69.9 F
Pakistan
Wednesday, September 30, 2026
HomeHealthحجاب میری طاقت ہے: فٹنس کوچ بینش ظفیر کی کہانی

حجاب میری طاقت ہے: فٹنس کوچ بینش ظفیر کی کہانی

دیکھنے میں تو بینش ظفیر کسی عام فٹنس کوچ کی طرح ہی لگتی ہیں، لیکن جم میں ان کی ایک چیز انہیں دوسروں سے مختلف بناتی ہے اور وہ ہے ان کا حجاب۔ وہ اسلام آباد کے ایک جم میں حجاب کے ساتھ فٹنس ٹریننگ کرواتی ہیں اور ان کے لیے حجاب صرف لباس نہیں بلکہ ان کے کام میں اعتماد کا ذریعہ بھی ہے۔ بینش ظفیر کے مطابق جب انہوں نے فٹنس کوچنگ شروع کی تو وہ حجاب نہیں لیتی تھیں۔ اس وقت مرد کلائنٹس کو ٹرین کرتے ہوئے انہیں کبھی کبھی اپنے اعتماد میں کمی محسوس ہوتی تھی۔ لیکن حجاب لینے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ اب وہ مرد کلائنٹس کو بھی اسی اعتماد کے ساتھ ٹرین کرتی ہیں جس طرح خواتین کو کرتی ہیں۔ بقول بینش: ’حجاب میری طاقت ہے۔‘ بینش کے لیے حجاب نے جہاں ان کے اعتماد میں اضافہ کیا، وہیں ان کے کلائنٹس کے لیے اصل اہمیت ان کی ٹریننگ اور پروفیشنل طریقہ کار کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شروع میں کچھ لوگ ان کے ساتھ ٹریننگ کرنے میں ہچکچاتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ ان کی رائے بدل گئی۔ بینش ظفیر کے مطابق وہ مرد کلائنٹس کو بھی اسی اعتماد کے ساتھ ٹرین کرتی ہیں جس طرح خواتین کو کرتی ہیں (علشبا جاوید/ انڈپینڈنٹ اردو) ان کی خاتون کلائنٹ مہرالنسا چوہدری کہتی ہیں کہ بینش نے انہیں بہت اچھی طرح گائیڈ کیا اور بہترین ٹریننگ دی۔ ان کے مطابق بینش کی ٹریننگ سے ان کا ورک آؤٹ روٹین کافی بہتر ہوا جبکہ جسم میں ہونے والے درد اور دیگر مسائل میں بھی کمی آئی۔ تاہم صرف خواتین ہی نہیں بلکہ بینش کے مرد کلائنٹس بھی ان کے ٹریننگ کے انداز کو سراہتے ہیں۔ فیصل محمود بتاتے ہیں کہ جب وہ پہلی مرتبہ جم آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کی ہیڈ کوچ ایک خاتون ہیں۔ ابتدا میں وہ اس بات کو لے کر ہچکچا رہے تھے کہ ایک خاتون انہیں کس طرح ٹرین کریں گی، لیکن ٹریننگ شروع ہونے کے بعد ان کا تاثر بدل گیا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) فیصل کے مطابق بینش انتہائی پروفیشنل انداز میں کام کرتی ہیں اور ہر چیز مناسب طریقے سے ڈاکیومنٹ کرتی ہیں۔ ان کے بقول انہیں ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اگر ان کا ٹرینر مرد ہوتا تو وہ اس سے زیادہ بہتر ٹریننگ حاصل کر سکتے تھے۔ بینش کے خاندان نے بھی ان کے اس کام کو مثبت انداز میں لیا۔ ان کے مطابق خاندان کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ خواتین اور مردوں سمیت مختلف عمر کے لوگوں کو ان کی فٹنس بہتر بنانے اور موومنٹ بحال کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔ بینش فٹنس کو صرف ورزش تک محدود نہیں سمجھتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ہیلتھ کیئر کے شعبے میں ڈاکٹرز مختلف شعبوں میں سپیشلائزیشن کرتے ہیں، اسی طرح فٹنس میں بھی مختلف سپیشلائزیشنز ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق کلائنٹ کی کنڈیشن کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ اس کے لیے مناسب پلان بنایا جا سکے، چاہے وہ نیوٹریشن سے متعلق ہو یا ایکسرسائز سے۔ بینش ظفیر ان فٹنس کوچز میں شامل ہیں جو حجاب کے ساتھ اپنے شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ ان کی کہانی شاید ان لوگوں کے لیے بھی ایک مثال ہے جو اپنے لباس یا ظاہری شناخت کو اپنے پیشہ ورانہ سفر کی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ جم فٹنس بینش ظفیر اسلام آباد کے ایک جم میں حجاب کے ساتھ فٹنس ٹریننگ کرواتی ہیں اور ان کے لیے حجاب صرف لباس نہیں بلکہ ان کے کام میں اعتماد کا ذریعہ بھی ہے۔ علشبا جاوید بدھ, ستمبر 30, 2026 – 10: 00 Main image: بینش ظفیر کے مطابق وہ مرد کلائنٹس کو بھی اسی اعتماد کے ساتھ ٹرین کرتی ہیں جس طرح خواتین کو کرتی ہیں (علشبا جاوید/ انڈپینڈنٹ اردو) خواتین jw id: j9Shqp22 type: video related nodes: فٹنس ٹریکرز اہداف پورے نہ ہونے پر ذہنی دباؤ بڑھاتے ہیں: تحقیق چترال: خواتین پولیس میں فٹنس ٹسٹ پر مذہبی قیادت ناراض کیوں؟ اسلام آباد: ’دراز قد‘ جِم ٹرینر پونم آرزو، جن کے ٹک ٹاک پر 29 لاکھ فالورز ہیں نیند کے معیار کو بہتر بنانے کی سب سے مؤثر ورزش کا انکشاف SEO Title: حجاب میری طاقت ہے: فٹنس کوچ بینش ظفیر کی کہانی copyright: show related homepage: Show on Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments