مصنف: صادق حسینقسط: 41آپا نے پرویز کے ہاتھ سے بوتل لے کر بھرائی ہوئی آواز میں کہا ”یہ بوتل بول نہیں سکتی مگر ٹوٹ سکتی ہے تم جانتے ہو زینت میری تایا زاد بہن بھی ہے، اور سہیلی بھی جب اس نے اپنے باپ کا فیصلہ سنا تو وہ منہ سے کچھ نہیں بولی مگر اس کے سرخ رخسار ہلدی کی طرح زرد ہو گئے، اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔
باپ کا فیصلہ سنا تو وہ منہ سے کچھ نہیں بولی، سرخ رخسار ہلدی کی طرح زرد ہو گئے، کھانا پینا چھوڑ دیا، اب آنکھوں میں ہر وقت آنسو چھلکتے رہے ہیں
RELATED ARTICLES



