بولی ووڈ کی مشہور فلم ’جب وی میٹ‘ کا کردار ’گیت‘ آج بھی شائقین کے درمیان بے حد مقبول ہے، لیکن اب اس کردار کے حوالے سے ایک ایسا دعویٰ سامنے آیا ہے جس نے پاکستانی اور بھارتی شوبز حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستانی فیشن اسٹائلسٹ، میک اپ آرٹسٹ اور فوٹوگرافر عاکف الیاس نے دعویٰ کیا ہے کہ فلم ’جب وی میٹ‘ میں کرینہ کپور کی جانب سے ادا کیا گیا گیت کا کردار پاکستان کے مقبول ڈرامے ’ان کہی‘ کی ثنا سے متاثر تھا۔ ’ان کہی‘ میں ثنا کا کردار معروف پاکستانی اداکارہ شہناز شیخ نے ادا کیا تھا۔ یہ دعویٰ عاکف الیاس نے نجی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران کیا۔ عاکف الیاس نے اس انکشاف کو اہم قرار دیتے ہوئے دونوں کرداروں کے درمیان مماثلت کی جانب بھی توجہ دلائی۔ عاکف الیاس نے بتایا کہ وہ ایک موقع پر ’جب وی میٹ‘ کی پروڈکشن کمپنی کے ساتھ کام کر رہے تھے تو اسی دوران انہیں پی ٹی وی کا کلاسک ڈرامہ ’ان کہی‘ دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انہوں نے ’جب وی میٹ‘ دیکھی تو انہیں اندازہ ہوا کہ فلم کا مرکزی کردار پاکستانی ڈرامے کے کردار سے کس قدر ملتا جلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی اس بات پر قائم ہیں کہ کرینہ کپور کا گیت کا کردار ان کہی کی ثنا سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا۔ عاکف الیاس نے گفتگو کے دوران شائقین کو بھی دونوں کردار دیکھنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا گیت کا کردار واقعی ’ان کہی‘ کی ثنا سے متاثر تھا یا اسے نقل کہا جا سکتا ہے۔ پاکستانی ڈرامہ ’ان کہی‘ 1980 کی دہائی میں نشر ہوا تھا اور اسے پاکستان ٹیلی ویژن کے یادگار ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شہناز شیخ نے اس میں ثنا مرزا کا کردار ادا کیا تھا۔ ثنا ایک ذہین، پُراعتماد اور بے باک نوجوان لڑکی کے طور پر دکھائی گئی تھی۔ کردار کے اندازِ گفتگو، مزاحیہ انداز اور شخصیت نے اسے ناظرین میں خاصی مقبولیت دلائی۔ دوسری جانب ’جب وی میٹ‘ 2007 میں ریلیز ہوئی تھی، جس میں کرینہ کپور نے گیت کا کردار ادا کیا۔ گیت اپنی بے تکلف گفتگو، پُراعتماد شخصیت، مسلسل باتیں کرنے اور زندگی کے بارے میں مثبت انداز کے باعث بہت جلد مقبول ہوگئی۔ دونوں کرداروں کی یہی خصوصیات اب عاکف الیاس کے دعوے کے بعد ایک بار پھر شائقین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ عاکف الیاس نے گفتگو میں صرف گیت اور ثنا کے کرداروں تک بات محدود نہیں رکھی بلکہ پاکستانی ثقافت کے خطے میں اثر و رسوخ کا بھی ذکر کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں پاکستانی لباس، شاعری، بولنے کے انداز اور طرز زندگی میں خاص دلچسپی پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش میں بھی پاکستانی ملبوسات کو پسند کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ عاکف الیاس پاکستان میں ایک کامیاب کیریئر بنانے کے بعد بہتر مستقبل اور ذاتی سلامتی کے پیش نظر بیرون ملک منتقل ہوگئے تھے تاہم ملک سے باہر سکونت اختیار کرنے کے باوجودانہوں نے اپنے پاکستانی کلائنٹس کے ساتھ فوٹوگرافی اور اسٹائلنگ کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔
’جب وی میٹ‘ کی گیت کس پاکستانی کردار کی نقل تھی؟ عاکف الیاس کا بڑا دعویٰ
RELATED ARTICLES



