کہتے ہیں صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ اس ستون کا کام یہ نہیں کہ پہلے تین ستونوں، مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے ساتھ کھڑا ہو جائے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ وہ آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر کام بھی کر رہے ہیں یا نہیں۔ لیکن جب یہ ہی چوتھا ستون، جسے اقتدار سے سوال کرنا تھا، پولیس کی بندوق سے نکلنے والے فیصلوں پر تالیاں بجانے لگے تو پھر سوال صرف پولیس کا نہیں رہتا، معاشرے کی اجتماعی ذہنیت کا بن جاتا ہے۔ کراچی میں گذشتہ ہفتے پولیس کی تحویل میں لیے گئے تین ملزمان ایک مبینہ مقابلے میں مارے گئے۔ واقعے کے فوراً بعد ایک واٹس ایپ گروپ میں پولیس کی ’جرأت‘ اور ’بہادری‘ کے قصیدے پڑھے جانے لگے۔ افسوس اس بات کا نہیں تھا کہ عام لوگ ایسا سوچ رہے تھے۔ وہ تو روزانہ ڈاکے، قتل اور سٹریٹ کرائم کا عذاب سہتے ہیں، اس لیے ان کا ردعمل جذباتی ہو سکتا ہے۔ تشویش اس بات پر ہوئی کہ ان تعریف کرنے والوں میں بڑی تعداد صحافیوں کی تھی، یعنی ان ہی لوگوں کی جنہیں قانون کی نگرانی کرنی تھی، قانون سے انحراف کی نہیں۔ ادھر کراچی پولیس نے اپنی ہفتہ وار کارکردگی کی رپورٹ جاری کی۔ بتیس مبینہ مقابلے، چھ ڈاکو مارے گئے، 29 زخمی، 932 گرفتاریاں، بھاری مقدار میں اسلحہ اور منشیات کی برآمدگی۔ اعداد و شمار یقیناً متاثر کرتے ہیں، لیکن اعداد ہمیشہ پوری کہانی نہیں سناتے۔ انگریزی اخبار روزنامہ ڈان میں شائع سینیئر کرائم رپورٹر امتیاز علی کی رپورٹ ایک دوسری تصویر بھی دکھاتی ہے۔ وہ تصویر جس میں زیر حراست ملزمان کو ’ساتھیوں کی فائرنگ‘ میں مارے جانے کا بیانیہ آہستہ آہستہ معمول بنتا جا رہا ہے اور اس کی ترغیب پنجاب پولیس سے ملتی ہے جہاں ایچ آر سی پی کی فرح ضیا کے مطابق اس کی جڑیں 1960 کی دہائی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ 17 فروری 2025 کی اس تصویر میں کراچی کی ایک سڑک پر پولیس اہلکار گشت کرتے ہوئے (فائل تصویر/ اے ایف پی) ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق نئی بننے والی کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے اپریل 2025 میں اپنے قیام سے دسمبر 2025 تک، سات ماہ میں 670 ’انکاؤنٹرز‘ میں 924 ملزمان کو موت کی نیند سلا دیا۔ مبینہ طور پر اسی سے ترغیب لیتے ہوئے کراچی پولیس بھی اس راہ پر شاید نکلی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مجرموں کے ساتھ سختی ہونی چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ سختی کا اختیار کس کے پاس ہے؟ پاکستان کی پولیس یقیناً ایک قابل احترام ادارہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے ہزاروں افسران اور اہلکار جانیں قربان کر چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پولیس نے محض پولیسنگ نہیں کی، عملاً محاذِ جنگ پر کھڑے ہو کر ریاست کا دفاع کیا۔ ان قربانیوں کا انکار ناانصافی ہوگی۔ لیکن کیا ان قربانیوں کی بنیاد پر پولیس کو عدالت کا منصب بھی دے دیا جائے؟ اسی پولیس کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمات بھی ہیں، اس کے ریکارڈ میں سپاری لے کر قتل کرنے والے اہلکار بھی، بھتہ خوری میں ملوث افسران بھی، منشیات کے کاروبار سے وابستہ اہلکار بھی اور جعلی مقابلوں میں سزا پانے والے پولیس افسر بھی۔ راؤ انوار کا نام ابھی تاریخ کے حافظے سے محو نہیں ہوا۔ نقیب اللہ محسود کا خون ابھی خشک نہیں ہوا۔ ساہیوال کے معصوم بچے ابھی تک اپنے والدین کے قتل کی تصویر ذہن سے نہیں نکال سکے۔ چکوال میں سی سی ڈی کی کارروائی کے دوران ایک آسٹریلوی نژاد بچی کی جان چلی گئی۔ اس سے پہلے کراچی میں رسول بخش بروہی غلط شناخت کی بنیاد پر مارے گئے۔ یہ سب واقعات ایک ہی سوال پوچھتے ہیں۔ اگر غلطی عدالت سے ہو تو اپیل کا دروازہ موجود ہوتا ہے، لیکن اگر فیصلہ بندوق سنائے تو اپیل کہاں دائر کی جائے؟ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) یہ مان لیا کہ ہمارا نظام انصاف سست ہے۔ یہ بھی مان لیا کہ کئی خطرناک ملزم ضمانت پر رہا ہو کر دوبارہ جرائم کرتے ہیں۔ لیکن کیا اس کا علاج یہ ہے کہ پولیس ہی تفتیش بھی کرے، استغاثہ بھی بنے، جج بھی ہو اور جلاد بھی؟ اگر یہ ہی انصاف ہے تو پھر عدالتوں پر اربوں روپے کیوں خرچ کیے جا رہے ہیں؟ جج کیوں مقرر کیے جاتے ہیں؟ وکلا کیوں دلائل دیتے ہیں؟ آئین کیوں پڑھایا جاتا ہے؟ بہتر ہے عدالتوں کی عمارتوں پر تالے لگا دیے جائیں اور ہر تھانے کے باہر ایک تختی آویزاں کر دی جائے کہ ’فیصلے اب یہیں ہوں گے۔‘ ریاستیں قانون سے چلتی ہیں، جذبات سے نہیں۔ اگر کوئی ملزم بار بار ضمانت پر رہا ہو کر دوبارہ جرم کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت غیر ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں تفتیش کمزور ہے، کہیں استغاثہ ناکام ہے، کہیں قانون میں خلا ہے اور کہیں حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ حل گولی نہیں، اصلاح ہے۔ پولیس میں میرٹ پر بھرتیاں ہوں، تفتیش کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کو مضبوط بنایا جائے، پراسیکیوشن میں سیاسی سفارش کی بجائے اہلیت کو معیار بنایا جائے، سٹریٹ کرائم کے مقدمات کا الگ ڈیٹا مرتب ہو، بار کونسلز اور عدلیہ کے ساتھ مل کر ان قانونی خامیوں کو دور کیا جائے جن سے خطرناک ملزم بار بار فائدہ اٹھاتے ہیں۔ قانون کی کمزوری کا علاج قانون کو قتل کرنا نہیں ہوتا۔ جس دن ہم نے ماورائے عدالت قتل کو انصاف کا متبادل مان لیا، اسی دن ہم نے یہ بھی تسلیم کر لیا کہ پولیس، تفتیش، استغاثہ، عدلیہ اور حکومت، سب اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اور جب ریاست اپنی ناکامی کو گولی سے چھپانے لگے تو یاد رکھیے، اس گولی کا اگلا نشانہ صرف کوئی مجرم نہیں، بلکہ کوئی بے گناہ بھی ہو سکتا ہے۔ انصاف کی رفتار سست ہو سکتی ہے، انصاف کے نظام میں سقم ہو سکتے ہیں، لیکن انصاف کا راستہ کبھی بندوق کی نالی سے نہیں گزرتا، چاہے بندوق کے ٹریگر پر انگلی کسی کی بھی ہو۔ نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ کراچی پولیس انکاونٹر پنجاب ماورائے عدالت قتل یہ مان لیا کہ ہمارا نظام انصاف سست ہے۔ یہ بھی مان لیا کہ کئی خطرناک ملزم ضمانت پر رہا ہو کر دوبارہ جرائم کرتے ہیں۔ لیکن کیا اس کا علاج یہ ہے کہ پولیس ہی تفتیش بھی کرے، استغاثہ بھی بنے، جج بھی ہو اور جلاد بھی؟ نعمت خان جمعرات, جولائی 30, 2026 – 07: 00 Main image:
17 نومبر، 2023 کی اس تصویر میں کراچی پولیس کا ایک اہلکار سرچ آپریشن کے دوران پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)
بلاگ type: news related nodes: کراچی: 1962 میں غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لینے والے حاجی ایوب کی داستان کراچی میں صحافی کے بیٹے سمیت نادرا کے تین اہلکار گرفتار کراچی: پانی چوری کے خلاف قائم پولیس سٹیشن کتنا موثر؟ تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام پیچیدہ: کراچی پولیس SEO Title: جب پولیس جج بننے لگے copyright: show related homepage: Hide from Homepage



