69.7 F
Pakistan
Thursday, October 8, 2026
HomeHealthبچہ رات کو منہ کھول کر سوتا ہے؟ اس عادت کو نظرانداز...

بچہ رات کو منہ کھول کر سوتا ہے؟ اس عادت کو نظرانداز نہ کریں

اگر کوئی بچہ دن کے زیادہ تر وقت منہ سے سانس لیتا ہے تو والدین اسے صرف عادت سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ خاص طور پر اگر بچہ رات کو منہ کھول کر سوتا ہو، خراٹے لیتا ہو، منہ خشک ہونے کی شکایت کرے یا سانس لیتے وقت آواز آئے تو اس کی وجہ جاننا ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے شوق سے منہ سے سانس نہیں لیتے بلکہ جب ناک سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے تو جسم مجبوری میں ہوا حاصل کرنے کا یہ راستہ چنتا ہے۔ والدین اکثر یہ بات رات کے وقت نوٹس کرتے ہیں جب بچے کا منہ سوتے وقت کھل جاتا ہے، ہلکے زکام کی آواز آتی ہے یا وہ صبح خشک منہ کے ساتھ اٹھتا ہے۔ ناک بند ہونے کی عام وجوہات بچے کی ناک مسلسل بند رہنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ الرجی، بار بار نزلہ یا ناک بند ہونا، ناک کی اندرونی ساخت میں مسئلہ اور ناک کے اندر موجود ٹشوز کا بڑھ جانا اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔ بچوں میں ایک عام وجہ ایڈینوئڈز کا بڑھ جانا بھی ہے۔ ایڈینوئڈز ناک کے پیچھے، ناک اور گلے کے درمیان موجود نرم ٹشوز ہوتے ہیں۔ جب یہ زیادہ بڑھ جائیں تو ناک سے گلے تک ہوا جانے کا راستہ تنگ ہوسکتا ہے۔ ایسے میں بچے کو ناک کے بجائے منہ سے سانس لینا آسان لگتا ہے۔ رات کی نیند پر نظر رکھیں بچے کے سونے کا انداز بھی اس مسئلے کی اہم علامت ہوسکتا ہے۔ اگر بچہ منہ کھول کر سوتا ہے، مسلسل خراٹے لیتا ہے، نیند میں بار بار کروٹیں بدلتا ہے یا سانس لینے کے لیے گردن پیچھے کی طرف کرتا ہے تو والدین کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔ کچھ بچوں میں نیند کے دوران سانس رکنے، اچانک ہانپنے یا بار بار آنکھ کھلنے کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔ یہ نیند کے دوران سانس میں رکاوٹ کی علامات ہوسکتی ہیں۔ تاہم ہر بچے کے خراٹے لینے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے سلیپ ایپنیا ہے، لیکن مسلسل خراٹے اور منہ سے سانس لینے کے مسئلے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ دن کے وقت بھی اثرات نظر آسکتے ہیں ناک سے ٹھیک طرح سانس نہ لے پانے کا اثر صرف رات کی نیند تک محدود نہیں رہتا۔ بعض بچے مناسب وقت سونے کے باوجود صبح تھکے ہوئے اٹھ سکتے ہیں۔ انہیں منہ خشک ہونے، صبح سر درد، چڑچڑے پن یا توجہ مرکوز کرنے میں مشکل ہوسکتی ہے۔ کچھ بچوں میں نیند متاثر ہونے کی وجہ سے رویے اور پڑھائی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے والدین کو صرف خراٹوں پر نہیں بلکہ بچے کی نیند اور دن بھر کے رویے پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ ہر بار سرجری ضروری نہیں اگر بچے کے ایڈینوئڈز یا ٹانسلز بڑھے ہوئے ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے لازماً سرجری کی ضرورت ہے۔ کچھ بچوں میں یہ ٹشوز بڑے ہونے کے باوجود سانس لینے میں خاص مشکل نہیں ہوتی، جبکہ بعض بچوں کو ناک بند ہونے، خراٹوں یا نیند میں سانس کی رکاوٹ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ علاج بچے کی حالت اور مسئلے کی وجہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں الرجی یا ناک کی سوزش کا علاج کرنے سے ناک بند ہونے کا مسئلہ بہتر ہوسکتا ہے۔ اگر رکاوٹ کی وجہ سے بچے کو سانس لینے یا سونے میں زیادہ دشواری ہو تو ڈاکٹر سرجری پر غور کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق دو بچوں میں منہ سے سانس لینے کی علامات ایک جیسی ہوسکتی ہیں، لیکن ان کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں۔ ان کے نزدیک بچے کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’منہ بند رکھو‘‘ بلکہ پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اسے ناک سے سانس لینے میں مشکل کیوں ہورہی ہے۔ اگر بچہ صرف نزلہ یا زکام کے دوران چند دن منہ سے سانس لیتا ہے تو یہ عارضی مسئلہ ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر منہ سے سانس لینا روز کا معمول بن گیا ہے اور اس کے ساتھ مسلسل ناک بند رہتی ہے، خراٹے آتے ہیں، نیند میں بے چینی ہوتی ہے، کانوں کے مسائل بار بار ہوتے ہیں یا سانس لیتے وقت آواز آتی ہے تو بچے کا معائنہ کروانا بہتر ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments