مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 126تھوڑا ہی سفر کیا ہوگا کہ بس کا AC ناکام ہوا۔ گرمی نے زور پکڑا۔ سڑک کنارے ”اللہ اکبر“ کی تختیاں۔ اللہ کی رحمت۔ گھنگور گھٹا چھا گئی۔ بارش شروع ہوگئی۔ وزیبلٹی کم ہوگئی۔ پھر بارش بھی رک گئی۔ بجلی چمکی، بارش پھر شروع، دائیں بائیں پانی کی جھلکیاں۔ بس کی سپیڈ 140/Km، پھر بارش بند ہوگئی۔ بس فراٹے بھرتے گئی اور منزل سمٹ سمٹ کر قریب آتی گئی۔ اللہ کاگھر دیکھنے کی تمناّ چمکتی گئی اور آخر شہر امن و امان مکہ مکرمہ سامنے نظر آیا تو آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو ایک سرور عطا کر گیا۔ بس رُکی تو سامنے “Al-Reem Al Zahari Hotel” بس سے اُترے وہاں قیام کیا۔ 24-4-2014. .. .. . آخر وہ ساعتِ سعید آن پہنچی اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے قدم و فورِ شوق میں اُٹھتے گئے اور زبان پر جاری و ساری ہوا۔ لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ. .. .. . لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ درود شریف پڑھتے گئے، دعائیں مانگتے گئے اور رحمت خداوندی معاون و مددگار ہوئی۔ میں نے تو وہیل چیئر پر اور بیگم نے پیادہ عمرہ ادا کیا۔بیت اللہ پر پہلی نظر پڑتے ہی کہا اللہ اکبر لا الہ اللہ واللہ اکبر. .. .. . اور دعا مانگی۔ حجرِ اَسود کے بائیں طرف کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کی طرف رُخ کرتے ہوئے طواف کی نیت کی اور استقبالِ قبلہ کیا۔ استلام حجر اسود کے بعد طواف شروع کیا اور ہر چکّر پورا کرنے کے بعد حجرِ اَسود پر استلام کیا اور اس طرح 7 چکّر پورے کرنے کے بعد مقام ابراہیم علیہ السلام پر2 رکعت نماز ادا کی اور درود سلام پڑھا۔پھر قبلہ رُخ ہو کر بیت اللہ پر نظر ڈالتے ہوئے بسم اللہ پڑھ کر سیدھے ہاتھ سے زم زم کا پانی پیا اور دعا مانگی۔ میری دوسری بیگم عمر میں مجھ سے چھوٹی تھی۔ میں تو صرف ایک دفعہ رش کی وجہ سے حجر اسود کو بوسہ دے سکا لیکن میری بیگم نے تو کئی مرتبہ حجر اسود کو بوسہ دیا۔ اب حجر اسود کا استلام کرنے کے بعد صفا پہاڑی کی طرف چل دئیے۔ صفا پر سعی کی نیت کی اور دعا کی۔ صفا سے مروہ کی طرف چلتے اور کلمہ توحید پڑھتے۔ سبز ستونوں اور سبز لائٹوں کے درمیان تیز چلتے اور دعائیں مانگتے سات چکّر پورے کیے۔ ساتواں چکّر مروہ پر ختم ہوا اور قبلہ رُخ ہو کر دعا مانگی۔ پھر چند دن جو مکہ مکرمہ میں قیام رہا نفلی طواف کرتے رہے۔ 25-4-2014. .. .. . حرم پاک کی حاضری۔ طواف کعبہ اور نمازوں و دعاؤں کا سلسلہ جاری رہا۔ خدائے بزرگ و برتر سے مغفرت کی التجائیں اور دوست و احباب کے لیے بھی دعاؤں کے لیے ہاتھ اُٹھتے رہے۔26-4-2014. .. .. . میری بیگم کے بھتیجے ”شان علی“ کا جدہ سے صبح رابطہ ہوا اور اُس نے بتایا کہ وہ مکہ مکرمہ آرہا ہے اور جمعہ کی نماز کے بعد ہوٹل میں ملے گا۔ چنانچہ اُس کے ساتھ پھر ہم ٹیکسی میں جدہ میں ”شاہد اقبال“ کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے یہ ایک نفیس رہائش گاہ تھی۔ اہل خانہ بھی پڑے پرتپاک سے ملے۔ گپ شپ چلتی رہی اور کوئی 1 بجے بستر پر دراز ہوئے۔ 27-4-2014. .. .. . گھر سے ناشتہ کے بعد شاہد اقبال کے ساتھ سیر و سیاحت کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں وزارت داخلہ، دائیں بائیں حسین جمیل سکائے سکریپرز، 5 بجے چونکہ چھٹی ہوجاتی ہے لہٰذا وہاں سے شان علی کو لیا اور سمندر کی طرف روانگی ہوئی۔ طریق مدینہ روڈ پر گاڑی درمیانی سپیڈ پر جارہی تھی۔ دائیں طرف انٹرنیشنل ائیرپورٹ، ملکی ائیرپورٹ (پرائیویٹ) اور اُس سے پرے سعودی ائیرپورٹ، نفیس صاف ستھری سڑکوں کا جال اور پھر روڈ سلامہ پر آگئے۔ وہاں 42 فلور کا ٹاور شان علی کی کمپنی مکمل کر چکی ہے اور ایک دوسرا ٹاور شروع کیا ہوا ہے۔ بائیں طرف ”ملک روڈ“ جو پرانے محل کی طرف جاتی ہے۔ سامنے ملک عبد اللہ کا محل، دائیں پانی صاف کرنے کا پلانٹ جو جدہ کو پانی سپلائی کرتا ہے۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ظاہر پیر انٹرچینج پر بڑی کارروائی، گندم سندھ سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی
بجلی چمکی، بار ش شروع، بس فراٹے بھرتے گئی منزل سمٹ سمٹ کر قریب آتی گئی، اللہ کاگھر دیکھنے کی تمناّ چمکتی گئی آخر شہر امن و امان مکہ مکرمہ سامنے نظر آیا
RELATED ARTICLES



