مصنف: اللہ دتہ نجمی قسط: 96وہ جیسے جیسے گفتگو کر رہے تھے، میرے اندر کے خوف میں بتدریج کمی آتی جا رہی تھی مگر یہ کمی اُس سطح پر نہیں آ سکی تھی کہ میں کمرے میں جا کر اُن کے ساتھ چائے پیتا اور بات چیت کرتا۔
ان کے نام کی دہشت سے بڑے بڑوں کا پِتا پانی ہو جایا کرتا،جیسے جیسے گفتگو کر رہے تھے، میرے اندر کے خوف میں بتدریج کمی آتی جا رہی تھی
RELATED ARTICLES



