83 F
Pakistan
Saturday, July 18, 2026
HomeEntertainmentجنوبی کوریا کی فلمیں مقبول کیوں ہو رہی ہیں؟

جنوبی کوریا کی فلمیں مقبول کیوں ہو رہی ہیں؟

زور زبردستی کہیں یا تاریخ کا فیصلہ، دنیا کے فلمی نقشے پر جھنڈا ہالی وڈ کا ہی لہراتا آیا، بالی وڈ نے بھی رنگ برنگا پٹکا پہن کر بہت شور مچایا لیکن یہ ایسا کباڑیا رہا جس کے پاس مال کچھ نہیں، ہوکا بہت ہے۔ جاپان، فرانس، اٹلی اور بنگال کبھی اس شور میں شریک نہیں ہوئے۔ وہ محفل کے بیچ کھڑے ہو کر اعلان نہیں کرتے، بلکہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ کر ایسی فلمیں بناتے ہیں جو برسوں بعد بھی دنیا کے حافظے سے محو نہیں ہوتیں۔ پھر اچانک جنوبی کوریا کہیں سے سر نکالتا ہے، کوئی کرتب بازی نہیں لیکن مجمع اکھٹا ہونے لگتا ہے، ہم نے بھی سوچا کہ ذرا قریب سے دیکھتے ہیں، ایسا کیا ہے جو دھڑا دھڑ فروخت ہو رہا۔ جنوبی کوریا نے رعب ڈالنے یا فاصلہ رکھ کر متاثر کرنے کے بجائے ناظرین سے دوستی کر لی۔ اس کا سینیما بس کہانی سناتا ہے، انسان کے اندر جھانکتا ہے، ضرورت پڑنے پر سماج کی کھال بھی اتار دیتا ہے اور مزید ضرورت پڑے تو اسی کھال کو رنگوا کر کوٹ بنواتا ہے اور آپ کو پہنا دیتا ہے۔ پھر آپ کے کان سے پکڑ کر آئینے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے، آپ تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہی جنوبی کوریا کی فلموں کی عالمی مقبولیت کا سب سے بڑا راز بھی ہے۔ یہاں کہانی اجنبی نہیں لگتی، انجام تک کا سفر بھی کسی حد تک مانوس ہوتا ہے، مگر اسے بیان کرنے کا انداز تازہ ہوتا ہے۔ ہیرو، ولن، رومانس، ایکشن اور کبھی کبھار گانا بھی کہانی کے ساتھ ایسے گھلے ملے ہوتے ہیں جیسے گلی محلے میں چھلی اور قلفیاں بیچنے والے، نہ ان کی موجودگی کھٹکتی ہے، نہ غیر ضروری محسوس ہوتی ہے۔ (جنوبی کوریا) جبکہ ہمارے بالی وڈ والے، کہانی کی کیا ضرورت، ہیرو ہی کہانی ہے۔ خان ہے، کمار یے یا کپور ہے، وہی چنے کی دال، وہی رکابی۔ وہی ہیرو وہی فارمولا۔ سمجھنے کو اندر ہے کچھ نہیں، سوچنے کی ہمیں عادت ہی نہیں۔ کورین فلم ساز ناظر کو چمچ سے فیڈ نہیں کرتے۔ وہ اسے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کی فلمیں آسان نہیں ہوتیں، مگر بور بھی نہیں کرتیں۔ وہ غربت، طبقاتی فرق، بدلہ، جرم، تنہائی، خاندان، تشدد، طاقت، سیاست اور انسانی کمزوریوں جیسے موضوعات کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ فلم ختم ہونے کے بعد بھی دماغ میں چلتی رہتی ہے۔ 2019 کی تھرلر کامیڈی ’پیراسائٹ‘ کو دیکھ لیجیے۔ بظاہر یہ ایک غریب خاندان کی کہانی ہے جو ایک امیر گھرانے میں داخل ہوتے ہی مبہوت رہ جاتا ہے، لیکن اصل میں یہ سرمایہ دارانہ سماج کے گٹر کا ڈھکن اٹھا دیتی ہے۔ گھر دو حصوں میں تقسیم ہے، یہ دراصل طبقاتی نظام کی علامت ہے۔ یہی وہ فلم ہے جس نے آسکر میں تاریخ بنائی اور غیر انگریزی زبان کی فلموں کے لیے عالمی سٹیج کا دروازہ کھول دیا۔ مجھے کوریا کی پہلی فلم دیکھنے کا تجربہ چند روز پہلے ہوا۔ ایکشن تھرلر ’اولڈ بوائے‘ 2003 کی فلم ہے، انتقام کی ایسی کہانی جسے دیکھنے کے بعد آپ کے ذہن میں دور دور تک کوئی مثال نہیں آتی۔ فلم میں بدلہ صرف گولی، مکا اور خون نہیں بلکہ ذہنی اذیت، یادداشت، جرم اور سزا کا ایسا کھیل ہے جو دیکھنے والے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ فلم ساز نے بدلے اور غصے کو ایسے سکرین پر پیش کیا جیسے آپ خوبصورت شاعری پڑھ رہے ہوں۔ تشدد اور نفسیاتی الجھن کی پیچیدگی ایک لمحے کے لیے بھی بوجھل نہیں ہوتی۔ انتہائی خوبصورت فریم، مگر زہر سے بھرے ہوئے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اسی طرح کی ایک کرائم تھرلر ’میموریز آف مرڈر‘ ہے۔ یہ بہت غیر معمولی فلم نہیں لیکن پولیس کی نااہلی، سماجی بے چینی اور انسانی بے بسی کو اس طرح دکھاتی ہے کہ آپ قاتل کی تلاش سے زیادہ اس چیز میں دلچسپی لینے لگتے ہیں کہ کوئی معاشرہ اپنے سسٹم میں کیسے گم ہو جاتا ہے۔ سسٹم واقعی بھول بھلیاں ہوتا ہے جس میں آپ کافا کے کرداروں کی طرح یہاں سے وہاں بس لڑھکتے پھرتے ہیں۔ ایک تھرلر مووی سماج کا ایسے بھی پوسٹ مارٹم کر سکتی ہے؟ ساری زندگی بالی وڈ دیکھتے رہنے سے جو بات سمجھ میں نہ آئی وہ کوریا کی اس عام سی فلم نے سمجھا بلکہ دکھا دی۔ جنوبی کوریا کے فلم ساز باقی دنیا سے الگ کیسے ہیں؟ اس سوال کا جواب بہت سیدھا نہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے وہ پلاٹ پیچیدہ اور پیشکش سادہ رکھتے ہیں۔ ایک ہی فلم میں کئی رنگ ملا دیتے ہیں۔ کامیڈی سے تھرلر، تھرلر سے ہارر، ہارر سے ٹریجڈی، اور یہ سب ایسے ہی دریا کی مختلف لہریں ہوتی ہیں۔ فطرتی اور مسلسل آگے بڑھتے ہوئے، دل کو شاداب کرتے ہوئے، ذہن پر ہلکی ہلکی چپت لگاتے ہوئے۔ ان کی فلموں کے کردار فرشتے یا شیطان نہیں ہوتے، ہم آپ جیسے انسان ہوتے ہیں، ٹوٹے ہوئے، لالچی، محبت کرنے والے، ڈرنے والے، غلطیاں کرنے والے۔ پرعزم اور بے بس، بیک وقت۔ یہی وجہ ہے کہ کورین فلمیں عالمی ناظر کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ وہ مقامی کہانیاں سناتے ہیں، احساس کی لو خود بخود عالمی ہو جاتی ہے۔ غربت صرف کوریا کا مسئلہ نہیں، طبقاتی فرق صرف انڈیا کا مسئلہ نہیں، خاندان کا دباؤ محض ایشیا کا زندگیاں برباد نہیں کرتا اور طاقت کا نشہ صرف کسی ایک ملک کی بیماری نہیں۔ کورین فلمیں اپنی مٹی سے جڑی رہتی ہیں، اسی لیے دنیا بھر میں سمجھ آتی ہیں۔ بالی وڈ کے پاس پیسہ ہے، سٹارز ہیں، مارکیٹ ہے، موسیقی ہے، بڑے بڑے سیٹ ہیں، لیکن ایسے ڈرپوک اور کنویں کے مینڈک کہ ریمیک پہ ریمیک بنائیں گے، کبھی ساؤتھ کی فلم اٹھا لی، کسی اپنی ہی پرانی فلم کا نیا ورژن بنا لیا، ہیرو کو خدا بنا دو، ولن کو کارٹون بنا دو، تاریخ میں جا گھسو، اور آخر میں ایک حب الوطنی یا خاندانی جذبات کا انجیکشن لگا دو۔ ناظر بیچارہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ فلم دیکھی ہے یا مارکیٹنگ مہم؟ جنوبی کوریا نے دنیا پر ثابت کیا کہ بڑے بجٹ سے زیادہ اہم بڑا خیال ہے۔ بالی وڈ کبھی کبھی ہزار کروڑ کے شور میں بھی وہ اثر پیدا نہیں کر پاتا جو کورین فلم ایک خاموش کمرے، ایک بند دروازے، یا ایک ٹرین کے ڈبے میں پیدا کر دیتی ہے۔ کورین فلموں کی ایک اور طاقت ان کی تکنیکی مہارت ہے۔ سینیماٹوگرافی، ایڈیٹنگ، بیک گراؤنڈ سکور، پروڈکشن ڈیزائن، سب کچھ کہانی کی خدمت میں ہوتا ہے۔ کیمرہ صرف خوبصورت منظر دکھانے کے لیے نہیں چلتا، وہ کردار کے ذہن میں داخل ہوتا ہے۔ رنگ، روشنی، جگہ، خاموشی، سب کچھ معنی رکھتا ہے۔ آپ فلم دیکھیں، لیکن دیکھیں کم محسوس زیادہ کریں۔ جنوبی کوریا کی فلموں کی مقبولیت اس لیے بڑھ رہی ہے کہ وہ سچی لگتی ہیں، چاہے کہانی کتنی ہی غیر معمولی کیوں نہ ہو۔ وہ انسان کی تاریکی سے نہیں ڈرتیں۔ وہ سماج کے بدصورت چہرے کو میک اپ لگا کر خوبصورت نہیں بناتیں۔ وہ دکھاتی ہیں کہ انسان کبھی مظلوم بھی ہے، مجرم بھی، کبھی محبت کرنے والا بھی، تباہ کرنے والا بھی۔ بھئی دنیا صرف چمک دمک نہیں چاہتی، اسے ذہین، بے رحم، خوبصورت اور یاد رہ جانے والی کہانیاں چاہییں۔ جنوبی کوریا نے یہ فارمولا سمجھ لیا ہے۔ اس نے سینیما کو نہ صرف تفریح رکھا بلکہ اسے مانوس حیرت میں بدل دیا ہے۔ نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ جنوبی کوریا آسکر ایوارڈز بالی وڈ کورین فلم ساز ناظر کو چمچ سے فیڈ نہیں کرتے۔ وہ انہیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کی فلمیں آسان نہیں ہوتیں، مگر بور بھی نہیں کرتیں۔ فاروق اعظم ہفتہ, جولائی 18, 2026 – 08: 00 Main image:

جنوبی کوریا کے اداکار لی من ہو 23 اگست 2024 کو سیئول میں ایپل ٹی وی+ کی سیریز ’پچنکو‘ کے دوسرے سیزن کی تشہیری پریس کانفرنس کے دوران مسکراتے ہوئے (انتھونی والیس / اے ایف پی)

فلم type: news related nodes: آسکرز: ’پیراسائٹ‘ بہترین فلم قرار آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’پیراسائٹ‘ کے اداکار لی سن کی موت جنوبی کوریا کا لاکھوں ڈالر سے جیلوں میں اے سی لگانے کا دفاع بدلتی دنیا اور تبدیل ہوتا جنوبی ایشیا SEO Title: جنوبی کوریا کی فلمیں مقبول کیوں ہو رہی ہیں؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments