68.6 F
Pakistan
Thursday, October 22, 2026
HomeEntertainmentجب شاہ رخ پان مصالحہ بیچیں تو نوجوان کیا سیکھیں؟

جب شاہ رخ پان مصالحہ بیچیں تو نوجوان کیا سیکھیں؟

بالی وڈ کا امیر ترین اداکار دھڑلے سے پان مصالحے کے اشتہار کرتا اور اپنا پاؤ بھر گوشت لے کر سائیڈ پر ہو جاتا ہے۔ سماج کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟ اسے فرق نہیں پڑتا۔ معروف انڈین یوٹیوبر دھروو راٹھی کی ایک پرانی ویڈیو نظر سے گزری جس میں شاہ رخ خان کی دولت اور پان مصالحے کی تشہیر پر دلچسپ سوال تھے۔ راٹھی کے بقول بالی وڈ کا امیر ترین اداکار اتنی دولت اکٹھی کر چکا ہے کہ وہ اب کچھ بھی نہ کرے تو ہر ماہ صرف وہ پیسہ خرچ بھی نہیں کر سکتا جو اسے بینک منافغ کے طور پر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ دو سو کروڑ روپے کے لیے ایسا اشتہار کر رہے ہیں جس کے نقصان پر کوئی دو رائے نہیں۔ چند ماہ پہلے مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو ومل الائچی کے اشتہارات کے معاملے پر نوٹس جاری کیے۔ حکام کے مطابق یہ مہم ممنوعہ ومل پان مصالحہ کی بالواسطہ تشہیر ہے۔ شاہ رخ نے نوٹس کا جواب دینا ہی مناسب نہیں سمجھا کہ ’کر لو جو کرنا ہے۔‘ پیسہ کسے اچھا نہیں لگتا، اس لیے سوال دولت کمانے کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ سماجی اثرورسوخ رکھنے والا فنکار اپنے ہر فیصلے کو ذاتی انتخاب کہہ کر اس کے معاشرتی نتائج سے لاتعلق ہو سکتا ہے؟ اگر آپ یا میں پان مصالحہ کھا رہے ہوں، سگریٹ پھونک رہے ہوں تو کتنے لوگ cool سمجھتے ہوئے ایسا کریں گے، لیکن جب یہی چیز اس کا پسندیدہ سپر سٹار ہاتھ میں پکڑے، مسکراتے ہوئے اس کی خوبیاں بیان کرے تو مصنوعات کو ایک نئی سماجی قبولیت ملتی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے، جو اپنے پسندیدہ اداکاروں کو محض فنکار نہیں بلکہ رول ماڈل سمجھتے ہیں۔ مشہور شخصیات کی تشہیر صارفین کے تصورات اور رویوں پر اثرانداز ہوتی ہے، اسی لیے ان کے فیصلوں پر سوال اٹھانا بے جا اخلاقی شکنجہ کسنا نہیں بلکہ ایک جائز سماجی بحث ہے۔ بالی وڈ کے ستارے جس سماج سے اپنی شہرت، دولت اور اثرورسوخ حاصل کرتے ہیں، اسی سماج کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں؟ ان کی فلم فلاپ ہو تو بحث، فلم ہٹ ہو تو بحث، کس رنگ کے کپڑے، کس ڈھنگ کا ناشتہ، ہر چیز عوامی گفتگو کا حصہ، لیکن جب ان کے کسی فیصلے کے صحت عامہ پر اثرات کا سوال اٹھے تو معاملہ ان کی ’ذاتی آزادی‘ بن جاتا ہے۔ گویا شہرت کا عوام سے کچھ لینا دینا نہیں، بس ذاتی ملکیت ہے، اس سے فائدہ اٹھانا تو جائز ہے، مگر اس کے ساتھ آنے والی ذمہ داری قبول کرنا ضروری نہیں۔ چند دن پہلے کسی ہدایت کار کا انٹرویو سنا کہ میں دھرمیندر کی پہلی فلم ڈائریکٹ کر رہا تھا۔ ایک موقع پر کچھ اوپر نیچے ہوا تو دھرمیندر نے غصہ کیا۔ جب لنچ بریک ہوئی تو دھرمیندر نے آ کر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، مجھے بہت شرمندگی ہے، معافی چاہتا ہوں۔‘ یہ وہی بالی وڈ ہے جہاں سٹار غصہ کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان ہی دھرمیندر کے بیٹے سنی دیول نے پان مصالحے کا اشتہار یہ کہہ کر کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ میں گٹکے کا فروغ نہیں چاہتا، خاص طور پر اس لیے بھی کہ یہ ان لوگوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے جو پہلے ہی انتہائی غریبی میں جی رہے ہوتے ہیں۔ انڈیا کے ہر کونے سے آنے والے مختلف ثقافتی دھارے جس سمندر میں گرتے ہیں اسے بمبئی کہتے ہیں۔ رنگ رنگ کی دنیا، بھانت بھانت کی بولیاں۔ یہ مل کر ایسا کلچر تشکیل دیتے ہیں جہاں اپنی ذات اور خود کا سروائیول ہی سب کچھ ہے۔ ساؤتھ یا بنگال یا پنجاب جیسی انڈسٹریوں کے لوگ جیسے اپنے سماج سے جڑے ہیں، بالی وڈ میں دور دور تک اس کی جھلک نظر نہیں آتی۔ جنوبی ہند میں فنکار کی شناخت صرف اس کی فلموں یا معاوضے تک محدود نہیں رہتی۔ وہ کھل کر سیاست پر بات کرتے ہیں، ذات پات اور مذہبی منافرت کے خلاف بولتے ہیں۔ پنجاب میں کسانوں کی تحریک کے دوران کم و بیش ہر مشہور اداکار یا گلوکار نے اخلاقی حمایت کا کھل کر اظہار کیا۔ بنگالی اداکار اور ہدایت کار پرمبرتا چٹرجی نے سماجی اور سیاسی معاملات پر پورے معاشرے کو متحرک کیا۔ انہوں نے کسانوں کی تحریک، شہریت کے مسائل اور جمہوری اختلافِ رائے سے متعلق مباحث میں حصہ لیا۔ انہوں نے دوسرے فنکاروں کے ساتھ مل کر ایک ایسی ویڈیو میں بھی حصہ لیا جس میں لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ انتخابات کے دوران اپنے ووٹ کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔ فنکار کا اپنے معاشرے سے جڑا ہونا صرف یہ نہیں کہ وہ اپنی زبان یا ثقافت کا ذکر کرے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ اپنے گرد موجود مسائل کو دیکھے، ان پر سوچے اور اپنی حیثیت کے مطابق ان کے حل میں حصہ لے۔ بالی وڈ میں فلمیں کروڑوں اور اربوں روپے کا کاروبار کرتی ہیں۔ اداکاروں کی تشہیری مہمات بڑے برانڈز کی مارکیٹنگ حکمتِ عملی کا حصہ ہوتی ہیں۔ ان کے چہرے پر اعتماد، کامیابی اور مقبولیت کی مہر لگی ہوتی ہے، لیکن یہ شہرت تجارتی جمع تفریق سے آگے نہیں بڑھتی۔ انسان زندگی سے کیا چاہتا ہے؟ بے تحاشہ دولت، طاقت اور شہرت۔ بالی وڈ سٹارز کے پاس یہ سب کچھ ہے اور بے پناہ ہے۔ ان کا قد اتنا بلند ہو چکا ہے کہ کروڑوں لوگ اپنی زندگیوں کا جغرافیہ ان کے سائے میں بیٹھ کر بناتے ہیں۔ کیا زندگی میں ایسا مرحلہ بھی آتا ہے کہ انسان اپنے لیے بہت کچھ کر لینے کے بعد سماج کے لیے بھی سوچے؟ باقی دنیا کا تو پتہ نہیں لیکن بمبئی کی فلم نگری میں ایسا کوئی مرحلہ نہیں۔ یہ ووٹ چوری پر بولنے کی بجائے پان مصالحے کے اشتہار کو ترجیح دیں گے۔ نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ بالی وڈ شاہ رخ خان اشتہارات انڈیا مہاراشٹر کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے چند ماہ پہلے شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو اشتہارات کے معاملے پر نوٹس جاری کیے۔ شاہ رخ نے نوٹس کا جواب دینا ہی مناسب نہیں سمجھا کہ ’کر لو جو کرنا ہے۔‘ فاروق اعظم جمعرات, اکتوبر 22, 2026 – 06: 45 Main image: فن type: news related nodes: ’کاکروچ‘ احتجاج میں شرکت، بالی وڈ اداکار کو انڈیا چھوڑنے کا حکم بالی وڈ کے ستارے اب فیشن آئیکون کیوں نہیں رہے؟ رنویر سنگھ کو بالی وڈ میں ’بائیکاٹ‘ کا سامنا کیوں؟ بالی وڈ میں ولن کا بدلتا ہوا روپ SEO Title: جب شاہ رخ پان مصالحہ بیچیں تو نوجوان کیا سیکھیں؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments