مصنف: صادق حسینقسط: 97کلثوم: ہوتا ہے۔ (دیواری گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جس پر7 بج کر30 منٹ ہوئے ہیں) ہمارے گھر کی نبض وقت کے ہاتھ میں ہے۔ میں جانتی ہوں کہ اب آپ پوری تنخواہ گھر لائیں گے۔پروفیسر چشتی: (پلٹ کر) میرا مشن پورا ہو چکا ہے۔کلثوم: میں بھی اس مسئلے پر سوچتی رہی ہوں۔ یہ وقت کسی پر بھی آ سکتا ہے۔ آپ نے کہا تھا ”تم خود ایک ماں ہو۔ تمہاری مامتا کی عظمت صرف خالد کے لئے نہیں، شازیہ کے لئے بھی ہونی چاہئے۔ (رک کر) مجھے شازیہ سے ہمدردی ہے۔پروفیسر چشتی: انسان وقت پر رائے قائم کر لے تو اچھا ہے…… مگر یہ تو معاملہ ہے اُلٹی کھوپڑی اندھا گیان۔کلثوم: اُلٹی کھوپڑی کے تم ہو۔ خدا کی پناہ، سیدھی بات میں بھی مین میخ نکالتے ہو۔ پروفیسر ہو گے تو کالج میں، گھر میں تو میرے وہ ہو۔(رک کر دیوار گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے)7 بج کر 35منٹ ہونے والے ہیں۔پروفیسر چشتی مسکراتا اور کمرے سے باہر نکل جاتا ہے۔خالد، جو ملحقہ کمرے میں باتیں سن رہا تھا اندر آتا ہے۔ ماں بیٹا، دیوار گھڑی کی طرف دیکھتے ہیں۔ 7 بج کر 35منٹ ہو چکے ہیں۔ دونوں مسکراتے اور اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔CUT TO CUT پروفیسر چشتی اپنے باوقار انداز سے قدم رکھتا، گلی سے گزرتا ہے۔ آنے جانے والوں کو سلام کا ہاتھ سے جواب دیتا ہے۔ بچہ، کھڑکی میں سے پروفیسر چشتی کو دیکھ کر اندر چلا جاتا ہے۔حلوائی: (ہاتھ اُٹھا کر مخصوص لاہوری لہجے میں) سلاما لیکم پروفیسر جی۔(پروفیسر چشتی ہاتھ سے سلام کاجواب دیتا ہے۔)حلوائی: (گاہکوں سے مخاطب ہو کر) لو جی ست وج کے چھتی منٹ ہو گئے جے۔پروفیسر چشتی، میوہ فروش اور پھول والے کی دکانوں کے قریب پہنچتا ہے تو دونوں دکان دار، بوہنی کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ پروفیسر چشتی کچھ خریدے بغیر آگے بڑھ جاتا ہے۔میوہ فروش اور پھول والا: سلام لیکم پروفیسر جی۔پروفیسر چشتی پلٹ کر دکان داروں کی طرف دیکھتا ہے۔ مسکرا کر ہاتھ سے سلام کا جواب دیتا ہے۔ اپنے مخصوص انداز سے قدم رکھتا آگے بڑھ جاتا ہے۔سین 12کالج کے میٹنگ روم میں گورننگ باڈی کے اجلاس کا منظر۔ پروفیسر چشتی، گورننگ باڈی کے چیئرمین کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہے۔ اُس کے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے، پروفیسر چشتی کا کلوز اپ۔پروفیسر چشتی: So, Mr. Chairman چیئرمین کا کلوز اپ۔ اس کا چہرہ، تاسف اور سوچ کا اظہار کرتا ہے۔پروفیسر چشتی: and honourable members of the Governing Body یکے بعد دیگرے ممبران کے کلوز اپ۔ چہرے سوچ کا اظہار کرتے ہیں۔پروفیسر چشتی: استاد اور شاگرد کا رشتہ، درسگاہ کی چاردیواری تک محدود نہیں۔پروفیسر چشتی، کاغذ چیئرمین کو دے کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ چیئرمین اور گورننگ باڈی کے ممبران احتراماً کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چیئرمین کے ہاتھ کا کلوز اپ جو کاغذ کو مسل رہا ہے۔ پروفیسر چشتی میٹنگ روم سے باہر نکلتا ہے۔ اس کے پیچھے پیچھے، چیئرمین اور گورننگ باڈی کے ممبران بھی۔(جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اکیسویں صدی کے آغاز تک فلمیں ریلوں کی شکل میں ہی مہیا کی جاتی تھیں، جن کو امریکی”اسپول“ کہتے تھے،پرنٹ بنوانا بہت مہنگا پڑتا تھا
”اُلٹی کھوپڑی اندھا گیان“ اُلٹی کھوپڑی کے تم ہو، خدا کی پناہ، سیدھی بات میں بھی مین میخ نکالتے ہو، پروفیسر ہو گے کالج میں، گھر میں تو میرے وہ ہو
RELATED ARTICLES



