68.5 F
Pakistan
Thursday, September 17, 2026
HomeEnvironmentبلوچستان میں لیتھیم پر کیا تنازع ہے؟

بلوچستان میں لیتھیم پر کیا تنازع ہے؟

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں معدنیات کی دولت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن دنیا میں ’لیتھیم‘ کی اہمیت بڑھنے کے بعد یہاں بھی اس کے چرچے شروع ہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں دنیا کے الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز)، موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر قابلِ تجدید توانائی کی طرف تیزی سے بڑھنے کے باعث لیتھیم کی اہمیت اور مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ آج کی بیشتر الیکٹرک گاڑیوں میں لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ بیٹریاں نسبتاً ہلکی ہوتی ہیں، زیادہ توانائی ذخیرہ کر سکتی ہیں اور بار بار چارج ہونے کے باوجود کافی عرصہ چلتی ہیں۔ بلوچستان میں حال ہی میں کاپر، گولڈ اور لیتھیم کے نئے ذخائر کی بات ہوئی ہے۔ اگرچہ فی الحال صوبے میں لیتھیم کے ذخائر کی کوئی مصدقہ مقدار (ٹن یا ملین ٹن میں) سرکاری طور پر نہیں بتائی گئی ہے۔ تاہم مختلف مطالعات اور جیولوجیکل سرویز میں اس صوبے کو پاکستان کے اہم ممکنہ لیتھیم علاقوں میں شمار کیا گیا ہے۔ خاص طور پر ہامونِ مشکیل (Hamun-e-Mashkel)، جو چاغی اور واشک اضلاع میں پھیلا ہوا نمکیاتی میدان ہے، لیتھیم بردار نمکیاتی پانی (brine) کے لیے ایک امید افزا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے اعلیٰ افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لیتھیم کے ذخائر ہامونِ ماشکیل، چاغی، واشک اور نوشکی کے علاقوں میں ملے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ذخائر کا بڑا حصہ ایرانی بارڈر کے ساتھ بھی موجود ہے۔ ’مختلف پاکستانی اور چائنیز کمپنیوں کو ان ذخائر کی ایکسپلوریشن کے لیے لائسنس جاری کر دیے گئے ہیں تاہم اب تک پیداواری عمل شروع نہیں ہو سکا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک جو مقدار ملی ہے، اس کے معیار کو لیبارٹری میں چیک کیا جا رہا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) تاہم بلوچستان میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے گذشتہ دنوں ماشکیل کے علاقے میں بقول اس کے ’لیتھیم‘ نکالنے والے ایک پروجیکٹ کی سائٹ کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود چار ڈرلنگ مشینوں سمیت پانچ گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تنظیم کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران حراست میں لیے گئے کمپنی کے اہلکاروں کو اس کی پالیسی کے تحت سخت تنبیہ کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم میڈیا کو جاری ایک بیان میں بی ایل اے کا اصرار تھا کہ لیتھیم 21ویں صدی کی عالمی توانائی کی تبدیلی، جدید ٹیکنالوجی اور الیکٹرک بیٹریوں کی پیداوار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ایک انتہائی نادر، اور سٹریٹیجک معدنیات ہے۔ ٹھوس اعدادوشمار مہیا کیے بغیر تنظیم نے عمومی بیان میں کہا کہ ’بلوچ سرزمین لیتھیم کے ان نایاب قدرتی ذخائر سے مالامال ہے جو بلوچ قوم کی آنے والی نسلوں کے محفوظ معاشی، سیاسی وجغرافیائی مستقبل کی بنیادی ضمانت ہیں۔‘ اس نے الزام عائد کیا کہ حکومت پاکستان اس قیمتی اثاثے کو ’عالمی منڈی میں غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھوں نیلام‘ کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ بلوچستان کے مائنز اور منرلز کے محکمے کی جانب سے صوبے میں معدنیات کے اعداد و شمار جاری کیے گئے (فائل فوٹو/ بلوچستان ڈائریکٹوریٹ جنرل مائنز اینڈ منرلز) بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے بین الاقوامی وعلاقائی کان کنی کمپنیوں، نجی سرمایہ کاروں اور گلوبل کنسورشیمز کو خبردار کیا کہ انہیں ’بلوچ سرزمین کے اندر لیتھیم یا کسی بھی دیگر معدنیات کا سودا کرنے کا کوئی استحقاق حاصل نہیں‘ ہے۔ البتہ وزارت داخلہ بلوچستان کے معاون بابر یوسفزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کا یہ دعویٰ کہ صوبے معدنیات نکالنے کی اجازت نہیں دیں گے، سراسر جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد پروپیگنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’وفاقی و صوبائی حکومتیں اور سکیورٹی فورسز بلوچستان میں قدرتی وسائل کی حفاظت کے لیے سنجیدہ ہیں اور اس حوالے سے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ مزید اقدامات زیر غور بھی ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے ’جھوٹا پروپیگنڈا‘ کر کے اپنے نقصانات اور مرنے والے عسکریت پسندوں کی تعداد چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ’بلوچستان کے عوام بی ایل اے کو مسترد کرچکے ہیں۔ اب بوکھلاہٹ اور ہزیمت چھپانے کے لیے ایسے بے بنیاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔‘ مائیز اینڈ منرل ڈپارٹمنٹ کے مطابق سب سے پہلے ان علاقوں میں سلوشن ائینز دریافت ہوا، جس میں لیتھیم کے آثار دیکھائی دیے جس کے بعد کمپنوں نے کام شروع کیا۔ لیتھیم کے علاوہ واشک پشین، قلعہ عبداللہ، برشور سے لے کر ژوب تک ایک کیمیائی عنصر انٹی منی (Antimony) کے بہت بڑے ذخائر دریافت ہوئے، جس کے لیے مقامی کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق چھوٹے پیمانے پر مائننگ کمپنیوں کی مقامی افراد سے شراکت لازمی ہے البتہ بڑی یا غیر ملکی کمپنیوں پر یہ شرط لاگو نہیں۔ بلوچستان دریافت معدنیات محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے مطابق بلوچستان میں لیتھیم کے ذخائر ہامونِ ماشکیل، چاغی، واشک اور نوشکی کے علاقوں میں دریافت ہوئے ہیں۔ محمد عیسیٰ جمعرات, ستمبر 17, 2026 – 07:00 Main image:

بلوچستان میں معدنیات تلاش کرتے اہلکار۔ صوبے میں حال ہی میں کاپر، گولڈ اور لیتھیم کے نئے ذخائر کی بات ہوئی ہے (محکمہ مائنز اینڈ منرلز ویب سائٹ)

پاکستان type: news related nodes: پاکستان شعبہ معدنیات میں ترقی کے لیے چینی سرمایہ کاری کا خواہاں: احسن اقبال ریکوڈک: چین کے بعد امریکہ بھی بلوچستان کی معدنیات کے میدان میں پاکستان سے معدنیات، ہائیڈرو کاربنز پر تعاون کے خواہاں: امریکہ بی ایل اے کے خودکش حملے کے لیے تیار لڑکی بازیاب: سندھ SEO Title: بلوچستان میں لیتھیم پر کیا تنازع ہے؟ copyright: show related homepage: Show on Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments