ہم اس معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں دوسرے کو حقیر سمجھنے والا اس بات پر بضد رہتا ہے کہ اسے عظیم سمجھا جائے جسے تھوڑی بہت شہرت مل جاتی ہے، وہ خود کو ارسطو سمجھنے لگتا ہے اور اپنے اردگرد رہنے والوں پر اپنی علمیت کو تسلیم کرانے کے لئے ہتھوڑے برساتا ہے۔
ہم اس معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں دوسرے کو حقیر سمجھنے والا اس بات پر بضد رہتا ہے کہ اسے عظیم سمجھا جائے جسے تھوڑی بہت شہرت مل جاتی ہے، وہ خود کو ارسطو سمجھنے لگتا ہے اور اپنے اردگرد رہنے والوں پر اپنی علمیت کو تسلیم کرانے کے لئے ہتھوڑے برساتا ہے۔