برطانیہ میں 53 لاکھ سے زائد کارکنوں کی نمائندگی کرنے والی ٹریڈ یونینز کی مرکزی تنظیم نے اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ اور پابندیوں کی حمایت میں قرارداد منظور کرلی۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ٹریڈز یونین کانگریس نے بدھ کو جنوبی انگلینڈ کے شہر برائٹن میں ہونے والی اپنی سالانہ کانفرنس کے دوران قرارداد کے حق میں متفقہ طور پر ووٹ دیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب تنظیم نے فلسطینیوں کی قیادت میں چلنے والی بائیکاٹ، سرمایہ کاری واپس لینے اور پابندیوں کی تحریک بی ڈی ایس کی حمایت کی ہے۔ قرارداد میں غزہ میں جاری تباہی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون اور اسلحے کے معاہدے ختم کرنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ برطانوی حکومت سے اسرائیل پر وسیع پابندیاں عائد کرنے اور فلسطین کی حمایت میں ٹریڈ یونینز کی جانب سے چلائی جانے والی مہمات کی حمایت کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ قرارداد ’آرٹسٹس یونین انگلینڈ‘ کی نمائندہ زیٹا ہولبورن نے پیش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریڈ یونین تحریک کے لیے ضروری ہے کہ وہ بی ڈی ایس تحریک کی اپیل کا جواب دے۔ زیٹا ہولبورن نے کہا کہ ہر طرح کی شمولیت کو چیلنج کرنا اور اپنی اجتماعی طاقت استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں اور فلسطین کو آزاد کرانے کی حمایت کریں۔ بی ڈی ایس تحریک کے شریک بانی عمر برغوتی نے بھی برطانوی ٹریڈ یونینز کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کی اس بڑی تحریک، جس کی قیادت فلسطین سولیڈیرٹی کمپین کر رہی ہے اور جس سے متعدد ٹریڈ یونینز وابستہ ہیں، کی وجہ سے برطانوی حکومت کو اسرائیل کے حوالے سے کچھ اقدامات کرنا پڑے ہیں۔ عمر برغوتی نے کہا کہ یہ اقدامات درست سمت میں چھوٹے قدم ہیں تاکہ اسرائیل کے اقدامات میں شمولیت ختم کی جا سکے، لیکن یہ نسل کشی، نسلی امتیاز اور غیر قانونی قبضے میں برطانیہ کی مبینہ شمولیت ختم کرنے کی قانونی ذمہ داریوں سے بہت کم ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ بی ڈی ایس تحریک کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کام جاری رکھنا ہوگا۔ ٹریڈ یونینز کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی حکومت بھی اسرائیلی آبادکاری کے حوالے سے کچھ اقدامات کر رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایڈ ملی بینڈ نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بعض علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کو ’نسلی صفایا‘ قرار دیا۔



