71.3 F
Pakistan
Wednesday, September 9, 2026
HomeEnvironmentبھارتی سائنس دانوں کا نیا کارنامہ: گھروں کی مضبوطی کے لیے انسانی...

بھارتی سائنس دانوں کا نیا کارنامہ: گھروں کی مضبوطی کے لیے انسانی فضلے کا استعمال

بھارتی سائنس دانوں نے انسانی فضلے سے حاصل ہونے والے سیوریج کیچڑ کو ایک مفید تعمیراتی مادے میں تبدیل کرکے کنکریٹ میں استعمال کیا ہے۔ ابتدائی تجربات میں اس طریقے سے تیار کیے گئے کنکریٹ کی بعض خصوصیات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جبکہ 10 فیصد بائیوچار شامل کرنے سے 91 دن بعد اس کی خم برداشت کرنے کی طاقت میں 42 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تحقیق منی پال یونیورسٹی جے پور کے سول انجینئر رگھوویش تیواری اور ان کے ساتھی محققین نے کی اور سائنسی جریدے ’سائنٹیفک رپورٹس‘ میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جانچنا تھا کہ سیوریج ٹریٹمنٹ کے بعد بچ جانے والے فیکل سلج یعنی انسانی فضلے سے حاصل ہونے والے کیچڑ سے تیار کیا گیا بائیوچار کنکریٹ میں سیمنٹ کے ایک حصے کا متبادل بن سکتا ہے یا نہیں۔ محققین نے بھارت کے شہر ورنگل میں قائم فیکل سلج ٹریٹمنٹ پلانٹ سے حاصل شدہ کیچڑ کو پہلے خشک کیا۔ اس کے بعد اسے کم آکسیجن والے ماحول میں 350 سے 450 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر گرم کیا گیا، جس سے کاربن سے بھرپور مادہ یعنی بائیوچار تیار ہوا۔ اسے باریک پاؤڈر میں تبدیل کرکے کنکریٹ کے آمیزے میں شامل کیا گیا۔ تجربات کے دوران عام کنکریٹ میں استعمال ہونے والے سیمنٹ کے 5، 10 اور 15 فیصد حصے کو بائیوچار سے تبدیل کیا گیا۔ محققین نے مختلف نمونوں کو مقررہ مدت تک مضبوط ہونے دیا اور پھر ان کی دباؤ برداشت کرنے کی طاقت، خم برداشت کرنے کی طاقت، پانی جذب کرنے، سکڑاؤ، مسامیت اور دیگر خصوصیات کا جائزہ لیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ محدود مقدار میں بائیوچار شامل کرنے سے کنکریٹ کی مضبوطی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ پانچ فیصد بائیوچار والے نمونے میں 91 دن بعد دباؤ برداشت کرنے کی طاقت تقریباً 20 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی، جبکہ خم برداشت کرنے کی طاقت میں تقریباً 36 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ دس فیصد بائیوچار والے کنکریٹ میں دباؤ برداشت کرنے کی طاقت تقریباً 21 فیصد بڑھی، جبکہ خم برداشت کرنے کی طاقت میں اضافہ 42 فیصد تک پہنچ گیا۔ محققین کے مطابق بائیوچار کی خاص اندرونی ساخت اس بہتری کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ اس میں موجود باریک مسام پانی کو جذب کرکے اسے آہستہ آہستہ خارج کرسکتے ہیں۔ اس سے کنکریٹ کے اندر سیمنٹ کے سخت ہونے سے متعلق کیمیائی عمل کو مدد ملنے کا امکان ہے۔ تحقیق میں بائیوچار کے کیمیائی اجزا، خصوصاً سلیکا کی موجودگی کو بھی کنکریٹ کے اندر ایسے مرکبات کی تشکیل سے جوڑا گیا ہے جو اس کی مضبوطی میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ تاہم تحقیق نے یہ بھی واضح کیا کہ بائیوچار کی مقدار بڑھانے سے نتائج لازماً بہتر نہیں ہوتے۔ جب سیمنٹ کے 15 فیصد حصے کو بائیوچار سے تبدیل کیا گیا تو کنکریٹ میں مسامیت اور دراڑوں میں اضافہ دیکھا گیا اور اس کی مجموعی کارکردگی کم ہوگئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائیوچار کی مناسب مقدار کا تعین اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کے لیے اہم ہوگا۔ محققین نے اس مواد کو فوری طور پر تعمیراتی منصوبوں میں استعمال کرنے کی تائید نہیں کی۔ ان کے مطابق مزید تحقیق کے ذریعے یہ جانچنا ضروری ہے کہ بائیوچار والے کنکریٹ پر شدید درجہ حرارت، نمکیاتی ماحول، جمنے اور پگھلنے کے مسلسل عمل اور طویل عرصے تک مختلف موسمی حالات کا کیا اثر پڑتا ہے۔ سیوریج سے حاصل ہونے والے مادے کے استعمال میں ماحولیاتی اور صحت سے متعلق سوالات بھی اہم ہیں۔ تحقیق میں اس بات پر مزید جائزے کی ضرورت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایسے مواد میں موجود ممکنہ بھاری دھاتیں کنکریٹ سے خارج تو نہیں ہوتیں۔ اس لیے اگرچہ ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن بڑے پیمانے پر تعمیراتی استعمال سے پہلے اس ٹیکنالوجی کی پائیداری، حفاظت اور ماحولیاتی اثرات کی مزید جانچ ضروری ہے۔ تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مناسب طریقے سے ٹریٹ کیے گئے فیکل سلج سے تیار بائیوچار کو کنکریٹ میں محدود مقدار میں استعمال کرکے ایک طرف فضلے کے دوبارہ استعمال کا راستہ پیدا کیا جاسکتا ہے اور دوسری طرف کنکریٹ کی بعض میکانی خصوصیات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ تاہم موجودہ نتائج کو روایتی کنکریٹ کے ثابت شدہ متبادل کے طور پر دیکھنے کے بجائے ابتدائی تحقیقی شواہد کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments