روشن چہرے، سٹیج کی جانب اٹھے ہوئے موبائل فون کے کیمرے، مانوس دھنیں گنگناتی آوازیں اور ایک واضح جوش و انتظار۔ یہ وہ منظر تھا جو اس وقت نظر آ رہا تھا جب حاضرین پاکستان اور انڈیا کی مقبول ترین آوازوں میں سے ایک کے سٹیج پر آنے کے منتظر تھے۔ 2 اکتوبر کو بوسٹن، ونس اپان اے ٹائم – ورلڈ ٹور 2026 کا پہلا پڑاؤ بنا، جس میں شہرہ آفاق صوفی اور بالی وڈ گلوکار استاد راحت فتح علی خان نے اپنے بیٹے شاہ زمان علی خان کے ساتھ پرفارم کیا۔ تقریباً دو ہزار افراد نے سخت سکیورٹی انتظامات کے بیچ کنسرٹ میں شرکت کی۔ آئس ہاکی کے ایک میدان میں جمع ہونے والے حاضرین کے، جن میں بڑی تعداد جنوبی ایشیائی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی، لیے یہ شام محض ایک اور کنسرٹ نہیں تھی۔ یہ ایک ایسی موسیقی کی وراثت کا جشن بن گئی جو شاعری، صوفی روایات، بالی وڈ، قوالی اور نسلوں کی اجتماعی یادداشتوں کے ذریعے طویل عرصے سے سرحدوں کے پار آزادانہ سفر کرتی رہی ہے۔ شام کا آغاز نسبتاً پُرسکون انداز میں ہوا۔ ہال کو فوری طور پر بھاری موسیقی آلات کی آوازوں سے بھرنے کی جائے، راحت فتح علی خان اور ان کے ساتھی فنکاروں نے ایک خصوصی حصے سے شروعات کی جس میں انسانی آواز کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ محدود سازوں کی ہمراہی نے گائیکی کو مرکزِ توجہ بنا دیا اور حاضرین کو یاد دلایا کہ موسیقی کی ایسی روایت بھی موجود ہے جس میں صرف آواز ہی شاعری، عقیدت اور جذبات کو بیان کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ ’میں اس سے بہت لطف اندوز ہو رہا ہوں،‘ بوسٹن پولیس کے سارجنٹ سکاٹ پلچن سنگھ نے گلوبل ساؤتھ ایشیا کو بتایا۔ ٹرینیڈاڈ سے تعلق رکھنے والے اس اہلکار نے کہا کہ وہ اس موسیقی کو پہلے سن چکے ہیں، لیکن اسے لائیو سننے کا یہ ان کا پہلا تجربہ ہے۔ شاہ زمان علی خان راحت فتح علی خان کے بیٹے شاہ زمان علی خان واشنگٹن میں ورلڈ ٹور 2026 کے ایک کنسرٹ میں 4 اکتوبر کو پرفارم کر رہے ہیں (انسٹاگرام: شاہ زمان علی خان) اس کے بعد سٹیج پر 23 سالہ شاہ زمان علی خان آئے، جو خاندان کی شان دار موسیقی روایت کو آگے بڑھانے والی نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے ’’دل پر زخم کھاتے ہیں‘ سمیت کئی مقبول گیت پیش کیے جنہیں حاضرین نے جوش و خروش سے سراہا، تالیاں بجائیں اور نعرے لگائے۔ شام کے نسبتاً ہلکے پھلکے لمحات میں سے ایک موقع پر شاہ زمان نے بتایا کہ والد کے ساتھ پرفارم کرنا کیسا محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اگرچہ راحت فتح علی خان ان کے والد ہیں، لیکن انہیں بھی اتنا ہی حق حاصل ہے کہ وہ انہیں ’خان صاحب‘ کہہ کر پکاریں، جتنا کسی اور کو ہے۔ اس بات پر حاضرین ہنس پڑے، لیکن ساتھ ہی اس سے اس موسیقی روایت کے لیے موجود احترام بھی جھلکتا تھا جو انہیں ورثے میں ملی ہے۔ جب راحت فتح علی خان دوبارہ سٹیج کے مرکز میں آئے تو ماحول مزید پرجوش ہو گیا۔ جیسے ہی ’آفریں آفریں‘ کی معروف ابتدائی دھن ہال میں گونجی، حاضرین بھی ساتھ گانے لگے۔ اس کے بعد ’تم جو آئے زندگی میں‘ سمیت دیگر پسندیدہ گیت پیش کیے گئے۔ اس وقت تک خاموش بیٹھے رہنا مشکل ہو چکا تھا۔ لوگ اپنی نشستوں پر جھوم رہے تھے، گا رہے تھے اور بعض مقامات پر رقص بھی کر رہے تھے۔ یہ وہ گیت تھے جو دنیا بھر میں آباد جنوبی ایشیائی باشندوں کی ثقافتی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) لیکن مختصر وقفے کے بعد حاضرین ایک ایسے منظر میں واپس آئے جو گویا کسی مختلف کنسرٹ کا حصہ معلوم ہو رہا تھا۔ جو فنکار پہلے مغربی لباس میں نظر آئے تھے، اب روایتی لباس پہن کر سٹیج پر آئے۔ یہ تبدیلی صرف ظاہری شکل تک محدود نہیں تھی بلکہ موسیقی کے انداز میں بھی نمایاں تھی۔ جدید کنسرٹ کا ماحول ایک قدیم، اجتماعی اور جنوبی ایشیا کی روحانی ثقافت میں گہرائی سے جڑی روایت میں تبدیل ہو گیا: قوالی۔ قوالی، جنوبی ایشیا کی صدیوں پرانی صوفی عقیدتی موسیقی کی روایت ہے، جو تاریخی طور پر شاعری، تکرار، ردھم اور آوازوں کے بتدریج شدت اختیار کرتے تبادلوں کے ذریعے ایک مشترکہ موسیقی اور روحانی تجربہ پیدا کرتی ہے۔ ہارمونیم، طبلے، تالیاں اور اجتماعی آوازوں کے شامل ہونے سے سٹیج اور حاضرین کے درمیان فاصلہ کم ہوتا محسوس ہونے لگا۔ انتظار اختتام کو پہنچا جب اس روایت سے وابستہ سب سے مشہور کلاموں میں سے ایک ’دما دم مست قلندر‘ پیش کیا گیا۔ اس ردھم نے پورے میدان کو بدل دیا۔ تالیاں مزید بلند ہونے لگیں، حاضرین کی آوازیں سٹیج پر گانے والوں کے ساتھ مل گئیں اور ماحول صرف کسی پرفارمنس کو سننے سے آگے بڑھ گیا۔ حاضرین خود اس پرفارمنس کا حصہ بن گئے۔ بوسٹن کے علاقے سے تعلق رکھنے والی آرمینی نژاد امریکی سٹیفنی وائٹ نے کہا: ’مختلف پس منظر رکھنے والے اتنے زیادہ لوگوں کو ایک ساتھ گاتے دیکھنا، انڈین اور پاکستانیوں کو زندگی کی خوبصورتی کو مل کر سراہتے دیکھنا، قوالی کی روح کو اس ہال میں زندہ محسوس کروا رہا تھا۔ یہ میری زندگی میں پہلی بار تھا کہ میں نے قوالی براہِ راست سنی، اور میں اسے کبھی نہیں بھولوں گی۔‘ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ قوالی آج بھی اتنی غیر معمولی مقبولیت رکھتی ہے۔ اگرچہ اس کی جڑیں صوفی عقیدتی روایات میں ہیں، لیکن اس کے سامعین کبھی کسی ایک مذہبی یا قومی شناخت تک محدود نہیں رہے۔ اس کی شاعری اور موسیقی مزارات، گلیوں، فلموں، ریکارڈنگز اور کنسرٹ ہالوں کے ذریعے سفر کرتی ہوئی انڈیا، پاکستان اور وسیع جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن برادری تک پہنچی ہے۔ بوسٹن کی یہ شام اسی تاریخ کی عکاس تھی۔ بوسٹن کنسرٹ کے بعد فنکاروں نے رات بھر کا سفر کرتے ہوئے نیویارک جانا تھا اور پھر دورے کے اگلے مراحل کے لیے نیو جرسی روانہ ہونا تھا۔ تقریب کی میزبان انوشکا اروڑا نے گلوبل ساؤتھ ایشیا کو یہ بات بتائی۔ بھارتی نژاد انوشکا اروڑا لندن میں پلی بڑھیں اور اب نیویارک میں مقیم ہیں۔ وہ ماضی میں بھی راحت فتح علی خان کے متعدد شوز کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ View this post on Instagram A post shared by Shahzaman Ali Khan (@shahzamanalikhann) جنوبی ایشیائی شناخت ایک ایسی دنیا میں جہاں جنوبی ایشیائی شناختوں کو اکثر سرحدوں کے تناظر میں بیان کیا جاتا ہے، موسیقی نے ایک مختلف زبان فراہم کی۔ لوگوں کو ایک دھن پہچاننے، کسی مانوس شعر کو مکمل کرنے، ایک ہی ردھم پر تالیاں بجانے یا ایک ہی آواز سے متاثر ہونے کے لیے نہ تو ایک جیسی قومیت درکار تھی اور نہ ایک جیسا عقیدہ۔ خود راحت فتح علی خان اس سرحد پار سفر کرتی موسیقی کی ایک مثال ہیں۔ اپنے خاندان سے منسلک معروف قوالی روایت میں جڑے ہونے کے باوجود، جس کے سب سے نمایاں نام ان کے چچا استاد نصرت فتح علی خان تھے، ان کی آواز مقبول موسیقی اور بالی وڈ کے ذریعے بھی لاکھوں لوگوں کے لیے مانوس بن چکی ہے۔ ایک ملک میں جنم لینے والے گیت دوسرے ملک میں اپنائے گئے جبکہ صدیوں پرانی روحانی تاریخ کی حامل قوالیاں آج جنوبی ایشیا سے ہزاروں میل دور کنسرٹ ہالوں میں بھی سامعین حاصل کر رہی ہیں۔ راحت فتح علی خان نے معروف نغمہ ’امن کی آشا‘ بھی پیش کیا، جو انہوں نے شنکر مہادیون کے ساتھ گایا تھا اور جس کے بول معروف شاعر گلزار نے تحریر کیے تھے۔ شاید یہ ہی مشترکہ ورثہ اس رات کا سب سے یادگار پہلو تھا۔ ونس اپان اے ٹائم – ورلڈ ٹور 2026 کا پہلا پڑاؤ بلاشبہ دلکشی سے بھرپور تھا، جس میں طاقتور آوازیں، پسندیدہ گیت، خوشی کے نعرے، رقص اور بے شمار موبائل فون تھے جو شام کے چند لمحات کو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن اس تمام چکاچوند کے نیچے ایک اور بھی گہرا پیغام موجود تھا: موسیقی میں ایسی جگہیں تخلیق کرنے کی صلاحیت ہے جہاں شناختیں ایک دوسرے سے مقابلہ کیے بغیر مل سکتی ہیں۔ بوسٹن میں چند گھنٹوں کے لیے انڈینز، پاکستانیوں اور جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن برادری کے دیگر افراد کو ان باتوں پر گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں پڑی جو انہیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ وہ صرف ایک ساتھ گاتے رہے۔ اور شاید یہ ہی اس موسیقی کی خاموش طاقتوں میں سے ایک رہی ہے: سرحدیں یہ طے کر سکتی ہیں کہ لوگ کہاں رہتے ہیں، لیکن یہ طے کرنا ان کے لیے کہیں زیادہ مشکل ہے کہ لوگ کون سے گیتوں سے محبت کرتے ہیں۔ سچن گپتا انڈیا سے تعلق رکھنے والے طبیعیات دان، استاد اور مصنف ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں یونیورسٹی آف میساچیوسیٹس بوسٹن سے کوانٹم فزکس میں پی ایچ ڈی مکمل کی ہے اور اس وقت اسی جامعہ میں فزکس پڑھاتے ہیں۔ یہ گلوبل ساؤتھ ایشیا کی شائع کردہ فیچر رپورٹ ہے جسے ان کی اجازت سے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ لوک موسیقی قوالی راحت فتح علی خان بوسٹن راحت فتح علی خان نے اس کنسرٹ میں مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے 23 سالہ بیٹے شاہ زمان علی خان کو بھی متعارف کرایا۔ سچن گپتا منگل, اکتوبر 6, 2026 – 10: 30 Main image: راحت فتح علی خان اپنے بیٹے شاہ زمان علی خان (دائیں) کے ساتھ واشنگٹن میں ورلڈ ٹور 2026 کے ایک کنسرٹ میں 4 اکتوبر کو پرفارم کر رہے ہیں (انسٹاگرام: شاہ زمان علی خان) میگزین type: news related nodes: ’استاد شاگرد کا معاملہ ہے: ‘ راحت فتح کے تشدد کی وائرل ویڈیو پر وضاحت نصرت فتح علی کی یاد میں لندن میں تقریبات ہوں گی: راحت فتح علی راحت فتح اورعاطف اسلم سعودی عرب میں جادو جگائیں گے ’تمام عمر تکلیف ہو گی جب جب بیٹا یاد آئے گا‘ SEO Title: جب موسیقی سرحدیں مٹا دے: راحت فتح علی خان کا بیٹے کے ہمراہ بوسٹن کنسرٹ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
جب موسیقی سرحدیں مٹا دے: راحت فتح علی خان کا بیٹے کے ہمراہ بوسٹن کنسرٹ
RELATED ARTICLES



