71.1 F
Pakistan
Friday, September 18, 2026
HomeEnvironmentایک صدی سے زائد عرصے بعد بلی کی نئی نسل دریافت

ایک صدی سے زائد عرصے بعد بلی کی نئی نسل دریافت

جنوبی امریکا کے ملک بولیویا میں سائنس دانوں نے بلی کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک نئی نسل دریافت کی ہے، جو ایک صدی سے زائد عرصے بعد سامنے آنے والی بلی کی پہلی نئی سائنسی طور پر تسلیم شدہ نسل ہے۔ اس نئی نسل کا سائنسی نام ’لیوپارڈَس ٹِلکایو‘ رکھا گیا ہے۔مقامی آبادی اس بلی کو ”ٹِلکایو“ کے نام سے پکارتی ہے۔ یہ بلی جنوبی امریکا میں پائی جانے والی ”ٹائیگر کیٹس“ کے گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ چھوٹی جسامت کی بلی تقریباً پانچ پاؤنڈ یعنی دو سے ڈھائی کلوگرام کے قریب وزن رکھتی ہے۔ اس کا جسم دبلا پتلا ہے جبکہ ہلکے بھورے رنگ کی کھال پر گہرے رنگ کے گول اور پھول نما دھبے موجود ہیں۔ اپنی جسامت اور نشانات کی وجہ سے یہ بلی ایسی دکھائی دیتی ہے جیسے کسی تیندوے کو گھر میں پالی جانے والی بلی کے برابر کر دیا گیا ہو۔ نیشنل جیوگرافک کی ایکسپلورر اور تحقیق کی شریک مصنف پاؤلا نوگالس-اسکارانز کے مطابق جب بولیویا میں موجود اس بلی کا مشاہدہ کیا گیا تو اس کی خصوصیات پہلے سے موجود ٹائیگر کیٹس کی بیان کردہ خصوصیات سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ اس فرق نے محققین کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کیا کہ بولیویا میں دراصل ٹائیگر کیٹ کی کون سی نسل موجود ہے۔ نئی نسل کی شناخت صرف ظاہری شکل کی بنیاد پر نہیں کی گئی بلکہ اس کے لیے جینیاتی تحقیق بھی کی گئی۔ سائنس دانوں نے جنوبی امریکا کے مختلف ممالک سے حاصل کیے گئے 38 ٹائیگر کیٹس کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا، جن میں عجائب گھروں میں محفوظ آٹھ نمونے بھی شامل تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن جانوروں کو پہلے ایک ہی قسم کی ٹائیگر کیٹ سمجھا جاتا تھا، ان میں دراصل پانچ الگ جینیاتی نسلیں موجود ہیں۔ تحقیق کے مطابق لیوپارڈَس ٹِلکایو کا جینیاتی سلسلہ دوسری ٹائیگر کیٹس سے تقریباً 14 لاکھ سال پہلے الگ ہو گیا تھا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ڈی این اے میں پائی جانے والی نمایاں اختلاف اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ جانور ایک طویل عرصے تک دوسری نسلوں سے الگ رہا۔ بلیوں کے حوالے سے اتنا بڑا جینیاتی فرق عام طور پر الگ نوع یعنی نئی اسپیشیز کی سطح پر تقسیم کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلی مرتبہ اس بلی کو 2016 میں بولیویا کے ایک جنگلی حیات کے مرکز میں دیکھا تھا۔ ابتدا میں ان کا خیال تھا کہ یہ لیوپارڈَس ٹِلکایو نامی بلی کی نسل سے تعلق رکھتی ہے، کیونکہ اس نسل کی بلیوں پر بھی تیندوے جیسے نشانات پائے جاتے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں کے پاس اس نئی بلی کے بارے میں ابھی بہت محدود معلومات ہیں۔ تحقیق کے شریک سربراہ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف اینٹورپ سے وابستہ ارتقائی حیاتیات کے ماہر جوناس لیسکوارٹ کے مطابق اب تک محققین نے صرف دو زندہ جانوروں کا براہ راست جائزہ لیا ہے جبکہ کیمرہ ٹریپس سے حاصل ہونے والے ریکارڈ بھی محدود ہیں۔ نئی دریافت کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ دنیا میں ایک نئی بلی کی نسل کی سائنسی طور پر تصدیق ایک طویل عرصے بعد ہوئی ہے۔ تحقیق ’کرنٹ بائیالوجی‘ نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے، جس میں نئی نسل کی ظاہری خصوصیات اور جینیاتی شواہد کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا میں جنگلی حیات کے بارے میں ابھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔ بعض جانور ایسے علاقوں میں موجود ہو سکتے ہیں جہاں ان کا انسانوں اور سائنس دانوں سے محدود واسطہ پڑتا ہے، جس کے باعث ان کی درست شناخت کئی برسوں تک سامنے نہیں آتی۔ نوگالس۔اسکارانز نے اس دریافت کے حوالے سے کہا کہ دنیا انتہائی پیچیدہ ہے اور بعض اوقات انسان یہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے بیشتر حصے اور جاندار پہلے ہی معلوم ہو چکے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اور اب بھی بہت کچھ دریافت کیا جا سکتا ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments