70.5 F
Pakistan
Friday, May 1, 2026
HomePoliticsحزب اللہ کے نئے ہتھیار نے اسرائیل کا اربوں ڈالر کا دفاعی...

حزب اللہ کے نئے ہتھیار نے اسرائیل کا اربوں ڈالر کا دفاعی نظام مشکل میں ڈال دیا

لبنان کے قصبے طیبہ کے آسمان پر اسرائیل کا اربوں ڈالر مالیت کا دفاعی نظام ایک معمولی سی کیبل کے سامنے بے بس نظر آرہا ہے. ایک حالیہ واقعے میں جب اسرائیلی طبی امدادی ہیلی کاپٹر زخمی فوجیوں کو بچانے کے لیے پہنچا تو ایک لبنانی ڈرون تیزی سے اس کی طرف بڑھا. اسرائیل کے جدید ترین الیکٹرانک دفاعی آلات اس ڈرون کو روکنے میں ناکام رہے، جس کے بعد زمین پر موجود فوجیوں کو مجبوراً اپنی رائفلوں سے آسمان کی طرف گولیاں چلانی پڑیں تاکہ اس خطرے کو دور کیا جا سکے۔ یہ ڈعرون ہیلی کاپٹر اور اسرائیلی فوجیوں سے محض چند میٹر کے فاصلے پر پھٹا. حزب اللہ نے میدانِ جنگ میں ایک نیا اور مہلک ہتھیار متعارف کرایا ہے جسے ’فائبر آپٹک ڈرون‘ کہا جاتا ہے. یہ ڈرون ریڈیو لہروں یا سیٹلائٹ کے بجائے ایک تار یعنی فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے آپریٹر سے جڑا ہوتا ہے. یہ تار 10 سے 30 کلومیٹر تک لمبی ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے ڈرون دور دراز کے اہداف تک پہنچ جاتا ہے. چونکہ اس میں کوئی وائرلیس سگنل استعمال نہیں ہوتا، اس لیے اسرائیل کا جدید ترین جامنگ سسٹم اسے ناکارہ بنانے میں ناکام رہتا ہے. فوجی تجزیہ کار حسن جونی نے قطر کے نشریاتی ادارے ا‘الجزیرہ‘ ست گفتگو میں کہا کہ یہ ڈرون ہلکے وزن کے فائبر گلاس سے بنے ہیں، جس کی وجہ سے ریڈار ان کی موجودگی کا پتا نہیں لگا پاتا اور ابتدائی وارننگ دینے والا نظام مکمل طور پر اندھا ہو جاتا ہے. اس نئی ٹیکنالوجی نے اسرائیل کے ’ٹرافی‘ نامی حفاظتی نظام کو بھی چکمہ دے دیا ہے جو ٹینکوں پر آنے والے حملوں کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا. ان ڈرونز میں نصب اعلیٰ معیار کے کیمروں کی مدد سے آپریٹر ٹینک کے نازک حصوں کو ٹھیک نشانے پر رکھتا ہے. طیبہ میں ہونے والے حملے میں ایک ایسے ہی ڈرون نے اسرائیلی بکتر بند یونٹ کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور چھ زخمی ہوئے تھے. اسرائیلی کمانڈروں میں اس خطرے کو نہ روک پانے کی وجہ سے شدید مایوسی پائی جاتی ہے. لبنانی محاذ پر موجود ایک اسرائیلی کمانڈر نے بتایا کہ ہمیں بس یہ بریفنگ دی جاتی ہے کہ ’چوکس رہیں اور اگر کوئی ڈرون نظر آئے تو اس پر گولی چلا دیں‘. فوجی حل نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیلی یونٹس نے اپنی مدد آپ کے تحت گھروں اور کھڑکیوں پر جالیاں اور نیٹ لگانا شروع کر دیے ہیں تاکہ ڈرونز ان میں پھنس جائیں. ایک اسرائیلی افسر نے اس حوالے سے کہا کہ یہ ایک ہنگامی اور عارضی حل ہے جو کافی نہیں ہے. سینئر اسرائیلی فوجی حکام کا اعتراف ہے کہ وہ لبنان کی جنگ میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ نہیں آئے تھے. اگرچہ یہ ڈرونز انتہائی موثر ہیں، لیکن فوجی تجزیہ کار ندال ابو زید کا کہنا ہے کہ خراب موسم، تیز بارش اور ہوا میں ان کا استعمال مشکل ہوتا ہے اور تار کے کسی درخت یا رکاوٹ میں الجھ کر ٹوٹنے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے. اس کے باوجود، ایک جدید ترین فوج کا معمولی تار سے بندھے ڈرون کے سامنے جالیوں اور رائفلوں کا سہارا لینا ایک غیر متوقع صورتحال بن چکا ہے.

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments