پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے ممکنہ مارچ کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال شدید ترین کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے رہنما ایک دوسرے پر تنقید کے تیر چلا رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک کے مختلف حصوں سے تقریباً 1500 پارٹی ورکرز، متعدد اراکینِ قومی اسمبلی، صوبائی قانون سازوں اور ایک سینیٹر کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور فیملی کے چار افراد کی گرفتاری خالصتاً سیاسی انتقام ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق، مینٹیننس آف پبلک آرڈر یعنی ایم پی او کے تحت قومی اسمبلی کے اہم اراکین عادل بزنجو، میاں احسن جمال، اور ثناء اللہ مستی خیل سمیت سینیٹر سیف اللہ نیازی اور دیگر علاقائی رہنماؤں کو تحویل میں لیا گیا ہے۔ اس حراستی کارروائی میں پولیس نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خاندانی افراد کو بھی شامل کیا ہے۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں کی جانے والی ان کارروائیوں کے دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان، اور نورین نیازی کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ بیرسٹڑ گوہر نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں باقاعدہ نوٹیفکیشن کے بغیر ہی عملًا گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے، صوبے میں ارکان ہمارے ہیں لیکن اختیار کسی اور کا چلتا ہے، یہ صورتحال جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور پورے صوبے کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد اور پنجاب کی انتظامیہ نے ممکنہ مارچ کو روکنے اور امن و امان کی بحالی کے لیے انتہائی سخت انتظامات کر لیے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 اور پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر ایکٹ نافذ کر دیا گیا ہے، جس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تین سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں کسی بھی قسم کے اجتماع کی اجازت بالکل نہیں دی جائے گی۔ خیبرپختونخوا سے پنجاب اور اسلام آباد انٹری کو روکنے کے لیے موٹرویز اور شاہراہوں پر کنٹینرز لگا کر راستے مسدود کر دیے گئے ہیں۔ ایم ون پر اٹک، غازی انٹرچینج اور چھچھ سے اسلام آباد ٹول پلازہ جانے والے راستے بند ہیں، جبکہ تعلیمی ادارے بند کر کے تمام کلاسز آن لائن منعقد کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پشاور میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے صوبے کی ابتر حالت پر توجہ دینے کے بجائے اسلام آباد پر چڑھائی کرنا چاہتی ہے، ان کے اپنے صوبے میں آگ لگی ہے اور یہ لاہور پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ٹک ٹاک اور صرف سوشل میڈیا کی سیاست کر رہی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے سابق رہنما شیر افضل مروت نے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے بغیر کسی تیاری کے قدم اٹھا کر خود کو بند گلی میں کھڑا کر دیا ہے اور کارکنوں کو بھی نہیں معلوم کہ مارچ کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت انا اور تکبر کا شکار ہے، جبکہ اگر وزیراعظم باہر سے بیرسٹر گوہر کو ایک فون کر لیں تو پی ٹی آئی کو فیس سیونگ مل سکتی ہے۔



