75 F
Pakistan
Saturday, September 26, 2026
HomePoliticsایرانی صدر کی اقوامِ متحدہ کے ایٹمی معائنہ کاروں کو بلانے اور...

ایرانی صدر کی اقوامِ متحدہ کے ایٹمی معائنہ کاروں کو بلانے اور مذاکرات کی مشروط پیشکش

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک اقوامِ متحدہ کے ایٹمی معائنہ کاروں کو دوبارہ ایران میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر نے تصدیق کی کہ اگر اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کار دورہ کرنا چاہتے ہیں تو مذاکرات کے دوران اس مخصوص نقطے پر معاہدے کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا اور تنازع کا خاتمہ اب امریکی فیصلہ سازی پر منحصر ہے۔ مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ اگر اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں تو ایک دوسرے کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم نیا معاہدہ بین الاقوامی قانونی دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے اندرونی امور کے چیئرمین محمد صالح جوکار نے یورینیم کی ساٹھ فیصد حد تک افزودگی جاری رکھنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف سطحوں پر یورینیم کی افزودگی ایرانی عوام کا قانونی اور بنیادی حق ہے۔ قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق، ان کا کہنا تھا کہ ہم ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتے لیکن صنعت، ادویات، زراعت اور ایندھن کے لیے ایٹمی سائنس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ محمد صالح جوکار نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ دعویٰ کہ ہمیں ساٹھ فیصد افزودگی کی ضرورت نہیں، دراصل وہی بات ہے جو ہمارے دشمن چاہتے ہیں، اس لیے ہمیں اپنے اس حق کا دفاع کرنا ہوگا۔ ایران میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں چینی صدر شی جن پنگ کے کردار کو بھی سراہا جا رہا ہے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والی ملاقات کے دوران چینی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ امریکا اور ایران جنگ ختم کرنے کے لیے دوبارہ بات چیت کی طرف لوٹیں۔ اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ اختلافات کو بات چیت اور سفارت کاری سے حل کرنے کے لیے چینی صدر کی سنجیدہ حمایت قابلِ قدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی جانب واپسی، پہلے سے طے شدہ وعدوں کی پاسداری اور سنجیدہ و نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے ماحول بنانے کا حامی ہے کیونکہ علاقائی امن و استحکام اور قومی خودمختاری کے احترام پر تہران اور بیجنگ کے خیالات میں مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments