ہر کتاب میں فکر و خیال کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے۔اس لئے کوئی کتاب بھی رائیگاں نہیں جاتی۔ یہ ضرور ہے کہ اس کا دائرہ محدود یا لامحدود ہو سکتا ہے تاہم اس کلب میں زندگی کا جو عہد مقید ہوتا ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کتابیں لکھی جاتی اور چھپتی رہیں تو ارتقاء کا عمل بھی جاری رہتا ہے، یہ ایک خوش آئند اور حوصلہ افزاء امر ہے کہ پاکستان میں کتابیں لکھی بھی جا رہی ہیں اور شائع بھی ہو رہی ہیں آج اتفاق سے جن تین کتابوں کا تبصرے کے لئے انتخاب کیا گیا ہے، وہ تینوں خواتین کی ہیں اور نثر میں ہیں۔ پہلی کتاب اکاسی شبی کی ”ابھی ہم تمہارے ہیں“ ڈاکٹر عصمت نواز کی ”جن لمحوں میں ہم ساتھ رہے“ اور تیسری کتاب ارشد خانم کی کتاب ”جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لوں“ ہے۔ خواتین کی کتابوں کا اسلوب جداگانہ ہوتا ہے جوان تینوں کتابوں میں بھی جھلکتا ہے۔ چند روز پہلے مجھے اکاس شبی کی کتاب ”ابھی ہم تمہارے ہیں“ ملی تو میں اس کے سحر میں کھو گیا۔یہ وہ کتاب ہے جس کا انداز عام کتابوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس کتاب میں صرف دو کردار ہیں اور پوری کتاب انہی کے گرد گھومتی ہے۔ویسے تو کہا جا سکتا ہے کہ دو کرداروں کی وجہ سے کتاب میں یکسانیت کا پہلو ضرور موجود ہوگا مگر حیران کن بات یہ ہے کہ ان دو کرداروں میں جو ایک مرد اور دوسری عورت ہے۔ ہونے والا مسلسل مکالمہ زندگی کے اس قدر قریب ہے کہ پڑھنے والا یوں محسوس کرتا ہے جیسے وہ خود ان کرداروں کا حصہ ہو۔ شعیب بن عزیز نے اسے ایک طویل نظم کہا ہے، جبکہ اس کے اندر ناول اور افسانے کی تمام خصوصیات بھی موجود ہیں۔ الماس شبی کی اس کتاب نے مقبولیت کے ریکارڈ یوں توڑے ہیں کہ اس کے چھ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ایک محبت کی کہانی ہے۔ وہ لکھتی ہیں ”محبت انسان کو کتنا خوبصورت بنا دیتی ہے، ہمیں اس کا احساس ہی نہیں وگرنہ کبھی بھی کوئی نفرتوں اور کدورتوں سے اپنے چہرے کو مسخ نہ کرے“ اس کتاب میں موجود دو کرداروں کے مکالمے اپنے اندر وہ کشاکش بھی رکھتے ہیں، جو خیر و شر میں ازل سے جاری ہے۔ ”ابھی ہم تمہارے ہیں“ درحقیقت اپنے اندران گنت کہانیاں لئے ہوئے ہے۔ ہر باب ایک کہانی ہے۔ یوں دو کرداروں کا تسلسل اس کتاب کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔ اس کتاب کے پہلے ایڈیشن میں بشریٰ رحمن نے بڑی زبردست رائے دی تھی۔ ”میرے خیال میں یہ اردو ادب کی انوکھی،نرالی اور اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے، لاجواب ہے“۔ ایک بڑی مصنفہ کے یہ الفاظ الماس شبی کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ جاناں ملک کی والدہ کی سرجری، مداحوں سے دعاؤں کی اپیل ملتان میں مقیم ڈاکٹر عصمت ناز ایک نفیس اور باکمال شخصیت کی مالک ہیں۔ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں انہوں نے پی ایچ ڈی تیونس سے کی۔ تاریخ و مطالعہ پاکستان ان کا مضمون ہے۔ چھ سال تک پیکنگ یونیورسٹی بیجنگ چین میں اردو اور مطالعہ پاکستان کی چیئرپرسن رہیں، ”جن لمحوں میں ہم ساتھ رہے“ ان کے لکھے گئے خاکوں پر مشتمل کتاب ہے۔اس میں 56خواتین اساتذہ کے خاکے ہیں جن کے ساتھ ڈاکٹر عصمت ناز کو کام کرنے اور زندگی کا طویل عرصہ گزارنے کا موقع ملا۔ خاکہ نگاری ایک مشکل صنف ہے۔اس میں بڑی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے، کیونکہ خاکہ لکھنے اور خاکہ اڑانے میں بہت تھوڑا سا فرق ہے۔ ذرا سی لغزش ممدوح کو معتوب کردار بنا سکتی ہے۔ ڈاکٹر عصمت ناز کے مشاہدے اور یادداشت کی داد دینا پڑتی ہے۔انہوں نے اتنی بڑی تعداد میں اپنی دوست اور کولیگز کو نہ صرف یاد رکھا بلکہ ان کی عادات شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور عمومی رویوں کے بارے میں بھی بہت کچھ نمایاں کر دیا۔ عموماً اتنی زیادہ شخصیات کے ساتھ ہرآدمی کا ربط ضبط نہیں ہوتا۔ لیکن ڈاکٹر عصمت ناز کی یہ کتاب پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے وہ نہ صرف خود بہت سوشل اور فرینڈلی طبیعت کی مالک ہیں بلکہ ان کی سہیلیاں بھی ان سے بہت زیادہ متاثر تھیں کہ اتنے زیادہ ان کے قریب ہوئیں۔ان کا اسلوب بھی بہت سادہ، شگفتہ اور رواں ہے، وہ اپنے خاکوں میں پہلے شخصیت کا مجموعی تعارف کراتی ہیں اور پھر اس کی تفصیلات میں پوری زندگی کا عکس اتار کر صفحہء قرطاس پر لیکچر دیتی ہیں۔ یہ غالباً اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے کہ جس میں 56خواتین کے خاکے موجود ہیں۔ اتنی کثیر تعداد میں شخصیات اور ان کے اوصاف نیز مجموعی زندگی کے تاثر کو ذہن میں رکھ کر لکھنا آسان کام نہیں تاہم ڈاکٹر عصمت ناز نے یہ کام بڑے سہل انداز میں بڑی خوبصورت سے انجام دیا ہے۔ اسے کتاب نگر ملتان نے شائع کیا ہے۔ کسی بھی قسم کی آبی جارحیت کو اعلان جنگ تصور کیاجائے گا، پاکستانی مندوب کا اقوام متحدہ میں اصولی موقف آج کی تیسری کتاب ارشد خانم کی تصنیف ”جوبچے ہیں سنگ سمیٹ لوں“ ہے یہ کتاب مختلف اصناف کو اپنے دامن میں لئے ہوئے۔ یوں لگتا ہے مصنفہ نے اپنے تمام مضامین کو کتاب میں جمع کردیا ہے۔ اس میں یادداشتوں کے حوالے سے مضامین بھی ہیں اور تنقیدی جائزے بھی۔ کتابوں کے مطالعے کا ایک بھرپور محاکمہ بھی ملتا ہے۔ ارشد خانم بھی شعبہ تعلیم سے وابستہ رہی ہیں۔ اردو ادب ان کا میدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں مضامین، یادیں اور کتابوں کے جائزے اس حوالے سے ہیں۔ یہ مضامین ارشد خانم نے مختلف ادوار میں لکھے جو اخبارات اور جرائد میں شائع ہوتے رہے۔ وہ کہتی ہیں کہ کتاب چھپوانے سے وہ گریز کرتی ہیں لیکن پھر کچھ دوستوں کے کہنے پر یہ خیال جاگزیں ہوا کہ انہیں کتابی شکل میں شائع کرکے محفوظ بنانا چاہیے۔ وہ دو سال شعبہ اردو بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں زیر تعلیم رہیں۔اس حوالے سے انہوں نے جو مضمون ”فاروق تسنیم“ کے عنوان سے لکھا ہے، وہ شعبہ اردو کے ایک عہد کی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔ اس مضمون میں فاروق تسنیم کے بارے میں بہت سی ایسی باتیں بھی معلوم ہوتی ہیں،جو ان کے قریبی دوستوں کو بھی معلوم نہیں۔ ارشد خانم کی یہ ساتویں کتاب ہے۔ کتابوں کا عمیق مطالعہ ان کا بنیادی شوق نظر آتا ہے کیونکہ وہ جس انداز سے کسی کتاب کا جائزہ لیتی ہیں وہ روایتی تبصروں جیسا نہیں ہوتا بلکہ ایک حقیقی تنقیدی جائزہ کا عکس نظر آتا ہے۔یہ کتاب قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے روح رواں عبدالستار عاصم نے خوبصورت گیٹ کے ساتھ شائع کی ہے۔ کراچی میں سنار کی دکان کا صفایا کرنیوالے ملزمان پنجاب کے شہر جھنگ سے گرفتار



