امریکی ریپر میكلمور نے برطانوی گلوکار اور نغمہ نگار ایڈ شیرن کے دورے کے بارے میں خود ایڈ شیرن سے زیادہ بات کر لی ہے۔ میكلمور کو ایڈ شیرن کے امریکی ٹور کی باقی ماندہ تاریخوں سے ہٹا دیا گیا کیونکہ منتظمین نے فلسطین کی حمایت میں ان کے کھل کر اظہارِ رائے پر اعتراض کیا تھا۔ اگرچہ وہ کہتے ہیں کہ اس معاملے پر ان کی ایڈ شیرن سے ’مشکل گفتگو‘ ہوئی ہیں، لیکن خود شیرن نے عوامی سطح پر اس بارے میں بہت کم بات کی ہے کہ آخر ہوا کیا تھا۔ یہ ہی خاموشی جدید دور کی مشہور شخصیات کی ایک علامت بنتی جا رہی ہے: وہ ہر جگہ موجود ہیں، مسلسل نظر آتے ہیں، لیکن کسی واضح مؤقف کے اظہار سے حیرت انگیز حد تک گریزاں ہیں۔ اور یقیناً یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ مشہور شخصیات پر لازم نہیں کہ وہ ہر معاملے پر رائے رکھیں، کجا یہ کہ اس کا اظہار بھی کریں۔ ان کا کام تفریح فراہم کرنا ہے، دنیا بھر کے تنازعات کو حل کرنا نہیں، لیکن یہی بات شیرن کی خاموشی کو مایوس کن بناتی ہے۔ ہم نے کبھی اتنے زیادہ معروف افراد کو بولتے نہیں دیکھا، لیکن کسی طرح ان کے پاس کہنے کو کبھی اتنی کم باتیں نہیں تھیں۔ امریکی شہر بوسٹن میں 14 دسمبر 2025 کو ٹی ڈی گارڈن میں آئی ہارٹ ریڈیو کے ’جنگل بال 2025‘ پروگرام کے دوران ایڈ شیرن پرفارم کر رہے ہیں (اے ایف پی) آج کی مشہور شخصیت ایک اشتعال انگیز مفکر سے زیادہ ایک علامت بن چکی ہے۔ مجھے اچھا لگتا ہے جب کوئی مشہور شخصیت کسی مسئلے کے بارے میں شعور بیدار کرتی ہے، کیونکہ ہمیں ضرورت ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم اس مقصد کے لیے استعمال کریں۔ لیکن اکثر اوقات ’شعور اجاگر کرنا‘ ہی ان کی شمولیت کا آغاز بھی ہوتا ہے اور اختتام بھی: احتیاط سے لکھا گیا سوشل میڈیا پیغام، کسی خیراتی تقریب میں شرکت، کسی ثقافت سے متاثر ہو کر گایا گیا گیت۔ یہ سب ایسے نمائشی اشارے ہیں جو بامعنی نظر تو آتے ہیں لیکن ٹھوس نہیں ہوتے۔ ہمیں مشہور شخصیات سے ہر سوال کا جواب درکار نہیں، لیکن کیا ہم ان سے محض ہمدرد دکھائی دینے کے بجائے کچھ زیادہ حقیقی اور مؤثر مطالبہ نہیں کر سکتے؟ ایرانی ہونے کے ناطے میں واقعی پرجوش تھی جب شیرن نے اپنا گانا ’عزیزم‘ جاری کیا، خاص طور پر اس لیے کہ اس میں ایرانی گلوکارہ گوگوش بھی شامل تھیں۔ دنیا کے سب سے بڑے پاپ ستاروں میں سے ایک کا فارسی ثقافت کو اپنانا اور اسے دنیا کے سامنے پیش کرنا ایرانیوں اور دنیا بھر میں مقیم ایرانی برادری کے لیے معنی رکھتا تھا۔ لیکن جب بہادر (ایرانی) مظاہرین کو پھانسی دی جا رہی ہو، جب ایک ملک پر مسلسل بم برس رہے ہوں، تو کیا ہمیں کم از کم تھوڑی سی گفتگو بھی نہیں مل سکتی؟ صرف نمائشی جملے یا علامتی اشارے اب کافی نہیں رہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں سمجھتی ہوں ہر پاپ سٹار یا اداکارہ کو خارجہ پالیسی کا ماہر بن جانا چاہیے۔ میں صرف یہ پوچھ رہی ہوں کہ اگر آپ کے پاس اس ثقافت کے لوگوں کے بارے میں، جو اس کے تاریک ترین لمحات سے گزر رہے ہیں، کہنے کو کچھ نہیں، تو پھر اس ثقافت کا جشن منانے کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ذرا 2000 کی دہائی کو یاد کریں۔ مشہور شخصیات جو خیالات کا اظہار کرتی تھیں، ضروری نہیں کہ اچھی مفکر بھی تھیں۔ وہ مضحکہ خیز، خود پسند یا مکمل طور پر غلط بھی ہو سکتی تھیں، لیکن ان کا ایک مؤقف ہوتا تھا۔ وہ ایسی باتیں کرتی تھیں جن پر بحث ہو سکتی تھی۔ وہ آپ کو اختلاف کا موقع دیتی تھیں۔ تنازع گندا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ بحث و مباحثہ کاروبار کے لیے اچھا نہیں سمجھا جاتا، اس لیے اس کے بجائے ہمیں انٹرویوز اور سوشل میڈیا پوسٹس کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ملتا ہے جن میں مشہور شخصیات ہمیں بتاتی ہیں کہ وہ کیا کھا رہی ہیں، کیا سن رہی ہیں اور اپنے لیے کیا خواب دیکھ رہی ہیں۔ اور جب بات دنیا کے حالات کی طرف مڑتی بھی ہے تو ہم انہیں پلیٹ میں پڑے کھانے کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن گفتگو ختم ہونے تک ہمیں اس بارے میں تقریباً کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ درحقیقت کیا سوچتی ہیں۔ کیا اس میں قصور ہمارا ہے؟ میرا پختہ یقین ہے کہ ہر شخص صحیح بات کے حق میں آواز اٹھا سکتا ہے، خواہ اس کے پاس پلیٹ فارم ہو یا نہ ہو۔ لیکن ہم نے ’ویچ ہنٹ‘ طرز کی ایسی فضا پیدا کر دی ہے جہاں کوئی مشہور شخصیت اگر نامکمل یا ناقص رائے کا اظہار کرے تو اسے خاموش رہنے کے مقابلے میں زیادہ سزا مل سکتی ہے۔ ہم ان لوگوں سے رائے کا مطالبہ کرتے ہیں جنہوں نے کبھی خود کو ماہر قرار نہیں دیا اور پھر جب وہ لازماً کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں تو انہیں سزا دیتے ہیں۔ ایسے میں یہ حیران کن نہیں کہ خاموشی ایک معقول ردِعمل محسوس ہونے لگے، لیکن جواب نہ ہونے اور سوال سے ہی گریز کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ چاہے معاملہ خواتین کے حقوق کا ہو، آئی سی ای کا، فلسطین کا، ایران کا یا موسمیاتی تبدیلی کا، یعنی اس افسردہ دنیا کے واقعی اہم مسائل میں سے کسی کا بھی، ہمیں اب ایسے بیانات مسلسل مل رہے ہیں جنہیں اتنی احتیاط سے تیار کیا گیا ہوتا ہے کہ لگتا ہے انہیں کسی ایسی کمیٹی نے لکھا ہے، جس کا واحد مقصد کسی کو بھی ناراض نہ کرنا ہو۔ این ایچ ایس کے لیے تالیاں بجانے کی مہم یاد ہے؟ اس سے اچھا محسوس ہوا تھا، اس نے ہمیں یہ احساس دیا تھا کہ ہم بھی کسی طرح شامل ہیں، لیکن تالیاں بجانے سے ہسپتال کو فنڈ نہیں ملتا اور نہ ہی آپ کسی نرس کے بہتر کام کے حالات کے لیے صرف تالیاں بجا سکتے ہیں۔ شعور اجاگر کرنے کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے: آسان، کم خرچ، اور وقتی جوش پیدا کرنے والا، لیکن اس فوری سرشاری کے بعد اس کا پائیدار اثر کیا رہ جاتا ہے؟ لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ ایڈ شیرن جیسی مشہور شخصیات پر کوئی سیاسی رائے واجب الادا ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم مشہور شخصیات کے ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہم اپنے پسندیدہ آئیکونز سے واقعی یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں بتائیں کہ وہ کیا سوچتے ہیں؟ ممکن ہے ایڈ شیرن کے پاس درست جواب نہ ہو، یا شاید کوئی خاص اچھا جواب بھی نہ ہو۔ لیکن کم از کم یہ دلچسپ تو ہوتا اگر ان کے پاس کہنے کے لیے کچھ ہوتا۔ ایڈ شیرن فلسطین گلوکار برطانیہ ہم نے کبھی اتنے زیادہ مشہور لوگوں کو بولتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا آج، لیکن کسی طرح ان کے پاس کہنے کو پہلے سے بھی کم باتیں ہیں۔ امیرا آراسته جمعرات, ستمبر 17, 2026 – 06: 45 Main image:
امریکی شہر بوسٹن میں 14 دسمبر 2025 کو ٹی ڈی گارڈن میں آئی ہارٹ ریڈیو کے ’جنگل بال 2025‘ پروگرام کے دوران ایڈ شیرن پرفارم کر رہے ہیں (اے ایف پی)
بلاگ type: news related nodes: ’فری فلسطین‘ کے نعرے لگانے پر میکلمور، ایڈ شیرن کے ٹور سے باہر غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کا اسرائیلی منصوبہ، پاکستان سمیت آٹھ ملکوں کی مذمت پاکستان آئیڈل: نئے گلوکار اور ’بڑا سرپرائز‘ مشہور ترک راک گلوکار کرپشن کے الزام میں گرفتار SEO Title: ایڈ شیرن کی بڑی ناکامی یہ ہے کہ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/voices/ed-sheeran-macklemore-palestine-gaza-israel-b3050579. html Translator name: ہارون رشید show related homepage: Hide from Homepage



