پاکستان نے جمعرات کو کہا ہے کہ بحیرہ احمر میں اگر اس کے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو اسے قومی سلامتی پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب یمن میں سرگرم حوثیوں نے کہا ہے کہ ان کی افواج نے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کی شناخت انہوں نے اینسیلیا اور لیلیٰ کے طور پر کی۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بحیرہ احمر میں سعودی جہاز پر حوثیوں کی جانب سے آج ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی جہازوں پر ممکنہ حملے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’اگر پاکستانی تجارتی جہازوں پر حملہ کیا گیا تو پاکستان اسے اپنی قومی سلامتی پر حملہ تصور کرے گا، اور ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے۔‘ ترجمان نے کہا: ’قومی سلامتی کے دفاع کے معاملے میں کوئی باریک لکیر نہیں ہوتی، یہ ہماری سرخ لکیر ہے۔ ہمارے تجارتی جہازوں پر کسی بھی حملے کو پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور ہم اس کا جواب دیں گے۔‘ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کے حصے کے طور پر جمعرات کو دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کر رہے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025 میں ریاض میں ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر بیرونی حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، اور اس میں پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں تعیناتی سمیت سٹریٹیجک تعاون شامل ہے۔ ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں مزید کہا کہ ’پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دوطرفہ معاہدوں، بشمول دفاعی تعاون سے متعلق معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔‘ View this post on Instagram A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) دوسری جانب پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی سے متعلق خبروں کی تصدیق یا تردید سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے ہونے والے سفارتی رابطے ’خفیہ نوعیت‘ کے ہیں۔ بریفنگ کے دوران اس معاملے سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وہ ’نہ ان اطلاعات کی تصدیق کریں گے اور نہ ہی تردید، کیونکہ یہ خفیہ سفارتی روابط کا حصہ ہیں۔‘ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلسل امن کی حمایت کرتا رہا ہے اور ہم اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور پاکستان۔قطر مشترکہ اعلامیہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’کشیدگی کے اس دور کے تاریک ترین دنوں میں بھی پاکستان نے امید کا دامن نہیں چھوڑا اور زمینی صورت حال چاہے کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو، پاکستان مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے امن کے امکانات کے لیے پرامید ہے۔‘ ایران کی جانب سے ممکنہ خصوصی پیغام دفتر خارجہ نے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران کسی ممکنہ خصوصی پیغام کی تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے سفارتی تبادلے خفیہ نوعیت کے ہیں۔ طاہر اندرابی نے انڈپینڈنٹ اردو کے اس سوال کے جواب میں کہ ’آیا ایرانی وزیر داخلہ سپریم لیڈر یا ایران کے صدر کا کوئی پیغام لے کر آئے تھے؟‘ کہا کہ وہ ’اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ نہیں اور نہ ہی وہ ان سفارتی روابط کی نوعیت پر مزید تبصرہ کرنا چاہتے ہیں۔‘ ترجمان نے کہا کہ یہ ایرانی وزیر داخلہ کا ایک اہم دورہ تھا، جس کے دوران انہوں نے پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔ طاہر اندرابی کے مطابق: ’اس دورے میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور وزارت داخلہ کی سطح پر تعاون سے متعلق امور پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ملاقاتوں میں مشرق وسطی میں امن اور مذاکرات کے عمل کے علاوہ علاقائی امن و سلامتی سے متعلق وسیع تر امور بھی زیر بحث آئے۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے افغان شہریوں کی بے دخلی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت یکم نومبر 2023 سے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے پر عمل درآمد کر رہی ہے، جس کا اطلاق صرف ان افراد پر ہوتا ہے جو غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں یا جن کے سفری دستاویزات درست نہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان نے سال 2021 سے اب تک امریکہ، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت مختلف تیسرے ممالک میں 89 ہزار سے زائد افغان اور دیگر غیر ملکی شہریوں کی منتقلی میں سہولت فراہم کی ہے، تاہم بعض ممالک اب تک ان افغان شہریوں کو قبول کرنے کے لیے اپنے داخلی مراحل مکمل نہیں کر سکے جنہیں واپس لینے کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر 2025 میں منصوبے کے آخری مرحلے کے آغاز کے بعد ایسے تمام غیر ملکی شہری جن کے پاس درست ویزا یا پاسپورٹ نہیں، بے دخلی کے دائرے میں آتے ہیں اور پاکستان تیسرے ممالک کا غیر معینہ مدت تک انتظار نہیں کر سکتا۔ ترجمان نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ واپس جانے والے افراد کو ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’انسانی بنیادوں پر تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد 16 ہزار سے زائد افراد کو عارضی استثنیٰ دیا گیا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی شہریوں کے ساتھ ہراسانی یا بدسلوکی کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، کسی بھی شکایت پر کارروائی کی جاتی ہے جبکہ واپس جانے والے غیر ملکیوں کی شکایات کے اندراج اور ازالے کے لیے 24 گھنٹے فعال شکایتی سیل بھی قائم ہے۔ دفتر خارجہ حوثی سعودی عرب دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ’ہمارے تجارتی جہازوں پر کسی بھی حملے کو پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور ہم اس کا جواب دیں گے۔‘ قرۃ العین شیرازی جمعرات, جولائی 23, 2026 – 13: 15 Main image:
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی 23 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران (سکرین گریب/دفتر خارجہ فیس بک اکاؤنٹ)
پاکستان type: news related nodes: حوثیوں کی سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیاں ناقابل قبول: پاکستان سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں: پاکستان ایران پر حملے جاری، امریکی ایوان نمائندگان سے 1. 15 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بل منظور سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی حملے ’قطعی ناقابل قبول‘: شہباز شریف SEO Title: بحیرہ احمر میں کسی پاکستانی جہاز پر حملے کا جواب دیا جائے گا: دفتر خارجہ copyright: show related homepage: Show on Homepage



