تاریخ میں بعض سربراہی اجلاس ایسے ہوتے ہیں جن کے فیصلے صرف سرکاری اعلامیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والے کئی برسوں کی عالمی سیاست، سلامتی کے تصورات اور طاقت کے توازن کو نئی سمت عطا کرتے ہیں۔ انقرہ میں منعقد ہونے والا نیٹو کا 36واں سربراہی اجلاس بھی بلاشبہ ان ہی تاریخی مواقع میں شمار کیا جائے گا۔ یہ اجلاس صرف دنیا کے سب سے طاقتور دفاعی اتحاد کے سربراہان کی رسمی ملاقات نہیں تھا بلکہ ایسے دور میں منعقد ہوا جب بین الاقوامی نظام دوسری جنگ عظیم کے بعد شاید اپنی سب سے بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ روس۔یوکرین جنگ نے یورپ کی سلامتی کو نئی تعریف دی ہے، مشرقِ وسطیٰ غزہ کی جنگ کے باعث غیر معمولی بے یقینی کا شکار ہے، بحرِ اسود عالمی طاقتوں کی نئی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے، مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی جنگ کے روایتی تصورات بدل رہی ہے جبکہ امریکہ، چین اور روس کے درمیان جاری سٹریٹیجک مقابلہ ایک نئے عالمی توازن کو جنم دے رہا ہے۔ ایسے غیر معمولی حالات میں ترکی کا نیٹو سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنا اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اکیسویں صدی کی عالمی سیاست میں انقرہ کو اب نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ گذشتہ ایک دہائی کے دوران ترکی نے جس انداز میں اپنی خارجہ پالیسی، دفاعی صنعت اور علاقائی سفارت کاری کو ازسرِ نو تشکیل دیا ہے، اس کے نتیجے میں وہ صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ یورپ، مشرقِ وسطیٰ، بحیرہ اسود، قفقاز اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک ناگزیر تزویراتی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انقرہ میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس دراصل نیٹو کے مستقبل کے ساتھ ساتھ ترکی کے عالمی مقام کا بھی امتحان تھا۔ سات جولائی، 2026 کی اس تصویر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے ہوائی اڈے پر ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے جو ان کا استقبال کر رہے ہیں(اے ایف پی) یہ حقیقت بھی کم اہم نہیں کہ ترکی نے 22 برس بعد دوسری مرتبہ (پہلی بار استنبول میں) اور اب پہلی مرتبہ اپنے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو کے سربراہان کی میزبانی کی۔ یہ علامتی تبدیلی دراصل ترکی کے اس نئے اعتماد کی عکاس ہے جس نے گذشتہ برسوں میں دفاع، معیشت اور سفارت کاری کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ماضی میں ترکی کو اکثر نیٹو کے جنوبی محاذ کے ایک اہم رکن کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن آج وہ اتحاد کی پالیسی سازی، دفاعی صنعت، علاقائی استحکام اور بحرانوں کے حل میں ایک فعال کردار ادا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ صدر رجب طیب اردوغان نے اجلاس کے اختتام پر اسے ’تاریخی‘ قرار دیا۔ اگر اس بیان کو محض سیاسی نعرہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے تو شاید اجلاس کی اصل اہمیت کو سمجھنا مشکل ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس اجلاس نے صرف دفاعی اخراجات میں اضافے یا مشترکہ فوجی منصوبوں پر اتفاق ہی نہیں کیا بلکہ نیٹو کے اندر ذمہ داریوں کی نئی تقسیم، جدید دفاعی ٹیکنالوجی، صنعتی تعاون، مصنوعی ذہانت، ڈرون جنگ، بحیرہ اسود کی سلامتی اور یورپی دفاعی خود مختاری جیسے بنیادی موضوعات پر مستقبل کی سمت بھی متعین کی۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو ترکی نے اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے اتحادیوں کے درمیان ایک ایسے پل کے طور پر سامنے آیا جس نے اختلافات کے باوجود مکالمے کو ممکن بنایا۔ گذشتہ چند برسوں میں مغربی ذرائع ابلاغ میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ ترکی نیٹو سے دور ہو رہا ہے، روس کے قریب جا رہا ہے یا مغرب کے ساتھ اس کے تعلقات ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو چکے ہیں۔ لیکن انقرہ کے اس سربراہی اجلاس نے ان تمام قیاس آرائیوں کو بڑی حد تک غلط ثابت کر دیا۔ اجلاس میں تمام رکن ممالک کی شرکت، امریکہ سمیت اہم مغربی رہنماؤں کی موجودگی اور ترکی کے کردار کی کھل کر تعریف اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ نیٹو کے لیے ترکی کی اہمیت کم ہونے کے بجائے پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ صرف ترکی کی جغرافیائی حیثیت نہیں بلکہ اس کی بڑھتی ہوئی عسکری اور صنعتی صلاحیت بھی ہے۔ گذشتہ دس برسوں میں ترکی نے اپنی دفاعی صنعت میں جس رفتار سے ترقی کی ہے، وہ مغربی دنیا کے لیے بھی حیرت کا باعث بنی ہے۔ ایک وقت تھا جب ترکی اپنی دفاعی ضروریات کا زیادہ تر انحصار بیرونی ممالک پر کرتا تھا، لیکن آج وہ جنگی بحری جہاز، بکتر بند گاڑیاں، جدید میزائل، فضائی دفاعی نظام، بغیر پائلٹ جنگی طیارے اور دنیا کے بہترین مسلح ڈرون تیار کرنے والے چند ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ سپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز، سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے اور نیدر لینڈز کے وزیر اعظم ڈک شوف 25 جون، 2025 کو دی ہیگ میں شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے سربراہانِ مملکت و حکومت کے اجلاس کے ایک عمومی سیشن میں شریک ہیں (اے ایف پی) Nato Trump. jpg, by bilal. mazhar اسی دفاعی خود کفالت نے ترکی کو صرف ہتھیار خریدنے والا ملک نہیں بلکہ اتحادی ممالک کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والا شراکت دار بھی بن رہا ہے۔ اجلاس میں ڈرون اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے لیے نیٹو کے نئے پروگرام کا اعلان، مشترکہ دفاعی پیداوار میں اضافے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور جدید دفاعی صنعت میں تعاون جیسے فیصلے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل کی جنگیں صرف فوجیوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور صنعتی صلاحیت سے جیتی جائیں گی۔ ان تمام شعبوں میں ترکی نے گذشتہ برسوں میں جو سرمایہ کاری کی ہے، اس کے ثمرات اب نیٹو کی اجتماعی حکمت عملی میں بھی نمایاں نظر آ رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران بحیرہ اسود کی سلامتی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ترکی، رومانیہ اور بلغاریہ کے درمیان سمندری تعاون میں توسیع صرف ایک علاقائی انتظام نہیں بلکہ روس۔یوکرین جنگ کے تناظر میں نیٹو کی نئی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ بحیرہ اسود اب توانائی، تجارت، بحری راستوں اور یورپی سلامتی کا اہم ترین مرکز بن چکا ہے، اور اس خطے میں ترکی کا کردار کسی بھی دوسرے اتحادی سے زیادہ مؤثر دکھائی دیتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اگر بیسویں صدی میں ترکی کی سب سے بڑی طاقت اس کا محلِ وقوع تھا تو اکیسویں صدی میں اس کی اصل قوت اس کی دفاعی خود کفالت، فعال سفارت کاری اور بحرانوں میں ثالثی کی صلاحیت بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج واشنگٹن، برسلز، لندن اور یورپی دارالحکومتوں میں ترکی کو محض ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک ناگزیر تزویراتی شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن یہ صورت حال کئی نئے سوالات کو بھی جنم دی رہی ہے۔ کیا امریکہ واقعی CAATSA پابندیاں ختم کر دے گا؟ کیا ترکی دوبارہ ایف-35 پروگرام کا حصہ بن سکے گا؟ کیا اسرائیل اور یونان کی مخالفت اس عمل کو متاثر کرے گی؟ کیا یورپ ترکی کو اپنے نئے دفاعی ڈھانچے میں مکمل شریک بنائے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا انقرہ میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس عالمی طاقتوں کے نئے توازن کا آغاز ثابت ہو گا؟ ان سوالات کے جوابات ہی دراصل اس سربراہی اجلاس کی حقیقی تاریخی اہمیت کا تعین کریں گے، اور یہی وہ پہلو ہیں جنہوں نے انقرہ کے اجلاس کو ایک معمول کی سفارتی سرگرمی کے بجائے عالمی سیاست کے ایک نئے باب کا پیش خیمہ بنا دیا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اگر انقرہ میں منعقد ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کی سب سے اہم سفارتی کامیابی کا انتخاب کیا جائے تو بلا شبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے CAATSA پابندیوں کے خاتمے اور ترکی کی ایف-35 پروگرام میں ممکنہ واپسی سے متعلق مثبت اشارے اس فہرست میں سرفہرست ہوں گے۔ بظاہر یہ صرف ایک دفاعی معاملہ دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اثرات نیٹو کی آئندہ حکمت عملی، امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی، یورپی سلامتی، بحیرۂ اسود کی تزویراتی صورتِ حال اور مشرقی بحیرۂ روم میں طاقت کے توازن تک پھیلے ہوئے ہیں۔ چند برس پہلے تک امریکہ اور ترکی کے تعلقات اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہے تھے۔ روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری کے بعد واشنگٹن نے نہ صرف ترکی کو ایف-35 پروگرام سے خارج کیا بلکہ CAATSA کے تحت پابندیاں بھی عائد کر دیں۔ اس وقت مغربی دنیا میں یہ تاثر عام تھا کہ ترکی بتدریج مغربی اتحاد سے دور اور روس کے قریب جا رہا ہے۔ لیکن عالمی سیاست میں مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتے، بلکہ مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ یہ تبدیلی کیوں آئی؟ اس کا پہلا سبب روس۔یوکرین جنگ ہے۔ اس جنگ نے نیٹو کو یہ احساس دلایا کہ ترکی صرف جغرافیائی اعتبار سے نہیں بلکہ عملی طور پر بھی اتحاد کے جنوب مشرقی محاذ کا سب سے مضبوط ستون ہے۔ آبنائے باسفورس اور داردانیلس پر ترکی کا کنٹرول، بحیرۂ اسود میں اس کا کردار، یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ مکالمہ برقرار رکھنے کی صلاحیت اور اناج معاہدے جیسے سفارتی اقدامات نے انقرہ کی اہمیت کئی گنا بڑھا دی۔ دوسرا گذشتہ ایک دہائی میں مقامی دفاعی صنعت نے جس رفتار سے ترقی کی، اس نے عالمی طاقتوں کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی پر مجبور کر دیا۔ بائراکتار اور آقنجی جیسے بغیر پائلٹ جنگی نظام، قومی جنگی بحری جہاز، جدید میزائل، فضائی دفاعی منصوبے اور اب ’چیلک قبہ‘ (Steel Dome) جیسے مربوط دفاعی نظام اس بات کا ثبوت ہیں کہ ترکی اب صرف دفاعی سامان درآمد کرنے والا ملک نہیں بلکہ جدید عسکری ٹیکنالوجی برآمد کرنے والی طاقت بن چکا ہے۔ تاہم وہیں دو ممالک کی تشویش بھی کھل کر سامنے آئی: اسرائیل اور یونان۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور یونانی وزیر اعظم کیریاکوس میچوتاکیس کی جانب سے امریکہ پر یہ دباؤ کہ ترکی کو ایف-35 جنگی طیارے نہ دیے جائیں، بظاہر ایک دفاعی مطالبہ ہے، مگر اس کے پس منظر میں مشرقی بحیرۂ روم اور مشرقِ وسطیٰ کی وسیع تر جغرافیائی سیاست کارفرما ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن11 جولائی 2024 کو 75ویں نیٹو سمٹ کے اختتام پر واشنگٹن میں والٹر ای واشنگٹن کنوینشن سینٹر میں نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی) یونان کو خدشہ ہے کہ اگر ترکی دوبارہ ایف-35 پروگرام کا حصہ بن جاتا ہے تو بحیرۂ ایجیئن اور مشرقی بحیرۂ روم میں طاقت کا توازن اس کے حق میں مزید تبدیل ہو جائے گا۔ گذشتہ چند برسوں میں یونان نے فرانس اور امریکہ سے جدید جنگی طیارے اور دفاعی نظام حاصل کیے ہیں۔ ایسے میں ترکی نہ صرف فضائی برتری کا توازن بدل سکتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری عسکری مقابلے کو بھی نئی شکل دے سکتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کی تشویش کی نوعیت مختلف ہے۔ غزہ جارحیت کے بعد ترکی اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ صدر رجب طیب اردوغان نے نہ صرف غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر سخت تنقید کی بلکہ فلسطینی عوام کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بھی بنایا۔ اسرائیل کے بعض تزویراتی حلقے اس بات سے خائف ہیں کہ ایک مضبوط، خود کفیل اور جدید عسکری صلاحیت رکھنے والا ترکی مستقبل میں مشرق وسطی کے سیاسی اور عسکری توازن پر زیادہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ انقرہ اجلاس نے ایک اور اہم حقیقت بھی واضح کر دی۔ امریکہ اب اپنے روایتی اتحادی اسرائیل اور اپنی وسیع تر تزویراتی ضروریات کے درمیان زیادہ متوازن پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ واشنگٹن کے لیے ترکی صرف ایک اتحادی نہیں بلکہ یورپ، قفقاز، بحیرۂ اسود، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کو جوڑنے والا ناگزیر تزویراتی مرکز بن چکا ہے۔ اسی تناظر میں CAATSA پابندیوں کا ممکنہ خاتمہ صرف دو طرفہ تعلقات کی بحالی نہیں بلکہ نیٹو کے اندر اعتماد کی فضا بحال کرنے کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔ اگر یہ عمل عملی صورت اختیار کرتا ہے تو اس سے نہ صرف ترکی اور امریکہ کے تعلقات میں نئی روح پیدا ہو گی بلکہ نیٹو کے جنوبی محاذ کی مجموعی دفاعی صلاحیت بھی مضبوط ہو گی۔ انقرہ میں منعقد ہونے والے نیٹو کے 36ویں سربراہی اجلاس نے ایک اور اہم حقیقت بھی واضح کر دی کہ اکیسویں صدی کا عالمی نظام اب یک قطبی نہیں رہا۔ موجودہ پیچیدہ ماحول میں وہی ممالک زیادہ مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں جو بیک وقت عسکری صلاحیت، معاشی استحکام، سفارتی لچک اور جغرافیائی اہمیت کو یکجا کرنے میں کامیاب ہیں۔ ترکی ان ہی چند ممالک میں نمایاں نظر آتا ہے۔ اسی اجلاس میں برطانیہ اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے معاہدے، بحیرۂ اسود میں سلامتی کے اقدامات، ڈرون ایج انیشی ایٹو اور دفاعی صنعت فورم کے فیصلے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل کی جنگیں صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ تحقیق، مصنوعی ذہانت، صنعتی پیداوار، سائبر سیکورٹی اور جدید ٹیکنالوجی کی لیبارٹریوں میں بھی لڑی جائیں گی۔ ترکی نے گذشتہ برسوں میں انہی شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ یورپی یونین کی رکنیت کا مسئلہ بھی اس اجلاس کے دوران ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث آیا۔ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے جاری اس عمل نے ترکی اور یورپ کے تعلقات میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، لیکن موجودہ علاقائی اور عالمی حالات یہ سوال دوبارہ اٹھا رہے ہیں کہ کیا یورپ اپنی سلامتی کی نئی حکمت عملی میں ترکی کو طویل عرصے تک حاشیہ پر رکھ سکتا ہے؟ اگر یورپی دفاعی منصوبوں کا مقصد واقعی پورے یورو۔اٹلانٹک خطے کا تحفظ ہے تو پھر ترکی کو اس کا لازمی حصہ بنانا محض سیاسی انتخاب نہیں بلکہ تزویراتی ضرورت بھی بن سکتا ہے۔ حقیقی آزمائش اب شروع ہوتی ہے۔ CAATSA پابندیوں کے خاتمے، ایف-35 پروگرام میں ممکنہ واپسی، یورپی دفاعی منصوبوں میں مؤثر شمولیت، مشرق وسطی میں امن، روس۔یوکرین تنازع کے حل اور نیٹو کے اندر پائیدار اعتماد کی بحالی جیسے اہداف ابھی مکمل ہونا باقی ہیں۔ شاید یہی اس تاریخی اجلاس کا سب سے بڑا پیغام ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں وہی ریاستیں مستقبل کی قیادت کریں گی جو اختلافات کو محاذ آرائی کے بجائے تعاون میں بدلنے، اپنی دفاعی قوت کو سفارتی بصیرت کے ساتھ جوڑنے اور قومی مفادات کو عالمی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ انقرہ نے اس سمت ایک مضبوط قدم اٹھایا ہے۔ ڈاکٹر فرقان حمید ترکیہ (ترکی) میں مقیم ایک صحافی، کالم نگار اور تجزیہ کار ہیں۔ وہ ترک سرکاری نشریاتی ادارے TRT اردو کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔ نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ترکی نیٹو انقرہ امریکہ دفاعی ٹیکنالوجی نیٹو اجلاس صرف دنیا کے سب سے طاقتور دفاعی اتحاد کے سربراہان کی رسمی ملاقات نہیں تھا بلکہ ایسے دور میں منعقد ہوا جب بین الاقوامی نظام دوسری جنگ عظیم کے بعد شاید اپنی سب سے بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ ڈاکٹر فرقان حمید اتوار, جولائی 12, 2026 – 07: 45 Main image:
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران انقرة میں 8 جولائی 2026کو تصویر بنوا رہے ہیں (اے ایف پی)
میگزین type: news related nodes: ایران کا نیٹو پر امریکی اسرائیلی جنگ میں ساتھ دینے کا الزام صدر ٹرمپ نے نیٹو کو ’بزدل‘ اور ’کاغذی شیر‘ قرار دے دیا ترکی قریبی اتحادی، ایف 35 فروخت کرنے پر غور کریں گے: ٹرمپ کیا ترکی اور سعودی عرب مل کر خطے کا نیا تجارتی نقشہ بدلنے جا رہے ہیں؟ SEO Title: ترکی کو انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کی میزبانی سے کیا ملا؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



