58.1 F
Pakistan
Wednesday, October 21, 2026
HomePoliticsبلوچستان میں صحافیوں کے لیے کوریج مزید مشکل کیوں ہوگئی؟

بلوچستان میں صحافیوں کے لیے کوریج مزید مشکل کیوں ہوگئی؟

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان صحافیوں کے لیے اکثر مشکل علاقہ ثابت ہوا ہے۔ اب صحافی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پیمرا اور پولیس کی جانب سے ’ناخوشگوار‘ واقعات کی کوریج نہ کرنے اور رپورٹروں سے معلومات نہ شیئر کرنے کی نئی شرائط نے ان کا کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔ بلوچستان کی سکیورٹی صورت حال خاص کر پاکستان فوج یا فرنٹیئر کور بلوچستان کی جانب سے صوبے میں جاری کارروائیوں اور اس دوران انسانی جانوں کے نقصان سے متعلق میڈیا کو معلومات عموماً صرف فوج کے تعلقات عامہ کا ادارہ آئی ایس پی آر جاری کرتا ہے۔ یہ معمول کئی سالوں سے جاری ہے لیکن خبر بریک کرنے کے دباؤ سے نمٹنے میں کسی بھی علاقے کے مقامی تھانے کے اہلکار صحافیوں کی مدد کو آ جایا کرتے تھے۔ صحافی ان کے نام سے خبر چلا دیا کرتے تھے۔ لیکن اب صوبائی پولیس نے بھی اس حوالے سے اپنے افسران کو کسی بھی واقعے سے متعلق معلومات شیئر کرنے یا تصدیق کرنے سے منع کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے پریس سیکریٹری کی جانب میڈیا کو 18 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’بلوچستان کے مخصوص حالات کے پیش نظر اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ سکیورٹی فورسز، بشمول پاکستان فوج، بحریہ اور فضائیہ سے متعلق کسی بھی خبر کو آئی ایس پی آر اور پولیس سے متعلق آئی جی پولیس بلوچستان آفس کی باضابطہ تصدیق کے بغیر نشر یا شائع نہ کیا جائے۔‘ بیان میں مزید کہا گیا: ’مشاہدے میں آیا ہے کہ سکیورٹی سے متعلق بعض واقعات کی خبریں غیر مصدقہ ذرائع سے منسوب کر کے جاری کر دی جاتی ہیں، جن میں اکثر معلومات درست نہیں ہوتیں۔ اس سے نہ صرف ابہام اور غیر یقینی صورت حال جنم لیتی ہے بلکہ عوام میں بے چینی بھی پیدا ہوتی ہے۔‘ پریس سیکریٹری نے صحافیوں سے گزارش کی کہ بلوچستان کے کسی بھی علاقے میں پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کی خبر جاری کرنے سے قبل آئی ایس پی آر اور آئی جی پولیس بلوچستان آفس سے اس کی تصدیق ضرور حاصل کریں تاکہ مستند معلومات کی بروقت ترسیل یقینی بنائی جا سکے اور غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ سے اجتناب ہو۔‘ تاہم صحافیوں کا ماننا ہے کہ اعلیٰ پولیس اہلکار یا ان کے ترجمان اکثر ضرورت کے وقت دستیاب نہیں ہوتے جس سے خبر بھیجنے میں تاخیر ہوتی ہے اور میڈیا چینل مالکان یا ایڈیٹر کی ناراضی کا سبب بنتی ہے۔ ادھر اسلام آباد میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے بھی گذشتہ دنوں تمام سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ’افسوسناک/ناخوشگوار واقعے‘ جیسے کہ دھماکے، بم دھماکے، فائرنگ، دہشت گرد حملے وغیرہ کی نشریات اور براہِ راست کوریج سے گریز کریں۔ پاکستان اور دنیا میں کئی صحافتی ادارے ذرائع کی بنیاد پر خبریں نہیں چلاتے لہذا کسی خبر کے لیے باضابطہ کسی اہلکار کا بیان حاصل کرنا مزید مزید مشکل ہوگیا ہے۔ 13 اکتوبر کے ایک حکم نامے میں میڈیا ریگولیٹر نے کہا کہ سیٹلائٹ ٹی وی چینلز ’صرف ایسی تصدیق شدہ معلومات نشر کریں جو متعلقہ محکمے یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے فراہم کی گئی ہوں۔‘ ٹیلی ویژن چینلز کو مزید ہدایت کی گئی کہ وہ ’ٹائم ڈیلے میکانزم کو مؤثر طریقے سے استعمال کریں‘ اور یہ بھی یقینی بنائیں کہ پیمرا قوانین، 2018 کے ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور 2022 کے ایک مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق ایک آزاد ادارتی بورڈ تشکیل دیا جائے تاکہ ’ڈیلے میکانزم سے متعلق مقررہ طریقہ کار کے درست استعمال‘ کو یقینی بنایا جا سکے۔ پیمرا نے خبردار کیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں پیمرا آرڈیننس 2002 کی دفعات 29-A، 30 اور 33 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور بلوچ نے پیمرا اور بلوچستان پولیس کی جانب سے میڈیا کو بروقت معلومات یا تصدیق کے لیے تاخیر پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بلوچستان میں صحافت بہت زیادہ مشکل ہوگئی ہے۔ ’اگر کسی بھی واقعے سے متعلق معلومات حاصل ہوں بھی جائیں تو اس کی تصدیق ایک صحافی کے لیے بہت بڑا امتحان بن جاتا ہے۔ بعض اوقات خبر کی سرکاری تصدیق میں پورا دن گزر جاتا ہے۔‘ منظور بلوچ نے کہا کہ جب خبر تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے تو اس دوران افواہیں اور پروپیگنڈا اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ ’مین سٹریم میڈیا پر خبر نہ آنے سے اس پر لوگوں کا اعتماد کم ہوتا ہے تاہم دیگر ذرائع سے لوگوں کو یہ غیر مصدقہ خبریں مل رہی ہوتی ہے۔‘ ان کا اصرار تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے آزادی صحافت پر سوال اٹھتے ہیں اور آزادی صحافت شدید متاثر ہوتی ہے۔ بلوچستان کو پاکستان میں صحافیوں کے لیے طویل عرصے سے سب سے خطرناک علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ صحافیوں کو متعدد اطراف سے خطرات کا سامنا رہتا ہے، جن میں عسکریت پسند گروہ، قبائلی اور سیاسی بااثر شخصیات، سکیورٹی سے متعلق حساس تنازعات اور بعض اوقات ریاستی و غیر ریاستی دباؤ شامل ہیں۔ میڈیا حقوق کے لیے سرگرم تنظیم فریڈم نیٹ ورک کے مطابق گذشتہ دو دہائیوں میں بلوچستان میں کم از کم 40 صحافی قتل ہوئے، جن میں اکثریت ٹارگٹ کلنگ کا شکار بنی جبکہ بعض بم دھماکوں اور مسلح حملوں میں مارے گئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ آزاد، ذمہ دار اور محفوظ صحافت جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت اس بات پر پُرعزم ہے کہ صحافی برادری کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں آزادانہ طور پر انجام دینے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحافیوں کی سکیورٹی، فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے سربراہ منظور بلوچ نے سوال اٹھایا کہ اگر مین سٹریم میڈیا کے ذریعے خبر بروقت نہیں پہنچے گی تو لوگ مین سٹریم میڈیا جیسے کہ اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل میڈیا کیونکر فالو کریں گے؟ منظور بلوچ کے مطابق آئے روز اظہار رائے پر پابندی کے لیے نئے قوانین کے نفاذ سے میڈیا میں ایک بحران کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ ’اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے اور ملک کی ترقی کے ضروری ہے کہ صحافیوں کو بروقت کوریج میں مدد فراہم کی جائے نہ کہ ان پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں۔‘ بلوچستان الیکٹرانک میڈیا ڈیجیٹل میڈیا آزادی صحافت پمرا پولیس بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے سربراہ منظور بلوچ نے سوال اٹھایا کہ اگر مین سٹریم میڈیا کے ذریعے خبر بروقت نہیں پہنچے گی تو لوگ اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل میڈیا کیونکر فالو کریں گے؟ محمد عیسیٰ بدھ, اکتوبر 21, 2026 – 13: 00 Main image: سوشل type: news related nodes: پاکستان انڈیا جنگ اور صحافتی تقاضے پیکا کے تحت گرفتار صحافی بلال غوری کی ضمانت منظور صحافیوں کے خلاف اقدامات اور دنیا میں سکڑتے جمہوری حقوق بلوچستان میں دو سال میں 1100 شدت پسند مارے گئے: حکام SEO Title: بلوچستان میں صحافیوں کے لیے کوریج مزید مشکل کیوں ہوگئی؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments