عالمی سیاسی و معاشی نظام اپنی افادیت کھو رہی ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام دنیا کو عدل و انصاف کے ساتھ پھلنے پھولنے کے مواقع مہیا کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ سکاٹش ماہر معاشیات و سماجیات آدم سمتھ کی شہرئہ آفاق تحقیقاتی تحریر ”دولت اقوام“ میں بیان کردہ اصول و مبادیات پر قائم نظام معیشت 250 سالہ پرانا ہو چکا ہے۔ آدم سمتھ کی یہ تحریر 1776ءمیں منظرعام پر آئی تھی، جس میں چار عاملین پیدائش زمین، محنت ، سرمایہ اور تنظیم کے تناظر میں لگان، اجرت، سود اور منافع کی بنیادوں پر معاشرہ تشکیل پایا۔ اسی طرز معیشت میں اضافی قدر (surplus value) کے بارے میں روز اول سے ہی اختلاف پایا جاتا رہا ہے۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ پیداواری عمل میں محنت/ مزدور/ کارکن حتمی اور اہم عامل پیدائش ہے جبکہ کچھ کے نزدیک تنظیم اہم عامل ہے، اس لئے قدر زائد اس کا حصہ قرار دی جانی چاہئے، بہرحال یہی قدر زائد سرمایہ دار کو طاقتور بناتی ہے۔ دوسری طرف فریڈرک اینجلز اور کارل مارکس کے فلسفہ جدلیات کی تعبیر و تشریح نے کمیونزم کو جنم دیا پھر منشور کی اشاعت کے بعد 1917ءکے بالشویک انقلاب نے 1923ءمیں دنیا کی اولین عظیم اشتراکی ریاست کو قائم کیا۔ ولادیمر لینن نے اس انقلاب کی قیادت کی اور پھر اولن اشتراکی ریاست کے سربراہ بنے۔سرمایہ دارانہ نظام فرد کی آزادی کے تصور پر قائم کیا گیا جبکہ اشتراکیت ریاست کی برتری و اتھارٹی کے تصور پر کھڑی کی گئی تھی۔ دونوں نظام ایک دوسرے کی ضد تھے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے پیروکاروں نے امریکہ کی سربراہی میں اشتراکیت کو 90 کی دہائی میں مکمل شکست سے ہمکنار کیا۔ اشتراکی سلطنت دسمبر 1991ءمیں ٹکڑوں میں تحلیل ہو گئی۔ اس کے بعد امریکہ نے ایک عالمی بدمعاش کی شکل اختیار کر لی تھی۔ نظری میدان میں فوکوپاما نے ”تاریخ کا خاتمہ“ لکھ کر دنیا کو بتایا کہ اب تاریخ اپنے حتمی مقام تک جا پہنچی ہے پھر ہنٹنگٹن نے ”تہذیبوں کا تصادم“ لکھ کر سفید انسان یعنی مغربی تہذیب کی اصل دشمن، اسلامی تہذیب کی نشاندہی کی اور اس طرح امریکہ و عیسائی دنیا مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے مشن پر چل نکلی۔ ایران پر امریکی حملہ اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی دھمکی دراصل اسی تہذیبی تصادم کے نظریے کی عملی تفسیر ہے جو ہنٹنگٹن نے ”تہذیبوں کے تصادم“ میں بیان کیا ہے۔ اسرائیل کا غزہ کے مسلمانوں پر ظلم و ستم اور حماس کو جڑ سے ختم کر دینے کی کاوش اسی سوچ کا نتیجہ ہیں۔ تہذیبی تصادم جاری ہے۔ اہل حرم کو بیخ دبن سے اکھاڑ پھینکنے کی عملی کاوشیں جاری ہیں اور بڑی حد تک کامیابی سے ہمکنار ہوتی بھی نظر آرہی ہیں۔ مصر، عراق، شام، یمن، لیبیا اور افغانستان کو برباد کرنے کے ایران کو فنا کرنے کے لئے جنگ جاری ہے۔ خمینی انقلاب کے بعد سے ایران صہیونی نشانے پر ہے۔ 46 سال سے ایران عالمی اقتصادی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس کی معیشت بری حالت میں ہے، تباہ حال ہے۔ پچھلے سال جون کی جنگ میں اسرائیل نے ایران میں تباہی مچائی۔ اب حالیہ جنگ میں امریکہ و اسرائیل مل جل کر ایران اور اس کی پراکسیز پر قہر ڈھا رہے ہیں۔ ایران پر تباہی مسلط کر دی گئی ہے لیکن ایران نے شاندار مقاومت اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ دنیا حیران ہے کہ ایک ایسی قوم جو 46 سال سے عالمی پابندیوں کا شکار ہو، جس کی اقتصادیات تباہ حال ہو، جس کے پاس ائیرفورس نہ ہو، ہوائی حملے روکنے کا نظام نہ ہو، جنگی ہتھیار نہ ہوں وہ صرف ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے کس طرح اتنی بڑی جنگ لڑ سکتی ہے۔ امریکہ و اسرائیل جیسے طاقتور ممالک کے خلاف کس طرح کھڑی رہ گئی ہے۔ ایرانی بڑی استقامت اور جرا¿ت کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں۔ امریکی اہداف کو تاک تاک کر نشانہ لگا رہے ہیں اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکہ جیتی جنگی مشین کس طرح ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں آکر ناکارہ ثابت ہو رہی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے جنگ کے اس جاری کھیل میں اپنی بڑائی ثابت کر دی ہے۔ ہرمز کی بندش نے جس طرح تیل کی عالمی منڈی میں ہی بحران پیدا نہیں کیا بلکہ سٹاک مارکیٹوں میں بھی اثرات دکھائے ہیں۔ عالمی سطح پر امریکی جنگ کی مخالفت کی جا رہی ہیں۔ اندرون امریکہ بھی عوام اس جنگ کے خلاف نظر آرہے ہیں، اسے اسرائیل کی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کی ہر سطح پر مخالفت بڑھ رہی ہے۔ مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ کی شکست لازمی قرار پا گئی ہے۔ اب تو ٹرمپ کی ایوان صدر سے رخصتی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ امریکی جنگی مشین اور اس کی طاقت کا ایرانی عسکری قوت سے کوئی موازنہ اور مقابلہ نہیں بنتا ہے۔ اس کے باوجود امریکہ جنگ جیت نہیں پا رہا ہے، اس لئے مذاکرات کے لئے ایران کے ساتھ معاہدے کے لئے بے تاب نظر آرہا ہے۔ ایران سے فی الوقت جنگ جیتنا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ ایران اپنے جوہری اثاثے ترک کرنے پر آمادہ نظر نہیں آرہا ہے۔ آبنائے ہرمز، ایران نے جنگ کے ذریعے حاصل کر لی ہے۔ یہ اس کی فتح کی علامت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ فی الوقت ایران کا پلڑا بھاری لگ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ بات چیت اور معاہدے کی باتیں کر رہا ہے۔ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کاوشیں کر رہا ہے، وگرنہ امریکی پالیسی تو جنگ اور جنگ کے گرد گھومتی ہے۔ امریکہ اپنے قیام کے 250سال کے دوران 200جنگیں لڑ چکا ہے۔ جنگ اس کی معاشی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی صنعت کو چلاتا ہے اور دنیا کو اسلحہ بیچ کر اپنی معیشت کو مضبوط کرتا ہے، اسی بنیاد پر اس کی خارجہ پالیسی استوار ہے۔ اسی بنیاد پر وہ اپنی عالمی سیاست چلاتا ہے۔ جنگوں میں جارحیت اپنی جگہ لیکن جنگ بذات خود امریکہ کے لئے ٹانک ہوتی ہے۔ ایسا ہی کچھ ایران کے ساتھ جنگ میں چل رہا ہے۔ جنگ کی تیاریاں بھی ہو رہی ہیں۔ ملٹری بلڈاپ بھی کیا جا رہا ہے۔ معاہدے پر بھی زور ہے۔ ایک بات طے ہے کہ امریکہ نے خطے میں ہر اس فکری و عسکری قوت کو تباہ و برباد کر دیا ہے جو اسرائیلی عزائم کی راہ میں مزاحم ہو سکتی ہے جو اسرائیل کے لئے کسی قسم کا خطرہ بن سکتی ہے۔ عربوں کی دینی و اسلامی حمیت کا اظہار اخوان المسلمون تھی جسے بعث ازم یا عرب نیشنل ازم کے ذریعے ختم کیا گیا۔ مصر، عراق، شام، یمن وغیرھم کے یعنی حکمرانوں نے اخوانیوں کا قتل عام کیا۔ بعث ازم کو فروغ دیا۔ اس کے بعد امریکہ نے عربوں میں داخلی انتشار پیدا کیا، عسکری گروہ پیدا کئے۔ اسرائیل نے ان تمام ممالک کا ناطقہ بند کیا، ان کی عسکری قوت کا خاتمہ کیا، اس کے بعد چھوٹے بڑے عسکری گروہوں کو کچلا، حماس کا خاتمہ کیا۔ اب ایران ایک عسکری قوت کے طور پر مشرق وسطیٰ میں ایک ایسا عامل ہے جسے امریکہ اور اسرائیل غیرفعال بنانے کے لئے سرگرداں ہیں اور ایسا ہو کر رہے گا۔ امن مذاکرات بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ جنگ کا مقصد بھی یہی تھا اور ہو گا۔ تیسرے ہیکل کی تعمیر، عالمی حکمرانی کا قیام اور یہودی نجات دھندہ کی آمد و غیرھم جیسے معاملات چل رہے ہیں۔ ہم مسلمان ہی الہامی معاملات سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ یہودی، صہیونی عیسائی ، آنکھیں کھول کر اپنی الہامی کتب کے مطابق معاملات کو دیکھ رہے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں۔ جنگ ہو یا امن ان کی نگاہیں ایک ہی سمت میں دیکھ رہی ہیں اور وہ ہے آخری معرکہ۔
جنگ ہو یا امن، آخری معرکہ ہو گا
RELATED ARTICLES



