لگتا ہے بالی وڈ میں اب ہیروئن کی کوئی خاص جگہ نہیں رہی اور فلمیں صرف ہیروز کے سہارے ہی آگے بڑھ رہی ہیں۔ رواں سال اب تک جو فلمیں پردۂ سیمیں کی زینت بنی ہیں، ان پر نظر دوڑائیں تو یہ بات سچ ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ان فلموں میں اداکاراؤں کا کام محض گیتوں میں رقص کرنے یا پھر دو تین جذباتی اور رومانی مناظر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اب چاہے ’دھریندر‘ ہو، ’بارڈر دو‘ ہو، ’اکیس‘ ہو، یا ’او رومی‘، ان سب میں ہیروئن کا کردار برائے نام یا آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہ بات اس لیے چبھتی ہے کیونکہ یہ وہی بالی وڈ ہے جس نے ماضی میں خواتین کے گرد گھومتی مضبوط کہانیوں والی فلمیں پیش کر کے معاشرے کو بہترین اور مثبت پیغامات دیے۔ کوئی بھلا نرگس کی ’مدر انڈیا‘ کو کیسے فراموش کر سکتا ہے، جس میں ایک ایسی ماں کی عکاسی کی گئی جس نے قربانی اور مزاحمت کی وہ لازوال مثال قائم کی کہ اس کا کردار ہر اداکارہ کے لیے ایک ’ڈریم رول‘ بن گیا۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ اس فہرست میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ کبھی ’سیتا اور گیتا‘ کے ذریعے خواتین کو سمجھایا گیا کہ خوف کے بت کیسے توڑے جاتے ہیں، تو کبھی مہیش بھٹ کی ’ارتھ‘ نے طلاق یافتہ خواتین کی زندگی اور شوہر کی بے وفائی کی تلخ حقیقت کو بیان کیا۔ کہیں ’بیٹا‘ کے ذریعے سوتیلی ماں کے سنگین روپ کو عیاں کیا گیا جو بیٹے کی محبت کے ہاتھوں اپنی بے رحم سوچ بدلنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ ریکھا کی ’امراؤ جان‘ ہو یا ایک مجبور کو انصاف دلانے کی جدوجہد پر مبنی ’دامنی‘، یہ سب آج بھی ہر ایک کے ذہن میں محفوظ ہیں۔ یہی نہیں بلکہ پنک، لجا، مرتیو ڈنڈ، کہانی، مردانی، بینڈٹ کوئین، زبیدہ، مم اور چاندنی بار اس کی وہ واضح مثالیں ہیں جن میں ہیرو دراصل ہیروئن ہی تھی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ایک دور بالی وڈ پر وہ بھی آیا جب اداکارائیں، ہیروز کے مساوی معاوضہ طلب کرنے لگیں اور کچھ تو اس دوڑ میں ہیروز سے بھی آگے نکل گئیں۔ مادھوری ڈکشٹ سے لے کر آج کی کریتی سینن تک، ان کی فین فالونگ کسی بھی بڑے ہیرو سے کم نہیں رہی۔ گذشتہ دو دہائیوں کی فلموں کا جائزہ لیں تو ان میں ہیروئن، ہیرو کی طرح دس غنڈوں سے تنِ تنہا لڑتی نظر تو نہیں آتی، لیکن وہ اپنے کردار اور مکالمات سے مخالفین کو ضرور زیر کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ’تھپڑ‘ کے ذریعے گھریلو تشدد کو موضوع بنایا گیا تو ’مسز‘ میں یہ دکھایا گیا کہ بیوی کی بھی اپنی کوئی پسند یا ناپسند ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں ہدایت کار مدھر بھنڈارکر کو اس اعتبار سے منفرد تسلیم کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی بیشتر فلموں میں خواتین کی زندگی کے ان دیکھے ابواب اور مسائل کو نمایاں کیا۔ ’چاندنی بار‘ میں نائٹ کلبوں میں رقص کرنے والی خواتین کو موضوع بنایا گیا، تو ’پیج تھری‘ میں ایک خاتون صحافی کی کہانی پیش کی گئی۔ بپاشا باسو کی ’کارپوریٹ‘ میں دکھایا گیا کہ کاروبار کی ترقی کے لیے خواتین کو کس نوعیت کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ فیشن کی دنیا کے تاریک رازوں پر فلم ’فیشن‘ میں پردہ اٹھایا گیا اور ’ہیروئن‘ تو خود فلم نگری کے چمکتے دمکتے مگر بدنما چہروں کے گرد گھومتی تھی۔ داستان یہیں ختم نہیں ہوتی؛ دیگر ہدایت کاروں نے مشہور خواتین شخصیات اور کھلاڑیوں پر بھی فلمیں بنا کر ان کے عزم و حوصلے کو خراج تحسین پیش کیا اور دکھایا کہ بلند مقام کے حصول کے لیے انہیں کیسے آگ کے دریا عبور کرنے پڑے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ فلموں کا مرکزی دھارا دھیرے دھیرے دوبارہ مرد کرداروں کے گرد ہی گھومنا شروع ہو گیا ہے۔ کیا وہ وقت آ گیا ہے کہ اب مداحوں کو اس بات میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی کہ عالیہ بھٹ، دیپیکا پڈوکون یا تاپسی پنو کس فلم میں جلوہ گر ہو رہی ہیں؟ اب سب کی توجہ کا مرکز صرف ہیرو بن گئے ہیں۔ پٹھان، دبنگ، سلطان، ٹائیگر، اور جوان جیسی فلموں میں اداکارائیں صرف ’گلیمر گرل‘ بن کر رہ گئی ہیں۔ اس کی ایک اور مثال ترپتی ڈمری بھی ہیں، جو فلم ’اینیمل‘ میں اپنی غیر معمولی اداکاری سے نہیں بلکہ اپنے بے باک مناظر کی وجہ سے راتوں رات ہٹ ہوئیں، لیکن پھر ہر فلم میں اسی بے باکی اور ہوشربا اداؤں نے ان کے کریئر پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ اب ہیرو ہی سب کچھ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ مرد کردار ناقابل تسخیر بن چکے ہیں، جو اکیلے ہی سب کو زیر کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ آج کل انڈیا میں مقبول مرد شخصیات پر فلمیں تخلیق کی جا رہی ہیں۔ کل تک ’کھل نائیک‘ میں مادھوری ڈکشٹ کا کردار (رادھا) ہیرو کی طرح جاندار تھا، لیکن اب ہیروئن صرف نمائشی فن پارہ بن کر رہ گئی ہے۔ بالی وڈ کی فلموں کے بیانیے میں خواتین کا کردار اب محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت انڈین فلمیں معاشرے کی تبدیلی کے لیے نہیں، بلکہ خالص مالی فائدے اور مخصوص سیاسی یا سماجی بیانیے کے فروغ کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’دی کیرالہ سٹوری‘ جیسی فلموں میں موضوع تو خواتین ہی ہیں، لیکن ان کا استعمال محض مقاصد کے حصول کے لیے کیا گیا۔ آج کی اداکارائیں باصلاحیت ضرور ہیں، لیکن لگتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو ان کی صلاحیتوں اور باکس آفس پر ان کی کامیابی پر اعتماد نہیں رہا۔ یہاں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا، تو کیا بالی وڈ اپنی اس پہچان سے محروم ہو جائے گا جس میں خواتین بھی کہانی کا اہم اور مرکزی ستون تسلیم کی جاتی تھیں؟ بالی وڈ فلم بالی وڈ اداکارہ کیا واقعی بالی وڈ میں خواتین کے مضبوط کرداروں کا دور ختم ہو چکا ہے؟ یا سرمایہ کاروں کو اب اداکاراؤں کی صلاحیتوں پر باکس آفس کا اعتماد نہیں رہا؟ سفیان خان جمعرات, اپریل 30, 2026 – 06: 30 Main image:
آج کل ہر طرف طاقتور مرد کرداروں والی فلمیں ہی نظر آتی ہیں، مضبوط خاتون کے کرداروں والی فلمیں نہ ہونے کے برابر ہیں (ٹی سیریز فلمز)
بلاگ type: news related nodes: پاکستان مخالف بیانیہ، بالی وڈ کی کامیابی کا اصل راز؟ جنگی نعروں سے رومانوی تھرلرز تک: بالی وڈ میں کیا چل رہا ہے؟ سال 2026: بالی وڈ کی ہنڈیا میں کیا کچھ پک رہا ہے؟ دھرمیندر: بالی وڈ اور ہیما مالنی کا دل فتح کرنے والا پنجابی نوجوان SEO Title: بالی وڈ میں ہیروئن کا زوال: کیا اداکارائیں اب محض گلیمر تک محدود ہو گئی ہیں؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



