74.5 F
Pakistan
Tuesday, September 29, 2026
HomeEntertainmentتمام بتیاں ایک ساتھ بجھ گئیں، اندھیرا پہلے سے زیادہ گہرا تھا،...

تمام بتیاں ایک ساتھ بجھ گئیں، اندھیرا پہلے سے زیادہ گہرا تھا، کسی نے حرکت نہیں کی،دروازہ مت کھولنا، پھر راہداری سے ایک آواز آئی

مصنف: ارشادالعصر جعفریقسط: 25”وہ غائب ہے۔“عبدالودود نے فوراً زاور کی جیب دیکھی — خالی۔ وہ پیچھے ہٹا۔ ”یہ نہیں ہو سکتا۔“”کیا؟“”میں نے اسے تمہارے ہاتھ میں دیکھا تھا۔“”پھر؟“”پھر۔۔۔“ اس کی آواز رک گئی۔ فرش پر پڑے شیشے کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا اچانک ہلکا سا چمکا۔ زاور نے نیچے دیکھا — کانسی کا سکہ وہاں پڑا تھا، مگر اب اس پر ایک نیا نقش تھا: ایک انسان کے 4 قدم، پہلے 3 مکمل، چوتھا خالی۔سلمان نے آہستہ کہا: ”یہ ہمیں راستہ دکھا رہا ہے۔“عبدالودود نے سر ہلایا۔ ”نہیں، یہ راستہ نہیں دکھا رہا۔ یہ فیصلہ کر رہا ہے کہ راستہ کہاں ختم ہوگا۔“اسی لمحے راہداری کی تمام بتیاں ایک ساتھ بجھ گئیں۔ اس بار اندھیرا پہلے سے زیادہ گہرا تھا۔ کسی نے حرکت نہیں کی۔ پھر راہداری کے دور سرے سے ایک آواز آئی — ٹھپ۔ ایک قدم، پھر دوسرا — ٹھپ — پھر تیسرا — ٹھپ۔ سلمان نے سانس روک لی، عبدالودود نے آنکھیں بند کر لیں، زاور کے جسم میں خوف کی ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ چوتھا قدم آنے والا تھا۔مگر چوتھا قدم نہیں آیا۔ اس کے بجائے وہی آواز بالکل زاور کے کان کے قریب سنائی دی: ”تمہاری باری ہے۔“زاور نے آنکھیں بند کر لیں۔ ”میں نہیں آؤں گا۔“خاموشی۔ پھر آواز آئی: ”تم پہلے ہی آ چکے ہو۔“زاور نے آنکھیں کھول دیں۔ اس کے سامنے راہداری میں اب ایک دروازہ موجود تھا، ایسا دروازہ جو وہاں پہلے نہیں تھا — سیاہ لکڑی، پرانے لوہے کی کیلیں، اور دروازے کے وسط میں وہی نشان: انسان اور سانپ۔ دروازے کے نیچے سے باریک سی روشنی رِس رہی تھی، اندر کوئی چراغ جل رہا تھا۔سلمان نے دھیرے سے کہا: ”یہ دروازہ ابھی یہاں نہیں تھا۔“عبدالودود نے جواب دیا: ”یہاں دروازے نہیں بنتے، یادیں بنتی ہیں۔“زاور دروازے کے قریب گیا، ہاتھ بڑھایا، پھر روک لیا۔ دروازے کے دوسری طرف سے کسی نے بہت آہستہ دستک دی — ٹھک۔ ایک وقفہ۔ ٹھک۔ پھر تیسری دستک — ٹھک۔ زاور کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ دستک اس کے بچپن کی ایک بھولی ہوئی رات جیسی تھی — وہی وقفہ، وہی ترتیب، وہی خاموشی۔ اسے اچانک اپنی ماں کی آواز یاد آئی: ”اگر رات کو تین بار دستک ہو تو دروازہ مت کھولنا۔“(جاری ہے)نوٹ: ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں اکیسویں صدی کے آغاز تک فلمیں ریلوں کی شکل میں ہی مہیا کی جاتی تھیں، جن کو امریکی”اسپول“ کہتے تھے،پرنٹ بنوانا بہت مہنگا پڑتا تھا

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments