گھر میں کھانا پکاتے ہوئے ہاتھ پر گرم تیل کے چھینٹے پڑ جانا، گرم چائے گر جانا یا بھاپ سے جلد جھلس جانا عام حادثات میں شامل ہے۔ ایسی صورت میں اکثر لوگ گھبرا کر فوراً ٹوتھ پیسٹ، ہلدی، نمک یا گھی جیسی گھریلو چیزیں جلے ہوئے حصے پر لگا دیتے ہیں، لیکن بعض اوقات یہ طریقے زخم کو مزید خراب کرسکتے ہیں۔ ماہرین طب کے مطابق جلنے کے بعد ابتدائی چند منٹ بہت اہم ہوتے ہیں۔ اس دوران درست ابتدائی طبی امداد دینے سے جلن اور جلد کو ہونے والے نقصان کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ معمولی لاپرواہی یا غلط گھریلو ٹوٹکے مسئلے کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔ اس لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ حادثے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے اور کن چیزوں سے گریز کرنا لازم ہے۔ گرم تیل سے جلد جل جائے تو کیا کریں؟ کچن میں پوری، پکوڑے یا دوسری چیزیں تلتے وقت گرم تیل کے چھینٹے ہاتھ یا جسم کے کسی حصے پر پڑ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں سب سے پہلے متاثرہ حصے کو گرمی والے حصے سے دور کریں۔ اس کے بعد جلے ہوئے حصے کو تقریباً 20 منٹ تک مسلسل نلکے کے ٹھنڈے پانی کے نیچے رکھیں۔ اگر متاثرہ حصے کے قریب انگوٹھی، چوڑی، گھڑی یا کوئی دوسری تنگ چیز پہن رکھی ہے تو اسے جلدی سے اتار دیں، کیونکہ جلنے کے بعد سوجن آنے کی صورت میں یہ چیزیں مزید تکلیف پیدا کرسکتی ہیں۔ جلے ہوئے حصے کو ٹھنڈا کرنے کے بعد اسے کسی صاف اور پتلے ایسے کپڑے سے ڈھانپ سکتے ہیں جو زخم سے چپکے نہیں۔ اگر چھالا بن گیا ہے تو اسے پھوڑنے کی کوشش نہ کریں۔ بچے پر گرم چائے گر جائے تو احتیاط کریں بچوں کی جلد بڑوں کے مقابلے میں زیادہ نازک ہوتی ہے، اس لیے گرم چائے یا کوئی دوسرا گرم مشروب گرنے سے ان کی جلد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر بچے کے سینے، بازو یا جسم کے کسی حصے پر گرم چائے گر جائے تو متاثرہ جگہ کو فوراً نلکے کے ٹھنڈے پانی کے نیچے رکھیں اور بیس منٹ تک پانی کا بہاؤ جاری رکھیں، اس کے بعد بچے کو طبی امداد کے لیے ڈاکٹر یا ہسپتال لے جانا چاہیے، خاص طور پر اگر جلا ہوا حصہ زیادہ ہو یا چھالے بن گئے ہوں۔ پریشر ککر کی بھاپ بھی جلا سکتی ہے کچن میں پریشر ککر یا گرم برتن سے نکلنے والی بھاپ بھی جلد کو جھلسا سکتی ہے۔ خاص طور پر چہرہ اگر براہ راست گرم بھاپ کی زد میں آجائے تو فوری طور پر متاثرہ جگہ کو گرمی سے دور کرنا ضروری ہے۔ جلے ہوئے حصے کو ٹھنڈے نلکے کے پانی سے ٹھنڈا کریں۔ اگر چہرے پر زیادہ سوجن، شدید جلن یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہو تو معاملے کو معمولی نہ سمجھیں اور فوری طبی مدد حاصل کریں۔ جلنے کے بعد جلد پر بننے والے چھالے کو سوئی یا کسی دوسری چیز سے پھوڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ چھالا متاثرہ جلد کو مزید نقصان اور انفیکشن سے بچانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ اگر چھالا خود بخود نہ پھوٹے تو وقت کے ساتھ یہ خشک ہوسکتا ہے۔ اسے چھیڑنے سے گریز کریں، لیکن اگر درد، لالی، سوجن یا دیگر علامات بڑھنے لگیں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ کون سے گھریلو علاج نہیں اپنانا چاہیے؟ جلنے کے فوراً بعد گھریلو نسخے آزمانا عام بات ہے، لیکن ہر گھریلو چیز جلے ہوئے زخم کے لیے محفوظ نہیں ہوتی۔ اگر جلد پر چھالا بن گیا ہو یا جلد اترنے لگی ہو تو متاثرہ جگہ پر ٹوتھ پیسٹ، ہلدی، نمک یا گھی لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ایسی چیزیں زخم کو مزید متاثر کرسکتی ہیں اور بعد میں طبی معائنہ یا علاج میں بھی مشکل پیدا ہوسکتی ہے۔ اگر جلد صرف سرخ ہوئی ہے اور معمولی جلن ہے تو کسی مناسب ہلکے مرہم کے استعمال کے بارے میں ڈاکٹر یا طبی ماہر سے مشورہ کیا جاسکتا ہے۔ ہر جلنے کی شدت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ معمولی جلن بعض اوقات ابتدائی طبی امداد سے بہتر ہوسکتی ہے، لیکن اگر جلا ہوا حصہ بڑا ہو، گہرا زخم ہو، بڑے چھالے بن جائیں، چہرہ متاثر ہو یا سانس لینے میں دشواری پیش آئے تو فوری طبی امداد ضروری ہے۔ خاص طور پر بچوں کے جلنے کے معاملے میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ گرم پانی، چائے، تیل یا بھاپ سے ہونے والے جلنے کو معمولی سمجھ کر گھر پر ہی علاج کرتے رہنا مناسب نہیں، بلکہ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے معائنہ کرانا چاہیے۔ جلنے کی صورت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ گھبرا کر زخم پر کوئی بھی گھریلو چیز لگانے کے بجائے پہلے متاثرہ حصے کو مناسب طریقے سے ٹھنڈا کیا جائے اور جلنے کی شدت کے مطابق طبی مدد حاصل کی جائے۔
جلنے پر فوراً کیا کریں؟ یہ گھریلو چیزیں ہرگز نہ آزمائیں
RELATED ARTICLES



