جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے پانی بنیادی ضرورت ہے، لیکن اکثر لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں دن بھر میں کتنا پانی پینا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق پانی کی ضرورت ہر شخص کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی بلکہ عمر، جسمانی سرگرمی، موسم اور صحت کی حالت کے مطابق اس میں فرق آ سکتا ہے۔ انسانی جسم کے لیے روزانہ پانی کی مناسب مقدار کا تعین کرنا ایک ایسا اہم موضوع ہے جس پر طبی ماہرین بار بار روشنی ڈالتے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول کی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جسم میں پانی کی معمولی سی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن بھی دماغی صلاحیتوں کو سست کر سکتی ہے۔ پانی کم ہونے سے توجہ برقرار رکھنے، سمجھنے اور ذہنی طور پر چاق و چوبند رہنے کی صلاحیت متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاص طور پر شدید گرمی یا ہیٹ ویو کے دوران جب پسینے کے ذریعے جسم سے قیمتی سیال مادے تیزی سے خارج ہوتے ہیں، پانی کی درست مقدار کا استعمال اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ مردوں اور خواتین کو کتنا پانی درکار ہوتا ہے؟ طبی ماہرین اور ہارورڈ کی رپورٹ کے مطابق پانی کی ضرورت ہر انسان کی عمر، جسمانی سرگرمیوں، طرز زندگی اور عمومی صحت کی بنیاد پر مختلف ہوتی ہے۔ عام طور پر صحت مند بالغ مردوں کو دن بھر میں تقریباً 15. 5 کپ یعنی 3. 7 لیٹر سیال کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جبکہ خواتین کے لیے یہ مقدار تقریباً 11. 5 کپ یعنی 2. 7 لیٹر بتائی گئی ہے۔ یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اس مقدار سے مراد صرف سادہ پانی نہیں۔ چائے، دودھ، دیگر مشروبات اور پانی والی غذاؤں سے ملنے والا سیال بھی مجموعی مقدار میں شامل ہوتا ہے۔ اس لیے ہر شخص کو لازمی طور پر روزانہ 3 یا 4 لیٹر سادہ پانی پینا ضروری نہیں ہوتا۔ عام حالات میں سادہ پانی کی ضرورت اس مجموعی مقدار سے کافی کم ہو سکتی ہے، تاہم گرمی، ورزش یا زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں جسم کو اضافی سیال کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پانی جسم کے لیے کیوں ضروری ہے؟ پانی جسم کے تقریباً ہر اہم نظام میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ خلیوں تک غذائی اجزا پہنچانے میں مدد دیتا ہے اور جسم سے فاضل مادوں کے اخراج کے عمل کو بھی سہارا دیتا ہے۔ مناسب مقدار میں پانی پینے سے ہاضمہ بہتر رہنے، قبض سے بچنے اور پیشاب کے ذریعے جسم سے بعض فاضل مادوں کو خارج کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ پانی جسمانی درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے، جوڑوں کو مناسب نمی فراہم کرنے اور جسم کے اندر نمکیات اور دیگر الیکٹرولائٹس کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ گرمی اور ورزش میں پانی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے گرم موسم میں جسم پسینے کے ذریعے زیادہ پانی خارج کرتا ہے، اس لیے معمول کے مقابلے میں زیادہ سیال کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص دھوپ میں زیادہ وقت گزارتا ہے یا جسمانی محنت کرتا ہے تو اسے پانی کی کمی سے بچنے کے لیے اپنی سیال مقدار پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ اسی طرح طویل دورانیے کی ورزش، دوڑ یا میراتھن جیسی سرگرمیوں کے دوران صرف پانی ہی نہیں بلکہ پسینے کے ذریعے ضائع ہونے والے سوڈیم اور دیگر الیکٹرولائٹس کی کمی کو پورا کرنا بھی اہم ہو سکتا ہے۔ ہر شخص کے لیے ایک ہی مقدار درست نہیں پانی کی ضرورت کا کوئی ایک ایسا فارمولا نہیں جو ہر انسان پر یکساں لاگو ہو۔ ایک صحت مند نوجوان، زیادہ ورزش کرنے والا شخص، بزرگ فرد اور کسی بیماری میں مبتلا شخص کی ضروریات مختلف ہو سکتی ہیں۔ گردوں، دل یا جگر کے بعض مسائل اور کچھ دیگر طبی حالات میں ڈاکٹر پانی یا سیال کی مقدار محدود کرنے کا مشورہ بھی دے سکتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی شخص کو ایسی بیماری ہے جس کا تعلق جسم میں پانی یا نمکیات کے توازن سے ہو تو اسے اپنی مرضی سے بہت زیادہ پانی پینے کے بجائے ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا چاہیے۔ پیاس کو نظر انداز نہ کریں روزمرہ زندگی میں پانی پینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جسم کے اشاروں پر توجہ دی جائے اور خاص طور پر گرمی یا جسمانی سرگرمی کے دوران پانی کی کمی نہ ہونے دی جائے۔ بہت زیادہ پیاس، منہ کا خشک ہونا، پیشاب کا گہرا رنگ اور غیر معمولی تھکن پانی کی کمی کی علامات میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صحت مند رہنے کے لیے صرف اس وقت پانی پینا کافی نہیں جب شدید پیاس لگے۔ دن بھر مناسب مقدار میں لیکویڈ لیتے رہنا، موسم اور جسمانی سرگرمی کے مطابق مقدار میں تبدیلی کرنا اور کسی خاص بیماری کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا زیادہ بہتر طریقہ ہے۔



