82.8 F
Pakistan
Wednesday, July 1, 2026
HomeEnvironmentبجلی کے بغیر سمندر کا کھارا پانی میٹھا؛ چینی ٹیکنالوجی نے دنیا...

بجلی کے بغیر سمندر کا کھارا پانی میٹھا؛ چینی ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کر دیا

چین کے سائنس دانوں نے سمندر کے کھارے پانی کو بغیر بجلی کے میٹھے پانی میں تبدیل کرنے کی نئی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ نظام صرف سورج کی روشنی سے چلتا ہے اور مستقبل میں اس کے ذریعے صاف پانی کی پیداوار کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہو سکتی ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق چینی سائنس دانوں نے شمسی توانائی سے چلنے والا ایسا جدید ڈی سیلینیشن (نمکیات ختم کرنے) کا نظام تیار کیا ہے، جو سمندر کے کھارے پانی کو کم لاگت میں پینے کے قابل میٹھے پانی میں تبدیل کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق محققین نے اس ٹیکنالوجی کا ایک عملی نمونہ تیار کیا، جس نے کھلے ماحول میں مسلسل ایک سال تک کام کیا اور اس دوران اسے بجلی کے قومی نظام یا کسی بیرونی توانائی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ پورا نظام صرف سورج کی قدرتی روشنی سے چلتا رہا۔ اس کامیابی کی بنیاد ایک نئے فوٹو تھرمل مادے پر رکھی گئی ہے۔ سائنس دانوں نے نینو ذرات کو تین جہتی ساخت میں بُن کر ایسا مادہ تیار کیا ہے، جو سورج کی روشنی کو حرارت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بہتر بناتا ہے۔ یہی حرارت پانی کو بخارات میں تبدیل کرکے نمک الگ کرنے کے عمل کو مؤثر بناتی ہے۔ آزمائش کے دوران اس نئے مادے نے سورج کی روشنی جذب کرنے کی 90. 2 فیصد تک صلاحیت حاصل کی، جبکہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں اتنی ہی مقدار میں سمندری پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے کے لیے درکار توانائی میں 45. 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ چھوٹے پیمانے پر کیے گئے تجربے میں اس نظام سے حاصل ہونے والے میٹھے پانی کو زرعی آبپاشی کے لیے استعمال کیا گیا، جہاں تقریباً 5 مربع میٹر زرعی رقبے کو پورے کاشت کے موسم میں کامیابی سے سیراب کیا گیا۔ اس دوران نظام نے کسی بجلی، ایندھن یا بیرونی توانائی کے بغیر صرف سورج کی روشنی سے کام کیا۔ تحقیقی ٹیم کے مطابق اگر یہ نظام تقریباً دو سال تک مسلسل استعمال کیا جائے تو اس سے تیار ہونے والے پانی کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہو جائے گی۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے یا زیادہ عرصے تک چلایا جائے تو اس کی لاگت میں مزید نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نئی ایجاد دنیا کے ان علاقوں کے لیے ایک کم خرچ اور ماحول دوست حل ثابت ہو سکتی ہے جہاں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے، سورج کی روشنی وافر مقدار میں دستیاب ہے لیکن بجلی اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ محدود ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments