیالات ان کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ خلیج تعاون کونسل یا اس ادارے کے مؤقف کی نمائندگی کرتے ہوں۔ یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔ سعودی عرب ریاض حوثی حوثی سعودی عرب کو پاکستان اور ترکی کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے کی وجہ سے بھی نشانہ بناتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالعزیز العویشق بدھ, اکتوبر 14, 2026 – 06: 30 Main image: نقطۂ نظر type: news related nodes: حوثی حملوں کے بعد ریاض ائیرپورٹ 17 اکتوبر تک بند حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے کا فیصلہ جلد: ٹرمپ یمن میں حوثیوں کے 100 سے زائد اہداف تباہ: سعودی اتحاد خطرات سے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ ہیں: پاکستان SEO Title: حوثیوں کے ریاض پر حملے: اسباب اور حل کیا ہے؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



