بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے کھلاڑیوں کی فٹنس اور انتخاب کے حوالے سے اپنی پالیسی میں اہم تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں زخمی کھلاڑیوں کو مکمل فٹ ہوئے بغیر قومی ٹیم میں شامل کرنے کے معاملے پر بورڈ کے میڈیکل اور فٹنس نظام کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ افغانستان کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے لیے بھارتی اسکواڈ کا اعلان کرتے ہوئے بورڈ نے جسپریت بمراہ، نتیش کمار ریڈی، واشنگٹن سندر اور ہرشت رائنا کے ناموں کے ساتھ خصوصی نشان لگایا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کھلاڑیوں کا ٹیم میں شامل ہونا ان کی فٹنس ٹیسٹ پاس کرنے سے مشروط ہے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق بی سی سی آئی اب کسی کھلاڑی کو اسکواڈ میں شامل کرنے سے پہلے اس کی فٹنس کے بارے میں زیادہ محتاط فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔ رپورٹ میں ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بورڈ اب صرف 100 فیصد نہیں بلکہ 200 فیصد یقین کے بعد ہی کسی کھلاڑی کی دستیابی پر بھروسا کرنا چاہتا ہے، تاکہ بعد میں فٹنس مسئلے کے باعث اسے ٹیم سے باہر نہ ہونا پڑے۔ حالیہ عرصے میں بھارتی ٹیم کے کئی کھلاڑی فٹنس سے متعلق مسائل کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہوئے ہیں۔ ہرشت رائنا، جسپریت بمراہ، واشنگٹن سندر اور نتیش کمار ریڈی ان کھلاڑیوں میں شامل رہے جنہیں بین الاقوامی ذمہ داریوں کے لیے اسکواڈ میں جگہ ملی، لیکن بعد میں ان کی انجری یا مکمل فٹنس نہ ہونے کے باعث ٹیم میں شامل نہ رہ سکے۔ ان واقعات کے بعد بی سی سی آئی کے سینٹر آف ایکسیلینس کے کھلاڑیوں کی انجری سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھے۔ سینٹر آف ایکسیلینس کے سربراہ اور سابق بھارتی کرکٹر وی وی ایس لکشمن نے اس معاملے پر بورڈ کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فٹنس سے متعلق معلومات اور انتخاب کے عمل میں شفافیت رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق کھلاڑیوں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی قومی سیریز میں کھیلنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہیں اور ان کے معاملے میں کھلاڑی اور ٹیم، دونوں کے مفاد کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ لکشمن کے مطابق جب کسی ایسے کھلاڑی کو منتخب کیا جاتا ہے جو اس وقت مکمل فٹ نہیں ہوتا، تو اس انتخاب کے ساتھ واضح طور پر یہ شرط بتائی جاتی ہے کہ کھلاڑی کو فٹنس ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا۔ اس صورت میں سلیکٹرز کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر متعلقہ کھلاڑی فٹنس ٹیسٹ میں کامیاب نہ ہو سکا تو اس کی جگہ کون سا کھلاڑی ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائکیا نے بھی اس طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بین الاقوامی سیریز کے لیے اسکواڈ کا انتخاب اکثر تین سے چار ہفتے پہلے کیا جاتا ہے۔ اس دوران کسی کھلاڑی کی فٹنس میں بہتری آ سکتی ہے، اس لیے انتخاب کے وقت مکمل فٹ نہ ہونے کے باوجود اسے مشروط طور پر اسکواڈ میں رکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر انتخاب کے وقت کوئی کھلاڑی فٹ نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اگلے 21 یا 28 دن تک بھی لازماً فٹ نہیں ہوگا۔ اگر وہ سفر یا میچ سے پہلے مکمل طور پر فٹ ہو جاتا ہے تو اسے ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بی سی سی آئی ایسے کھلاڑیوں کے نام مکمل طور پر خارج کرنے کے بجائے ان کے انتخاب کو فٹنس سے مشروط کر رہا ہے۔ افغانستان کے خلاف سیریز کے حوالے سے بمراہ اور نتیش کمار ریڈی کی فٹنس کے بارے میں فی الحال مثبت اشارے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں 13 ستمبر کو دہلی میں ہونے والے پہلے ٹی ٹوئنٹی سے قبل مکمل فٹ ہو سکتے ہیں۔ تاہم ہرشت رائنا اور واشنگٹن سندر کی صورتِحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی کا سینٹر آف ایکسیلینس ان دونوں کھلاڑیوں کے معاملے میں کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا. نئی پالیسی کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ کسی کھلاڑی کو وقت سے پہلے فٹ قرار دینے کے بجائے اس کی دستیابی کے بارے میں زیادہ محتاط فیصلہ کیا جائے، تاکہ ٹیم کو آخری وقت میں تبدیلیوں اور غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کم سے کم ہو۔



