81.7 F
Pakistan
Sunday, July 26, 2026
HomeCrimeبلوچستان: کیا وزیر اعلیٰ اور سیاسی قیادت بری الذمہ ہیں؟

بلوچستان: کیا وزیر اعلیٰ اور سیاسی قیادت بری الذمہ ہیں؟

بلوچستان میں حالیہ پرتشدد واقعات وہاں حالات کی سنگینی کا اشارہ دیتے ہیں لیکن کیا تشویش ناک صورت حال کی ذمہ داری صرف چند عناصر پر ڈالی جا سکتی ہے یا ذمہ داری کا ایک بڑا بوجھ سیاسی قیادت پر بھی آنا چاہیے؟ صوبے میں امن و امان کی تشویش ناک صورت حال وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی کارکردگی پہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جبکہ سماجی اور معاشی پسماندگی کے حوالے سے بھی صوبائی حکومت کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بلوچستان کے تشویش ناک حالات نے ہر محب وطن پاکستانی کو پریشان کیا ہوا ہے۔ صوبے کے کئی علاقوں میں عسکریت پسند نہ صرف کھلم کھلا کارروائیاں کر رہے ہیں بلکہ وہ مزدور اور دوسرے نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والے غیر بلوچ افراد کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ریاست کی طرف سے سخت کارروائیاں بھی اس صورت حال کو گمبھیر بنا رہی ہیں لیکن کیی لوگ صوبے کے مسائل کی ایک بڑی وجہ نااہل صوبائی قیادت کو قرار دیتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے اراکین اور نوکرشاہی کی ایک بڑی تعداد کو صوبے کے عوام کرپٹ سمجھتے ہیں جبکہ وزیر اعلی سرفراز بگٹی کی ساری توجہ صرف اپنے حلقے کے ترقیاتی کاموں پر ہے۔ صوبے میں مجموعی طور پر سماجی ترقی کا گراف انتہائی نیچے ہے۔ الف اعلان اور وفاقی حکومت کے سروے کے مطابق معدنیات سے مالا مال اس صوبے میں بے روزگاری کی شرح 13 سے لے کر 15 فیصد تک ہے جبکہ قومی سطح پر یہ شرح 6 فیصد ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح اس سے بھی زیادہ اونچی ہے جو تقریبا 23 سے 27 فیصد ہے جب کہ 17 سے 19 لاکھ کے قریب بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ صوبے کے 46 فیصد بچوں کے قد غذائی قلت کی وجہ سے نہیں بڑھیں گے۔ 18 فیصد بچے سوکھے پن کا شکار ہیں جبکہ 32 فیصد کے وزن کم ہے۔ وفاقی نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی 20 ستمبر، 2023 کو ہنگو اور بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملوں کی مذمت کر رہے ہیں (سرفراز بگٹی/ ایکس) صوبے کی خواتین بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں اور تقریبا 25 لاکھ کے قریب خواتین غذائی قلت کا شکار ہیں۔ 62 فیصد کے قریب خون کی کمی میں مبتلا ہیں اور 25 فیصد خواتین کا غذائی قلت کی وجہ سے وزن کم ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان مقامی مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے کسی افسر کی یا وزیراعلی اور ان کی منتخب کابینہ کی ہے؟ یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسی پالیسیاں لے کر آئے جس سے بے روزگاری کا تدارک کیا جا سکے اور غذائی قلت کے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ صوبائی حکومت نے زندگی کی بنیادی ضروریات پر بھی کوئی توجہ نہیں دی ہے اور صوبے میں صرف 22 سے 25 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔ تقریبا 62 فیصد عوام کے پاس بنیادی صحت کی سہولت نہیں ہے۔ 30 فیصد بنیادی صحت کے مراکز سٹاف کی کمی کا شکار ہیں جبکہ صوبے کے 32 فیصد افراد کے پاس نکاسی آب کا کوئی بہتر نظام نہیں ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) تعلیم کی صورت حال بھی بدتر ہے۔ صوبے میں تقریبا 24 فیصد سکول غیر فعال ہیں جن کو گھوسٹ سکول بھی کہا جا سکتا ہے۔ انناسی فیصد سکولوں میں بجلی کی سہولت نہیں ہے۔ 56 فیصد سکول صاف پانی سے محروم ہیں اور 49 فیصد سکولوں کی کوئی باؤنڈری وال نہیں ہے۔ صوبائی حکومت نے 2030 تک کسی بچے کو سکول سے باہر نہ رہنے دینے کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن اب تک اس پر کتنا کام ہوا واضح نہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ محض میڈیا کے لیے بیانات نہیں۔ تعلیم، صحت، نکاسی آب، زراعت، ترقیات اور صنعت سمیت کئی ادارے صوبائی حکومت کے ماتحت ہیں جن کے سربراہ وزیر اعلی ہوتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعلی کی نظر سے یہ تمام اعداد و شمار کیوں نہیں گزرے، جو مختلف ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں نے مرتب کیے ہیں؟ کیا وزیر اعلی کا اتنا اختیار نہیں کہ وہ غیر فعال سکولوں کو فوری طور پر فعال بنائیں؟ کیا تعلیمی اداروں کی باؤنڈری وال بنانا اسلام آباد کے کسی بیوروکریٹ کا کام ہے؟ کیا بنیادی صحت کے مراکز میں افرادی قوت فراہم کرنا کسی اور صوبے کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے؟ کیا پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی ذمہ داری غیر ملکیوں کی ہے؟ وزیر اعلی صوبے کا سربراہ ہوتا ہے اور پوری کابینہ ایک طریقے سے اس کے ماتحت ہوتی ہے۔ 28 فروری 2024 کو کوئٹہ میں پولیس اہلکار بلوچستان اسمبلی کے قریب سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیے ہوئے ہیں (بنارس خان / اے ایف پی) کابینہ اور وزیر اعلی ایک ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں اور اور ٹیم کے کپتان یعنی وزیر اعلی کو اس بات کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنے وزیر سے اس کی کارکردگی کے بارے میں سوال و جواب کرے اور غیر تسلی بخش کارکردگی پہ اس کا احتساب کرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعلی نے کبھی وزیر تعلیم سے پوچھا کہ کیوں اتنی بڑی تعداد میں سکولوں کی باؤنڈری وال نہیں ہے یا وہ پینے کے صاف پانی سے محروم کیوں ہیں یا وہ بند کیوں پڑے ہوئے ہیں اور سٹاف کیوں تنخواہیں بٹور رہا ہے؟ بالکل اسی طرح کہ کیا وزیر اعلی نے وزیر صحت سے یہ دریافت کیا کہ کیوں بنیادی صحت کے مراکز افرادی قوت کی کمی کا شکار ہیں؟ کیوں وہاں دوسری بنیادی سہولیات کا فقدان ہے؟ بالکل اسی طرح کیا زراعت اور ترقیات کے وزرا سے اس بات کے حوالے سے پوچھا گیا کہ کیوں آبی انتظام کے حوالے سے بننے والے بند اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ وہ ذرا سی بارش میں یا تو تباہ ہو جاتے ہیں یا بری طرح نقصان سے دوچار ہوتے ہیں؟ وزرا کے علاوہ حکومتی اراکین اسمبلی کو بھی ترقیاتی فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ کیا وزیراعلی نے اُن فنڈز کے مناسب استعمال کے حوالے سے اُن اراکین سے سوال کیا کیا؟ کیا صوبے کے سربراہ نے مختلف علاقوں میں جا کر ترقیاتی کام کا جائزہ لیا اور اس بات کی انکوائری کرائی کہ کیوں اگر ایک پروجیکٹ بارہ ارب کا ہے تو وہ چالیس ارب روپے تک کیسے پہنچ گیا؟ یہ بات صحیح ہے کہ صوبے کے مسائل کی ساری ذمہ داری سیاسی قیادت پر نہیں ڈالی جا سکتی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت سب سے پہلے اپنی اصلاح کرے۔ عوام کی بنیادی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے دن رات کوشش کرے۔ سرفراز بگٹی کا ناراض بلوچوں کے حوالے سے بہت سخت موقف رہا ہے لیکن صوبے کے کئی مسائل کا حل ان سے مذاکرات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعلی ان سے بات کی راہ تلاش کریں اورعوام کی بنیادی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے دن رات کوشش کریں۔ وزیراعلی اپنی کابینہ میں ایسے ارکان کو دیکھیں جو عوام کی خدمت نہیں کر رہے اور ان کا کڑا احتساب کریں اور خود یہ ثابت کریں کہ وہ کسی ایک تحصیل یا ایک مخصوص حلقے کے وزیراعلی نہیں بلکہ اس پورے صوبے کے وزیراعلی ہیں اور پورے صوبے کی تعمیروترقی اور اصلاح کی ذمہ داری ان کی ہے۔ نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ بلوچستان سرفراز بگٹی کارکردگی عسکریت پسندی صوبے میں مجموعی طور پر سماجی ترقی کا گراف انتہائی نیچے ہے۔ مثال کے طور پہ معدنیات سے مالا مال اس صوبے میں بے روزگاری کی شرح 13 سے لے کر 15 فیصد تک ہے۔ آغا عبدالستار اتوار, جولائی 26, 2026 – 07: 15 Main image:

سرفراز بگٹی پورے صوبے کے وزیراعلی ہیں اور پورے صوبے کی تعمیر و ترقی اور اصلاح کی ذمہ داری ان کی ہے (بلوچستان وزیر اعلی ویب سائٹ)

نقطۂ نظر type: news related nodes: بلوچستان: مستونگ میں ایڈیشنل سیشن جج مسلح حملے میں قتل بلوچستان میں تشدد کیوں بڑھ رہا ہے؟ بلوچستان: ڈاکٹر مالک بلوچ کی چار دن میں اسلام آباد میں دو ملاقاتیں بلوچستان: وقت ہے کہ ہم تسلیم کریں کہ کیا چیز کام نہیں کر رہی SEO Title: بلوچستان: کیا وزیر اعلیٰ اور سیاسی قیادت بری الذمہ ہیں؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments