74.6 F
Pakistan
Tuesday, June 23, 2026
HomeBreaking Newsتیز رفتار زمانہ او ر شورمیں دبتا شعور

تیز رفتار زمانہ او ر شورمیں دبتا شعور

چوپال سجی ہوئی تھی۔ سب براجمان تھے اور ایک دوسرے سے خوش گپیوں میںمصروف تھے، ابھی تک چپ سائیں کی آمد نہیں ہوئی تھی۔نتھو،پھتو، چاچا رشید، چاچا رفیق،تیلی پہلوان سب ان کے منتظر تھے۔۔۔ چپ سائیں کے کھنگورے نے سب کو خاموش کرادیا اور چپ سائیں لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے۔۔۔ سب ان کے احترام میںکھڑے ہو گئے۔۔ چپ سائیں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔ سب بیٹھ گئے ۔۔چوپال میں سکوت کا عالم تھا۔۔۔نتھو نے چپ سائیں کو پانی کا گلاس دیا۔۔۔ چپ سائیں نے پانی پی کر اللہ کاشکراداکیا۔۔۔چاچا رفیق بولے۔۔ سائیں جی خیر تو ہے آج آپ لیٹ ہوگئے۔۔ چپ سائیں گویا ہوئے۔۔۔ بھائی دوستو! دراصل مجھے راستے میں مٹھو(فرضی نام) مل گیا تھا۔۔ وہ بہت شرارتی بچہ ہے، پر اس کے سوال نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ میں اس کا سوال چوپال میں رکھوںاوراس پر تفصیل سے بات بھی کروں۔۔۔ چپ سائیں پھر چپ کر گئے۔۔۔ دو تین منٹ خاموشی کے بعدبولے۔۔ بھائی دوستو! ۔۔۔ مٹھو کہتا ہے کہ سائیں جی ہماری نسل ہے توبہت تیز لیکن۔۔۔ شعور ۔۔۔ زمانے کے شور میں دبتا جارہا ہے۔۔۔ چپ سائیں کی بات سن کر سب بیک زبان بولے۔۔۔ واہ سائیں جی۔۔ مٹھو نے تو کمال کی بات کی ہے۔۔ ہے تو غور طلب اور فکر کی بات بھی۔۔ آپ اس بارے میںکیا کہتے ہیں۔۔۔؟چپ سائیں زیر لب مسکرائے ۔۔۔ بولے۔۔ بھائیو اور چوپال کے بچوں۔۔۔ حق ہے بھئی۔۔۔ یہ ہی سچ ہے۔۔۔آج کل زمانہ تو بہت تیز ہو گیا ہے لیکن شعور تو ایسے دور بھاگ گیا ہے جیسے کوئی گاڑی اکیلی سڑک پر فراٹے بھرتی جارہی ہو۔۔۔ ہمت کر کے پھتو بولا۔۔۔ سائیں جی۔۔ مجھ موٹی عقل والے کو بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔چپ سائیں بولے۔۔بچوں۔۔۔ دراصل مٹھو کی بات کو بیان کروں تو ۔۔ وہ کہنا چاہ رہا تھا۔۔۔ سائیں جی۔۔ ہماری نسل سمجھدار تو ہے لیکن کچھ جلدی میں ہے! ۔۔۔تیلی پہلوان بولا۔۔۔ سائیں جی۔۔بات کی گرہیں کھولیں۔۔۔ ہماری سمجھ دانی تھوڑی چھوٹی ہے۔۔۔چپ سائیں بولے۔۔ بھائی دوستو! ۔۔۔۔ یہ زمانہ ایساہے کہ ہر شخص آگے بڑھنے کی دوڑ میں شامل ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹے ہیں، معلومات تک رسائی چند لمحوں کا کام ہے، انگلیاں ہلیں اور سب کچھ سامنے لیکن بظاہر یہ سب ترقی کی روشن علامتیں ہیں، مگر اس تیز رفتاری نے انسان کو ایک ایسی دوڑ میں شامل کر دیا ہے جس میں وہ بہت کچھ حاصل کرتے ہوئے بھی اپنے شعور، فکر اور داخلی سکون سے دور ہوتا جا رہا ہے۔آج انسان کے پاس وقت بچانے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس کے پاس سوچنے کے لیے وقت نہیں۔ صاحبو! وہ صبح سے شام تک مصروف رہتا ہے، مگر اپنی ذات، اپنے مقصد حیات اور اپنے اردگرد کے مسائل پر غور کرنے کی فرصت نہیں ہے۔ وہ اپنی اصل ترجیحات ہی بھولتا جا رہا ہے۔دوستو! ۔۔۔شعور صرف تعلیم کا نام نہیں بلکہ اپنے وجود، اپنے فرائض اور اپنے فیصلوں کے نتائج کو سمجھنے کا نام ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے معلومات کو شعور سمجھ لیا ہے۔ ہمارے پاس خبریں بہت ہیں، لیکن تجزیہ کم ہے۔ ہم ہر واقعے پر فوری ردعمل دیتے ہیں، مگر اس کے اسباب اور نتائج پر غور نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں برداشت کم اور جذباتیت زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔نتھو اور پھتو میرے بچو۔۔زمانے کی رفتار نے تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔ پہلے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرتے تھے، دکھ سکھ بانٹتے تھے اور ایک دوسرے کی بات توجہ سے سنتے تھے۔ آج رابطے تو بڑھ گئے ہیں، مگر تعلقات کمزور ہو گئے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے بھی دلوں سے دور ہیں۔۔۔۔