صبح کے اوقات میں راولپنڈی جیسے مصروف شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا شور معمول کی بات ہے، لیکن شہر کے ایک پرانے علاقے میں واقع لیپروسی ہسپتال میں داخل ہوتے ہی ماحول بدل جاتا ہے۔ ہسپتال میں درختوں کا سایہ، خاموش راہداریاں، عملے کی مصروفیت اور علاج کے انتظار میں بیٹھے مریض۔ انہی راستوں پر سفید کوٹ میں ملبوس ڈاکٹر کرس شموٹسر اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ کی طرف بڑھتی ہیں۔ کوئی انہیں سلام کرتا ہے، کوئی اپنی رپورٹ دکھاتا ہے اور وہ ہر مریض کی بات اسی توجہ سے سنتی ہیں جیسے یہ ان کے دن کا پہلا مریض ہو۔ یہ معمول آج کا نہیں۔ تقریباً چار دہائیوں سے ان کی زندگی کا حصہ ہے۔ جنوبی جرمنی کے علاقے باویریا سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر کرس شموٹسر نے یونیورسٹی آف ہائیڈل برگ سے طب کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے جرمنی میں اپنی پوسٹ گریجویٹ تربیت مکمل کی۔ اسی دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان جا کر جذام کی خواتین مریضوں کی دیکھ بھال میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیں گی؟ لیکن چوں کہ جرمنی میں جذام کے علاج کی عملی تربیت کے مواقع محدود تھے، اس لیے وہ پہلے ایتھوپیا گئیں، جہاں اس بیماری کے علاج کی تربیت حاصل کی اور پھر 1988 میں پاکستان آ گئیں۔ راولپنڈی کے لیپروسی ہسپتال میں مریضوں کے علاج میں مصروف ڈاکٹر کرس شموٹسر (بلال بصیر عباسی/انڈپینڈنٹ اردو) پاکستان آنے کے بعد ڈاکٹر کرس شموٹسر نے راولپنڈی کے لیپروسی ہسپتال میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ برصغیر کے نوآبادیاتی دور میں قائم ہونے والا یہ ہسپتال ابتدا ہی سے جذام کے مریضوں کے علاج اور بحالی کا مرکز رہا ہے۔ وقت کے ساتھ یہاں علاج کی سہولتوں میں اضافہ ہوا، مگر اس ہسپتال کی اصل پہچان ہمیشہ ایسے مریضوں کی دیکھ بھال رہی، جنہیں اکثر معاشرہ قبول کرنے سے ہچکچاتا تھا۔ ڈاکٹر کرس کو وہ دن آج بھی یاد ہیں، جب جذام کا نام سنتے ہی لوگوں کے رویے بدل جاتے تھے۔ ڈاکٹر کرس کہتی ہیں کہ اس وقت جذام کو معاشرے میں بہت برا سمجھا جاتا تھا۔ ’یہ ہسپتال بھی جذام کے مریضوں کے علاج کے لیے جانا جاتا تھا۔ اگرچہ جلد کے دوسرے مریض بھی یہاں آتے تھے، لیکن یہ ایک طرح سے الگ تھلگ جگہ تھی۔‘ آج وہ اسی ہسپتال میں کھڑی ہو کر ایک مختلف پاکستان دیکھتی ہیں۔ ڈاکٹر کرس کے بقول گذشتہ تین سے چار دہائیوں میں نہ صرف لوگوں کے رویے بدلے ہیں بلکہ جذام پر قابو پانے کے لیے بھی پاکستان نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ گذشتہ 30، 40 برس میں یہ سب کچھ مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ جذام پر قابو پانے کے لیے پاکستان نے بہت بڑی پیش رفت کی ہے اور شاید اب یہ کہنے کا بھی صحیح وقت ہے کہ پاکستان ایشیا کا پہلا ملک ہے جسے زیرو لیپروسی کی طرف جانے کی اجازت مل گئی۔‘ ڈاکٹر کرس کے لیے پاکستان صرف صحت کے شعبے میں نہیں بدلا بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی ایک نئی شکل اختیار کر گیا۔ ڈاکٹر کرس شموٹسر کا کہنا ہے کہ ان کے پاکستان میں قیام کے 40 برس کے دوران شہریوں کی مہمان نوازی نہیں بدلی (بلال بصیر عباسی/انڈپینڈنٹ اردو وہ کہتی ہیں: ’مجھے یاد ہے، آج سے 38 سال پہلے لاہور فون کرنا بھی ایک بہت بڑا کام ہوتا تھا۔ اب ہر جگہ موبائل فون ہیں۔ ہر جگہ انٹرنیٹ ہے۔ آپ پہاڑ پر بیٹھے ہوں تو بھی آپ کا موبائل کام کرتا ہے۔ میرے خیال میں یہ بہت بڑی پیش رفت ہے۔‘ صرف مواصلات ہی نہیں، سڑکوں کا جال بھی ان کے نزدیک پاکستان کی بدلتی ہوئی تصویر کا حصہ ہے۔ انہیں وہ وقت یاد ہے جب جنوبی پنجاب کے فیلڈ دورے کئی دنوں کی منصوبہ بندی مانگتے تھے۔ سفر میں دو دن صرف راستے کے لیے مختص کرنے پڑتے تھے، جبکہ آج وہی فاصلہ چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں گزارے گئے ان برسوں میں ایک وقت ایسا بھی آیا، جسے ڈاکٹر کرس آج بھی اپنی زندگی کا مشکل ترین دور قرار دیتی ہیں۔ 1991 کی پہلی خلیجی جنگ کے دوران غیر ملکیوں کے خلاف کچھ منفی جذبات پیدا ہوئے۔ احتیاطاً انہیں تین ہفتے تک ہسپتال کے کمپاؤنڈ سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا گیا۔ ’اس وقت، مجھے کہنا پڑے گا، ہم خود کو بے چین محسوس کرتے تھے لیکن ہمارے ساتھ کبھی کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ مریض ہمیشہ خوش اخلاق رہے۔ عملہ ہمیشہ اچھا رہا اور ہمیں کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ صرف باہر نہ جا سکنا میرے لیے مشکل تھا۔‘ ڈاکٹر کرس کہتی ہیں کہ اگر کوئی چیز ان تمام برسوں میں نہیں بدلی تو وہ پاکستانیوں کی مہمان نوازی ہے۔ انہوں نے کہا: ’جو چیز ہمیشہ مجھے متاثر کرتی ہے، وہ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی ہے۔ لوگ عام طور پر غیر ملکیوں کے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کرتے ہیں، اور مجھے خوشی ہے کہ یہ بات آج بھی ویسی ہی ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘ پاکستان میں اتنا عرصہ گزارنے کے بعد وہ خود کو دو مختلف دنیاؤں کے درمیان تقسیم نہیں کرتیں بلکہ دونوں کو اپنی شناخت کا حصہ سمجھتی ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) وہ ایک دلچسپ مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ جیسے ہی ان کا طیارہ اسلام آباد پہنچتا ہے، ان کا ذہن پاکستان کے انداز میں سوچنے لگتا ہے اور جب وہ فرینک فرٹ اترتی ہیں تو خود بخود جرمنی کے ماحول میں ڈھل جاتا ہے۔ ’مجھے لگتا ہے کہ میرے دو گھر ہیں۔ ایک یہاں ہے اور ایک اب بھی جرمنی میں۔‘ شاید یہی ایک جملہ ان کے پاکستان کے ساتھ تعلق کی سب سے مکمل ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے کبھی پاکستان چھوڑنے کے بارے میں سنجیدگی سے نہیں سوچا۔ ڈاکٹر کرس کی خدمات کے اعتراف میں انہیں جرمنی کا کراس آف میرٹ اور پاکستان کا ستارہ قائد اعظم دیا جا چکا ہے، مگر وہ ان اعزازات کو اپنی ذاتی کامیابی نہیں سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اعزاز پوری ٹیم کا ہوتا ہے، کسی ایک شخص کا نہیں۔ میں ہمیشہ اپنے نوجوان ڈاکٹروں اور نرسوں سے کہتی ہوں کہ اگر صفائی کرنے والا نہ ہو یا دروازے پر چوکیدار نہ ہو، تو آپ بھی اپنا کام نہیں کر سکتے۔ یہی اہم بات ہے کہ یہ اعزاز پوری ٹیم کا ہے اور اس سے پوری ٹیم کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔‘ پاکستان میں تقریباً چار دہائیاں گزارنے کے باوجود ڈاکٹر کرس نے کبھی یہاں سے جانے کے بارے میں سنجیدگی سے نہیں سوچا۔ ان کے نزدیک کسی بھی انسان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ایسا کام کرے جس سے دوسروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں ایسے بے شمار مواقع موجود ہیں جہاں نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر بامقصد زندگی گزار سکتے ہیں۔ راولپنڈی ہسپتال مریض علاج صحت لیپروسی ہسپتال راولپنڈی میں کام کرنے والی جرمن ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ان کے چار دہائیوں کے قیام کے دوران اگر کچھ نہیں بدلا تو وہ پاکستانیوں کی مہمان نوازی ہے۔ محمد بلال بصیر عباسی ہفتہ, جولائی 25, 2026 – 09: 30 Main image:
جذام کے مریضوں علاج کرنے والی جرمن ڈاکٹر کرس شموٹسر چار دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں (بلال بصیر عباسی/انڈپینڈنٹ اردو)
میری کہانی jw id: 3CkHIn5e type: video related nodes: ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی، جہاں شہر کی تاریخ سانس لیتی ہے راولپنڈی کی جامع مسجد جس کا سنگ بنیاد افغانستان کے بادشاہ نے رکھا جرمن کوہ پیما پاکستان کے پہاڑوں میں جان سے گئیں: الپائن کلب SEO Title: جرمن ڈاکٹر کرس شموٹسر جن کے لیے پاکستان دوسرا گھر ہے copyright: show related homepage: Hide from Homepage



