75.2 F
Pakistan
Tuesday, September 15, 2026
HomeTechnologyبے قابو اے آئی کو قید کرنے کے لیے گوگل نے اینڈرائیڈ...

بے قابو اے آئی کو قید کرنے کے لیے گوگل نے اینڈرائیڈ سافٹ ویئر میں نیا ‘ڈیجیٹل پنجرہ’ بنا دیا

گوگل نے اینڈرائیڈ کے اندر ایک ایسا سکیورٹی فریم ورک تیار کر لیا ہے جو مستقبل میں خودکار اے آئی ایجنٹس کو موبائل ایپس میں مختلف کام انجام دینے کی ’اجازت‘ دے گا۔ اس نظام کے ذریعے گوگل یہ طے کر سکے گا کہ اے آئی ایجنٹس کو کن ایپس اور فیچرز تک رسائی حاصل ہوگی اور وہ صارف کی جانب سے کون سے کام انجام دے سکیں گے۔ ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹ اینڈرائیڈ پولیس کے مطابق، یہ نظام اینڈرائیڈ کے اندر پہلے ہی موجود ہے اور اسے ”ایگزیکٹو ایپ فنکشنز“ نامی اجازت کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اجازت عام اینڈرائیڈ سیٹنگز یا ڈویلپر آپشنز میں نظر نہیں آتی۔ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور عام صارفین کے لیے مکمل طور پر دستیاب نہیں کی گئی۔ اے آئی ایجنٹس کے لیے مخصوص اجازت یہ اجازت اینڈرائیڈ کے ایپ فنکشنزمینیجر فریم ورک کا حصہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ طے کرنا ہے کہ کوئی اے آئی اسسٹنٹ دوسری ایپس میں موجود مخصوص فنکشنز کو تلاش اور استعمال کر سکتا ہے یا نہیں۔ اس طریقے میں اے آئی کو انسان کی طرح موبائل اسکرین پر بٹن تلاش کرکے انہیں دبانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے ایپ بنانے والے پہلے سے طے شدہ کام اینڈرائیڈ کے سامنے پیش کر سکیں گے، جنہیں اجازت ملنے کی صورت میں اے آئی اسسٹنٹ براہ راست لیکن دی گئی اجازت کے ساتھ استعمال کر سکے گا۔ مثال کے طور پر، اگر کسی رائیڈ بکنگ ایپ نے اپنی مخصوص سروس کو اس نظام کے لیے دستیاب کیا ہو تو اے آئی ایجنٹ پوری ایپ کھول کر مختلف مینیو میں جانے کے بجائے براہ راست رائیڈ بک کرنے والے فنکشن کو استعمال کر سکے گا۔ اس طریقے سے اے آئی کے لیے موبائل استعمال کرنا زیادہ منظم اور قابلِ اعتماد ہو سکتا ہے۔ اے آئی ایجنٹس کے لیے ڈیجیٹل پنجرہ تیار موجودہ دور میں اے آئی ایجنٹس کے لیے ایک ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ وہ موبائل کی اسکرین کو دیکھیں، بٹنوں کی شناخت کریں اور پھر انسان کی طرح انہیں دبائیں۔ یہ طریقہ بعض حالات میں کام کر سکتا ہے، لیکن اس میں مسائل بھی ہیں۔ اگر کسی ایپ کے ڈیزائن میں تبدیلی آ جائے، بٹن اپنی جگہ تبدیل کر لے یا مینیو کا انداز بدل جائے تو ایسا اے آئی ایجنٹ درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ سکتا ہے۔ ایپ فنکشنز کا تصور اس مسئلے کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں اے آئی کو اسکرین کے ظاہری ڈیزائن پر انحصار کرنے کے بجائے ایپ کے پہلے سے متعین فنکشنز تک رسائی دی جاتی ہے۔ یوں ایپ کا ڈیزائن تبدیل ہونے کے باوجود بنیادی کام وہی رہ سکتا ہے۔ اس نظام کا ایک اہم پہلو سکیوریٹی ہے۔ اینڈرائیڈ اس بات کو زیادہ واضح انداز میں کنٹرول کر سکتا ہے کہ اے آئی ایجنٹ کو کون سا کام کرنے کی اجازت ہے اور کون سا نہیں۔ یہ معاملہ اس وقت زیادہ اہم ہو جائے گا جب اے آئی ایجنٹس پیغامات بھیجنے، ادائیگیاں کرنے یا ذاتی معلومات استعمال کرنے جیسے حساس کام انجام دینے لگیں گے۔ اگرچہ اینڈرائیڈ میں اس نظام کی بنیاد موجود ہے، لیکن اس کا عملی استعمال ابھی بہت محدود ہے۔ گوگل فی الحال رسائی کو محدود تعداد میں منظور شدہ ٹیسٹرز تک رکھے ہوئے ہے، جبکہ ایپ فنکشنز کے کئی حصے اب بھی پری ویو یا الفا مرحلے میں ہیں۔ اس کے علاوہ زیادہ تر اینڈرائیڈ ایپس نے ابھی وہ فنکشنز دستیاب نہیں کیے جنہیں اے آئی ایجنٹس استعمال کر سکیں۔ اسی وجہ سے عام صارف کے لیے اس ٹیکنالوجی کی عملی افادیت فی الحال بہت کم ہے۔ یعنی گوگل نے پنجرہ تو تیار کر لیا ہے، لیکن اس میں رکھنے کے لیے اے آئی ایجنٹس اور ان کے ساتھ کام کرنے والی ایپس کا پورا ماحول ابھی تیار نہیں ہوا۔ گوگل نے سکیورٹی پہلے کیوں تیار کی؟ اے آئی ایجنٹس کی خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف معلومات فراہم نہیں کرتے بلکہ صارف کی جانب سے عملی اقدامات بھی کر سکتے ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں روایتی اے آئی اسسٹنٹس کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک بناتی ہے۔ ماضی میں اینڈرائیڈ کے بعض فیچرز، جیسے لوکیشن، نوٹیفکیشنز اور پسِ منظر میں کام کرنے والی سرگرمیوں کے لیے اجازتوں کو وقت کے ساتھ زیادہ سخت بنایا گیا۔ اے آئی ایجنٹس کے معاملے میں گوگل بظاہر ابتدا ہی سے زیادہ واضح اجازتوں اور حدود کا نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔ اگر کوئی اے آئی ایجنٹ صارف کی طرف سے خود کوئی پیغام بھیج سکتا ہے، خریداری کر سکتا ہے یا حساس معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے تو اس کے لیے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ ’اسے کن کاموں کی اجازت‘ حاصل ہے۔ جیمنائی کے لیے مستقبل کی بنیاد گوگل اپنے جیمنائی اے آئی کو پہلے ہی مختلف ایپس اور سروسز میں زیادہ فعال بنانے پر کام کر رہا ہے۔ کمپنی ایسے اے آئی ایجنٹس پر بھی توجہ دے رہی ہے جو جی میل، ڈاکس، کروم اور دیگر سروسز میں صارف کی جانب سے مختلف کام مکمل کر سکیں۔ اینڈرائیڈ کا ایپ فنکشنز سسٹم اسی تصور کو موبائل آپریٹنگ سسٹم کی سطح پر عملی شکل دینے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاہم فی الحال اسے ایک مکمل صارف فیچر کے بجائے مستقبل کی ٹیکنالوجی کی بنیاد سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔ اینڈرائیڈ کے اندر اے آئی ایجنٹس کو قابو میں رکھنے کے لیے سکیورٹی ڈھانچہ تیار ہے، لیکن اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے ابھی ڈویلپرز، ایپس اور اے آئی اسسٹنٹس کے پورے ماحولیاتی نظام کو تیار ہونا باقی ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments