انڈیا میں ایودھیا کے رام مندر کے چندے میں مبینہ خورد برد کے الزام میں کم از کم آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے یہ بڑا مندر ایک اور تنازعے میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ شمالی ریاست اتر پردیش میں واقع اس بہت بڑے مندر کا افتتاح دو سال قبل ایک ایسی تقریب میں کیا گیا تھا جسے ’زندگی میں ایک بار‘ آنے والے موقع کے طور پر پیش کیا گیا۔ تقریب میں انڈین سیاست اور ثقافت کی اہم ترین شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی تھی۔ ہندو دیوتا رام سے منسوب یہ مندر قرون وسطیٰ کی بابری مسجد کی جگہ پر تعمیر کیا گیا تھا۔ 1992 میں ہندو ہجوم نے مسجد کو مسمار کر دیا تھا۔ مندر کی تعمیر سے انڈیا کے ہندو قوم پرست حلقوں کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوا، جن میں نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی بھی شامل ہے۔ کئی ماہ سے یہ الزامات گردش کر رہے تھے کہ ہندوؤں کی جانب سے دیے گئے چندے کی بھاری رقوم مندر کے انتظام میں شامل کچھ افراد خورد برد کر رہے ہیں۔ اس پر بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومت تحقیقات کا حکم دینے پر مجبور ہو گئی۔ مندر میں روزانہ 70 سے 80 ہزار ہندو آتے ہیں۔ اس ہفتے حکومت کو تحقیقاتی رپورٹ ملنے کے بعد، مندر کا انتظام سنبھالنے والے ٹرسٹ نے پولیس میں باقاعدہ شکایت درج کرائی، جس کے نتیجے میں چوری، نقدی کے غبن، اور فنڈز اور قیمتی اشیا کی خورد برد کے الزام میں آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ 25 نومبر 2025 کو ایودھیا ہندو خواتین میں رام مندر کے قریب واقع بازار سے گزر رہی ہیں (اے ایف پی) پولیس کے مطابق، ان میں سے زیادہ تر افراد چندے کی رقم جمع کرنے، گننے اور اسے منتقل کرنے کے کام میں شامل تھے۔ پولیس نے گرفتاری کی ایک رپورٹ میں کہا، ’ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ اور دستیاب زبانی، دستاویزی اور الیکٹرانک شواہد سے یہ واضح ہے کہ چندہ گننے کے لیے تعینات کچھ ملازمین نے تواتر کے ساتھ چوری اور خورد برد کر کے جرم کا ارتکاب کیا۔‘ اگرچہ یہ رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی، لیکن مقامی میڈیا اداروں نے اس کے مندرجات سے باخبر افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس میں مندر کو دی جانے والی نقدی اور قیمتی اشیا کو گننے اور ان کے انتظام میں خامیوں، ناکافی نگرانی اور غفلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس میں مالی احتساب کو مضبوط بنانے کے لیے عطیات کے انتظامی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی رپورٹ 15 دنوں میں جاری کر دی جائے گی۔ حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس نے اس سے قبل الزام لگایا تھا کہ ہندوؤں کی جانب سے دی گئی نقدی اور زیورات کو ٹرسٹ کی نگرانی میں مندر کے عملے نے منظم طریقے سے غائب کیا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پارٹی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مندر کمپلیکس کی تعمیر میں تقریباً 50 ارب روپے (40 کروڑ ڈالر) کا ’غلط استعمال‘ کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے سینیئر رہنما اور سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی کی 1980 کی دہائی کے آخر اور 1990 کی دہائی کے آغاز میں چلائی گئی اس مہم کا حوالہ دیتے ہوئے جس کے نتیجے میں بابری مسجد مسمار کی گئی تھی، پارٹی کے صدر ملکارجن ایم کھرگے نے کہا کہ ’یہ مندر پیسہ لوٹنے کے لیے تعمیر کیا گیا ہے۔ ایڈوانی کی رتھ یاترا کے بعد جمع ہونے والے پیسوں کا کسی نے کوئی حساب نہیں دیا۔ اب، مندر کی تعمیر کے بعد 50 ارب روپے کا غلط استعمال کیا گیا۔‘ اخبار دی ہندو کے مطابق انہوں نے مزید کہا، ’ایسی اطلاعات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پجاری نے بھگوان رام کے نام پر پیسوں کا غبن کیا ہے۔‘ دریں اثنا، عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ مندر کے ٹرسٹ نے اپنے دفتر اور عجائب گھر کے لیے مقامی بی جے پی رہنماؤں کے اہل خانہ سے انتہائی مہنگے داموں زمین خریدی ہے۔ رام مندر ایودھیا انڈیا چندہ عطیہ پولیس نے گرفتاری کی ایک رپورٹ میں کہا کہ ’دستیاب زبانی، دستاویزی اور الیکٹرانک شواہد سے یہ واضح ہے کہ چندہ گننے کے لیے تعینات ملازمین نے تواتر کے ساتھ چوری اور خورد برد کر کے جرم کا ارتکاب کیا۔‘ وشوام سنکرن جمعہ, جولائی 3, 2026 – 14: 30 Main image:
25 نومبر 2025 کو ایودھیا میں رام مندر پر ایک ہندو مذہبی جھنڈا میں لہرا رہا ہے (اے ایف پی)
ایشیا type: news related nodes: بابری مسجد کی جگہ بنے رام مندر پر جھنڈا لہرانا افسوسناک: پاکستان بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا افتتاح، پاکستان کی مذمت ایودھیا: رام مندر کا افتتاح قریب لیکن متبادل مسجد کی تعمیر میں دیر رام مندر کا افتتاح قریب، ایودھیا کے مسلمانوں کی تلخ یادیں تازہ SEO Title: ایودھیا مندر ’لُوٹنے کے لیے بنایا گیا‘ چندے میں مبینہ خوردبرد پر گرفتاریاں copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/asia/india/ram-temple-india-donations-theft-arrest-b3003512. html show related homepage: Hide from Homepage