کسی کو کسی کے حال سے کوئی مطلب نہیں۔۔۔ سب اپنی اپنی دنیا میں مگن او رخوش۔۔۔عجب تیزی ہے بھائی۔۔۔ چپ سائیں بات کرتے کرتے پھر چپ کرگئے۔۔صاحبو! تعلیم کے میدان میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ ڈگریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، لیکن شعور، تحقیق اور تنقیدی سوچ کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔ نوجوان اچھی ملازمت اور زیادہ آمدنی کے حصول کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں، جبکہ ایک باشعور اور ذمہ دار انسان بننے کی خواہش پس منظر میں چلی گئی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ زمانے کی رفتار کو روکا نہیں جا سکتا۔ ترقی اور جدت زندگی کا حصہ ہیں اور ان سے فرار ممکن نہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس رفتار کے ساتھ شعور کو بھی پروان چڑھائیں۔ ہم ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں، مگر اس کے غلام نہ بنیں۔آج کا انسان پہلے سے زیادہ مصروف ہے۔ اس کی زندگی میں سہولتیں بڑھ گئی ہیں، مگر سکون کم ہو گیا ہے۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی مصروفیت میں الجھا رہتا ہے۔زمانے کی تیز رفتاری نے ہمیں یہ یقین دلا دیا ہے کہ جلدی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ نوجوان نسل چند مہینوں میں شہرت، دولت اور کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی کی کامیابی کی ایک جھلک دیکھ کر لوگ اپنی پوری زندگی کا موازنہ اس سے کرنے لگتے ہیں۔ اس دوڑ میں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر کامیابی کے پیچھے برسوں کی محنت، صبر اور قربانی ہوتی ہے، بھائی رفیق یہ بھی قابل ذکر ہے کہ شعور کا تعلق صرف کتابوں سے نہیں بلکہ انسان کے رویے، سوچ اور کردار سے ہوتا ہے۔ ایک شخص اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو سکتا ہے، مگر شعور سے محروم بھی ہو سکتا ہے۔اس بے ڈھنگے معاشرے میں ہر شخص بول رہا ہے، مگر سننے والا کم ہے، ہر کوئی اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھتا ہے۔ تحقیق اور مطالعے کی جگہ سرسری معلومات نے لے لی ہے، رویے اس بات کی علامت ہیں کہ معلومات میں اضافے کے باوجود شعور میں اضافہ نہیں ہو سکا۔معاشرتی سطح پر بھی شعور کی کمی نمایاں ہے۔ ہم حقوق کی بات تو کرتے ہیں، مگر فرائض کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم ترقی چاہتے ہیں، مگر نظم و ضبط اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم صاف ستھرے شہر چاہتے ہیں، مگر اپنے اردگرد صفائی کا خیال نہیں رکھتے۔بھائی رشید۔۔۔ یہ تضادات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ترقی کا سفر صرف مادی وسائل سے طے نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے شعوری ارتقا بھی ضروری ہے۔بھائی دوستو! یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید دور نے انسان کو تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔ انسان اپنی کامیابیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں تو مصروف ہے، مگر اپنے اندر جھانکنے اور اپنی کمزوریوں کا سامنا کرنے سے گریز کرتا ہے۔سوال یہ نہیں کہ زمانے کی رفتار کو کیسے روکا جائے، کیونکہ وقت کبھی نہیں رکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس رفتار کے ساتھ اپنے شعور کو بھی ترقی دے رہے ہیں؟۔۔۔اگر ہم نے ترقی کو صرف رفتار تک محدود رکھا اور شعور کو نظر انداز کیا تو ممکن ہے ہم بہت آگے نکل جائیں، مگر یہ بھی ممکن ہے کہ ہم اپنی اصل منزل ہی کھو بیٹھیں۔ صاحبو! آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف کامیاب انسان نہیں بلکہ باشعور انسان بنائیں کیونکہ شعور کے بغیر رفتار انسان کو تھکا تو سکتی ہے، منزل تک نہیں پہنچا سکتی ۔۔رہے نام اللہ کا!

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments