وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک بار پھر پنجاب حکومت کی جانب سے خریدے گئے مخصوص طیارے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طیارہ ان کا نہیں بلکہ پنجاب کا ہے اور اسے وہ اپنے ساتھ رائیونڈ نہیں لے کر جائیں گی۔ لاہور میں سینئر آفیسرز لیڈرشپ کورس کے شرکاء سے خطاب میں مریم نواز نے طیارے پر ہونے والی تنقید پر کہا کہ ’ان کی حکومت چاہے کتنے ہی ترقیاتی کام کرلے، بات دوبارہ طیارے پر ہی آ کر رک جاتی ہے۔‘ انہوں نے اپنی حکومت کے ترقیاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رمضان پیکج ہو، 45 ہزار کلومیٹر کی سڑکیں بنانے کی بات ہو، سیوریج کا نظام اور ایئر ایمبولینس ہو، ہر بات کے جواب میں ’جہاز‘ کا ذکر آ جاتا ہے۔ انہوں نے ناقدین کو طنزیہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اپنے دفتر میں ہی نہیں بیٹھنا ہوتا بلکہ عمان اور دوسرے مقامات پر ایوارڈز وصول کرنے کے لیے بھی سفر کرنا ہوتا ہے اور یہ سفر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر نہیں کیے جاسکتے۔‘ وزیراعلیٰ پنجاب نے الزام عائد کیا کہ دیگر صوبوں کی جانب سے اس جہاز سے زیادہ مہنگے اثاثے خریدے گئے مگر ان پر اس نوعیت کی تنقید نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے جہاز کی قیمت 10 یا 11 ارب روپے ہے، دوسرے صوبوں نے 16، 16 ارب روپے کے ہیلی کاپٹر خریدے مگر ان کا تذکرہ کہیں نہیں ہوتا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ کسی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے کبھی نہیں پوچھا کہ وہ جو بار بار وفاق اور پنجاب پر چڑھائی کرتے ہیں، اس کا پیسہ کہاں سے آتا ہے، وہ کسی کو نہیں پتہ لیکن ناقدین کے پاس پنجاب کے جہاز کے علاوہ تنقید کے لیے کوئی اور بات نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ہر وقت عوام میں موجودگی کے باعث انہیں تنقید اور سیکیورٹی خطرات کا بھی سامنا رہتا ہے، تاہم وہ ان حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ <



