2016 کے موسم خزاں میں دو سالہ بچی کو ایمسٹرڈیم میں اس کے گھر سے اٹھایا گیا اور اس کے سگے باپ کی ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اسے کئی سرحدیں پار کرائی گئیں۔ اس سفر میں پرتشدد اغوا، کئی بار گاڑیوں کی تبدیلی اور آخر کار جعلی سفری دستاویزات پر انڈیا میں غیر قانونی داخلہ شامل تھا۔ تقریباً ایک دہائی بعد بھی انسیہ ہمانی انڈیا میں ہی ہے۔ ایک ایسی بچی جو اب اپنی سگی ماں کو نہیں جانتی۔ ایک ایسی خاتون جس نے اپنے سابق شوہر کو سزا دلوانے اور اپنی بچی سے دوبارہ ملنے کے لیے برسوں پر محیط قانونی اور لابنگ مہم شروع کر رکھی ہے۔ انسیہ کی ماں نادیہ راشد نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ان کے سابق شوہر شہزاد ہمانی نے اس اغوا کے لیے ایک انتہائی ماہر بین الاقوامی ٹیم کی خدمات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ اس گروہ میں دو سابق پولیس افسر، ایک سابق میرین، ایک سابق ایف بی آئی ایجنٹ، سی آئی اے کا ایک سابق اہلکار اور ایک ڈچ پولیس افسر کی بیٹی شامل تھے۔ گھریلو جھگڑے سے شروع ہونے والا یہ معاملہ اب بچوں کے اغوا کے حوالے سے یورپ کے حساس ترین سیاسی مقدمات میں سے ایک بن چکا ہے، اور ساتھ ہی یہ انڈیا کے لیے ایک بڑا سفارتی درد سر بھی بن گیا ہے۔ رواں موسم گرما کے اوائل میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے چار یورپی ممالک کے دورے کے دوران، نیدرلینڈز میں یہ مسئلہ دوبارہ اخبارات کے صفحہ اول کی زینت بنا۔ نادیہ راشد اور شہزاد ہمانی نے مختصر رومانوی تعلق کے بعد 2011 میں ممبئی میں شادی کی تھی، لیکن ان کے تعلقات خراب ہونے کے باعث یہ حسین خواب تقریباً فوراً ہی بکھر گیا۔ نادیہ راشد کہتی ہیں کہ ’جس دن ہماری شادی ہوئی، اسی دن سے حالات خراب ہونا شروع ہو گئے تھے۔‘ تاہم، انسیہ 2014 میں ایمسٹرڈیم میں پیدا ہوئی، جسے پیدائشی حق کے طور پر ڈچ شہریت ملی۔ بچی کی تحویل کے لیے عدالتی جنگ اغوا سے برسوں پہلے شروع ہو چکی تھی۔ شہزاد ہمانی نے نیدرلینڈز میں ہیگ کنونشن کے تحت بچوں کے اغوا کا مقدمہ دائر کیا اور الزام عائد کیا کہ نادیہ راشد نے 2014 میں غیر قانونی طور پر انسیہ کو ممبئی سے نیدرلینڈز منتقل کیا تھا۔ 2014 میں جب اس کے والدین کے درمیان تحویل کا تنازع شروع ہوا تو انسیہ دو سال کی تھی (فراہم کردہ تصویر) ہیگ کی ڈسٹرکٹ عدالت نے جولائی 2015 میں یہ دعویٰ مسترد کر دیا۔ بعد ازاں ڈچ عدالتوں نے نادیہ راشد کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اکتوبر 2015 میں شہزاد ہمانی کو انسیہ کا پاسپورٹ حوالے کرنے کا حکم دیا اور مارچ 2016 میں بچی کو عبوری تحویل میں ماں کے سپرد کر دیا۔ ڈچ عدالتوں کے مطابق، شہزاد ہمانی نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔ 29 ستمبر 2016 کی صبح انہوں نے ’آپریشن بارنی‘ شروع کرنے کی منظوری دی، جو انسیہ کو اس کی نانی کے پاس سے اغوا کرنے کا ایک منظم مشن تھا۔ ڈچ حکام کے مطابق، بچی کو اغوا کرنے کے اس منصوبے میں ڈسپوزل ایبل فون، ایک ٹیزر اور پلاسٹک کی پٹیاں شامل تھے۔ شہزاد ہمانی کی سزا برقرار رکھنے کے اپنے فیصلے میں، ایمسٹرڈیم کی کورٹ آف اپیل نے نوٹ کیا کہ یہ کارروائی ’ایک باقاعدہ منصوبے، پیشہ ورانہ مہارت اور انتہائی محتاط انداز‘ کے ساتھ کی گئی تھی۔ اغوا کاروں نے نادیہ راشد کی نقل و حرکت پر نظر رکھی ہوئی تھی اور منصوبہ بنایا تھا کہ جب وہ کام پر ہوں تو وہ کارروائی کریں گے۔ عدالتی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ایمسٹرڈیم میں نادیہ راشد کی والدہ کے گھر کے باہر ایک شخص کو نگرانی کے لیے کھڑا کیا۔ جیسے ہی نادیہ راشد، انسیہ کو چھوڑ کر وہاں سے روانہ ہوئیں تو مذکورہ شخص نے ڈسپوزل ایبل فون کے ذریعے اپنے گروہ کے دیگر ارکان کو اشارہ دے دیا۔ نادیہ راشد کے مطابق: ’میں انہیں اغوا کار اس لیے کہتی ہوں کیوں کہ انہوں نے کرائے کے لوگوں کی خدمات حاصل کیں۔ کون سے والدین کسی دو سالہ معصوم بچی کو اغوا کرنے کے لیے اجنبیوں کو اجازت دیں گے؟‘ اشارہ ملتے ہی، تین افراد نے بلدیاتی اہلکاروں کا روپ دھار کر گھر کی گھنٹی بجائی اور زبردستی اندر گھس گئے۔ جب انسیہ کو اغوا کیا گیا تو وہ ناشتہ کر رہی تھی۔ نادیہ راشد کہتی ہیں، ’شور سن کر جب تک میری بہن وہاں پہنچیں، وہ انسیہ کو اٹھا چکے تھے۔ انہوں نے اسے گاڑی میں ڈالا اور وہاں سے فرار ہو گئے۔‘ نادیہ راشد کی بہن اور انسیہ کی نانی نے گھر میں داخل ہونے والے تین افراد کو انسیہ کو لے کر جانے سے روکنے کی کوشش کی، اس دوران ان کی ایک شخص کے ساتھ شدید ہاتھا پائی ہوئی۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق مذکورہ شخص کو خاص طور پر ’ڈور سٹاپر‘ کے طور پر رکھا گیا تھا تاکہ دیگر افراد کو فرار ہونے کا وقت مل سکے۔ اس شخص نے انسیہ کی نانی کو ٹیزر لگایا جس کے بعد انہیں فرار ہونے سے روک لیا گیا۔ بعد میں انہیں موقعے پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے ملزموں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی اور فوری طور پر ایمبر الرٹ جاری کر دیا، جو اس وقت جاری کیا جانے والا سب سے اعلیٰ الرٹ ہوتا ہے جب پولیس کو شبہ ہو کہ کسی بچے کی جان کو خطرہ ہے۔ اغوا کار ایمسٹرڈیم سے 32 کلومیٹر دور ایک طے شدہ مقام پر پہنچے اور انسیہ کو دوسری گاڑی میں منتقل کر دیا، جس میں اس کے والد شہزاد ہمانی انتظار کر رہا تھے۔ انہوں نے گروہ کی تشکیل تبدیل کی اور پھر الگ الگ ہو گئے، اور جرمنی جانے سے پہلے مختلف گاڑیوں میں اس مقام سے روانہ ہوئے۔ نادیہ راشد کا الزام ہے کہ شہزاد ہمانی نے انسیہ کو میونخ سے نکالنے کے لیے نجی طیارے کا کرایہ ادا کیا، اور وہ انڈیا میں داخل ہونے کے لیے یونانی جزیرے، ترکی اور نیپال کے راستے سفر کرتے رہے۔ انڈیا اور نیدرلینڈز دونوں کی عدالتی دستاویزات میں اس سفر کو قانونی سفری دستاویزات کے بغیر دو سالہ بچی کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے، تاہم اس میں اختیار کیے گئے راستے کی مکمل تفصیل نہیں بتائی گئی۔ شہزاد ہمانی کو پہلی بار اکتوبر 2020 میں ایمسٹرڈیم ڈسٹرکٹ کورٹ نے اپنی بیٹی کے اغوا پر اکسانے کے جرم میں سزا سنائی تھی۔ عدالت کے مطابق انہوں نے اس کارروائی کی منصوبہ بندی کی، مالی معاونت کی، اسے منظم کیا اور ہدایات دیں جس کے نتیجے میں انسیہ کو ایمسٹرڈیم میں اس کی نانی کے گھر سے زبردستی لے جایا گیا۔ ایمسٹرڈیم ڈسٹرکٹ عدالت نے اس مقدمے کے فیصلے میں لکھا: ’عدالت سمجھتی ہے کہ اس کی منصوبہ بند نوعیت حقائق کی سنگینی اور جرائم میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ ایک واضح مشن کے ساتھ ایک پراجیکٹ کے طور پر ایک بے بس بچی کا اغوا اور پولیس اور فوجی پس منظر رکھنے والے افراد کی جانب سے بے عیب منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد۔‘ شہزاد ہمانی مسلسل نادیہ راشد کے بیان کی تردید کرتا رہے ہیں۔ وہ اپنے اقدامات کو اغوا تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے انڈین عدالتوں میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تحویل کا فیصلہ انسیہ کی فلاح و بہبود اور موجودہ حالات کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ اس طریقے کی بنیاد پر جس کے تحت اسے انڈیا لایا گیا تھا۔ اغوا کے چند ہفتے بعد ہی، جب ڈچ پولیس کارروائی کرنے والوں کو تلاش کر رہی تھی، شہزاد ہمانی نے انڈیا میں ایک متوازی قانونی مہم شروع کر دی۔ 10 نومبر 2016 کو، انسیہ کو انڈیا لائے جانے کے چند ہفتے بعد، شہزاد ہمانی نے ممبئی فیملی کورٹ میں جاری مقدمے میں ایک درخواست دائر کی جس میں اعلان کیا گیا کہ بچی اب عملی طور پر ان کی تحویل میں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نادیہ راشد 2014 کے آخر میں بچی کے ساتھ نیدرلینڈز کا سفر کرتے ہوئے اسے غلط طریقے سے وہاں لے گئیں اور انڈیا واپس آنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے ڈچ عدالتوں کے سامنے دلیل دی کہ انڈیا، انسیہ کی مستقل رہائش گاہ ہے۔ انہوں بعد ازاں یہ مؤقف اختیار کیا کہ تحویل کا فیصلہ اسے انڈیا لانے کے طریقے کی بجائے بچی کی فلاح و بہبود اور موجودہ حالات کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ درخواست کے مطابق، ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی اور بیٹی سے رابطے کے لیے 15 بار نیدرلینڈز کا دورہ کیا، لیکن انہیں ’محدود رسائی‘ دی گئی، جس کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی۔ جنوری 2023 میں ممبئی ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے گذشتہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جس میں شہزاد ہمانی کی اس بات سے اتفاق کیا گیا تھا کہ بچی کی منتقلی کے حالات، بشمول نیدرلینڈز میں اس کا اغوا، انڈین تحویل کی کارروائی سے غیر متعلقہ تھے۔ جسٹس امت بورکر نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ اغوا کا شہزاد ہمانی کے کردار اور انسیہ کی فلاح و بہبود دونوں پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ کارروائی کی تفصیلات، بشمول یہ کہ آیا سفر کے دوران انسیہ کو ممکنہ طور پر خطرناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، تحویل کا فیصلہ کرنے کے لیے اہم عوامل تھے۔ یہ مقدمہ تقریباً ایک دہائی سے اس لیے بھی التوا کا شکار ہے کیوں کہ انڈیا بچوں نے بین الاقوامی اغوا سے متعلق ہیگ کنونشن پر دستخط کنندہ نہیں کیے جس کی وجہ سے ڈچ عدالتوں کے احکامات پر عمل درآمد مشکل ہو گیا ہے اور والدین کو دو ممالک میں متوازی قانونی جنگ لڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ نادیہ راشد کا کہنا ہے کہ گھر سے اغوا ہونے کے بعد سے وہ اپنی بیٹی سے نہیں ملیں (فراہم کردہ تصویر) انڈیا کے مالیاتی مرکز میں واقع مہنگے علاقے باندرہ میں اپنے اپارٹمنٹ سے ممبئی مرر کو دیے گئے غیر معمولی انٹرویو میں شہزاد ہمانی نے انسیہ کو انڈیا لانے کا دفاع کرتے ہوئے اسے اپنی بیٹی کو ’نادیہ سے بچانے‘ کے لیے ’ریسکیو‘ قرار دیا۔ دی انڈپینڈنٹ نے اس حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے شہزاد ہمانی کی قانونی ٹیم سے رابطہ کیا ہے، لیکن اس خبر کی اشاعت کے وقت تک کوئی ٹھوس جواب موصول نہیں ہوا۔ واشی اینڈ واشی کی قانونی فرم سے تعلق رکھنے والے شہزاد ہمانی کے ایک وکیل نے کہا، ’ہم اس معاملے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی کوئی تفصیلات جاری کر سکتے ہیں کیوں کہ یہ مقدمہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔‘ مئی میں جب انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈچ بادشاہ ولیم الیگزینڈر اور ملکہ میکسیما سے ملاقات کی، تو دی ہیگ میں ہوئس ٹین بوش محل کے باہر تقریباً 50 مظاہرین کا ایک گروپ جمع تھا۔ انہوں نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ’انسیہ کو گھر لاؤ‘، ‘کسی بچے کو 10 سال انتظار نہیں کرنا چاہیےُ اور ’انسیہ کو اس کی ماں کو واپس کرو۔‘ نادیہ راشد نے خود بھی کتبہ اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ ’وزرائے اعظم مودی اور جیٹن، انسیہ کب گھر آ رہی ہے؟‘ نریندر مودی کے ساتھ اپنی ملاقات کے بعد، ڈچ وزیر اعظم روب جیٹن نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے دیگر موضوعات کے علاوہ ’انسیہ کو اس کے والد کی جانب سے اغوا کر کے انڈیا لے جانے کے مقدمے کے بارے میں بھی بات کی۔‘ وزیر خارجہ ٹام بیرنڈسن نے اعتراف کیا کہ اس مقدمے میں پیش رفت نہ ہونے پر ڈچ حکومت کی ’مایوسی‘ بڑھ رہی ہے۔ تقریباً ایک دہائی تک اس مقدمے کو بنیادی طور پر ایک معمول کا قونصلر معاملہ سمجھنے کے بعد، اب ڈچ حکومت اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہے، جس کے تحت ایک خصوصی سفارتی وفد انڈیا بھیجا جا رہا ہے۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق، یہ وفد اس مقدمے کو ’حقیقی معنوں میں ٹھوس انداز میں‘ حل کرنے کی کوشش کرے گا، جب کہ بالآخر نادیہ راشد اور ان کی بیٹی کے درمیان آمنے سامنے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) نادیہ راشد بتاتی ہیں، ’یہ اس سے بالکل مختلف اور بہت زیادہ جارحانہ حکمت عملی ہے جو ہم ماضی میں اپناتے رہے ہیں۔‘ ایک تھکا دینے والی، دہائی طویل دائرہ اختیار کی رسہ کشی کے درمیان، دو سالہ انسیہ اب 12 سال کی لڑکی بن چکی ہے۔ انڈین عدالتوں کے دباؤ پر شہزاد ہمانی نے ابتدائی طور پر اغوا کے بعد کے سال میں نادیہ راشد کو انسیہ کے ساتھ سکائپ پر چند کالز کرنے کی اجازت دی، لیکن عدالتی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سلسلہ کافی عرصے سے بند ہو چکا ہے۔ مئی 2024 میں کورٹ آف اپیل ایمسٹرڈیم کے ایک فیصلے میں لکھا گیا کہ ’انسیہ اور اس کی والدہ کے درمیان آخری بار ویڈیو کال پر رابطہ ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں۔‘ نادیہ راشد نہیں جانتیں کہ ان کی ڈھائی سالہ بچی بڑی ہو کر کیسی انسان بن چکی ہے؟ یا اب وہ کیسی دکھتی ہے؟ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں جب وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ انسیہ کا تصور کرتی ہیں تو اس کی اب بھی بڑی آنکھیں، خوبصورت پلکیں، گھنگھریالے کالے بال اور چہرے پر بڑی سی مسکراہٹ دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ ہمیشہ سے گول مٹول سی تھی۔ وہ ہمیشہ گول مٹول تھی۔ انسیہ کی شخصیت بہت شوخ ہے، اور وہ بہت شرارتی ہے، بہت شرارتی ہے۔‘ نادیہ راشد کو نہیں معلوم کہ آیا انسیہ کو اپنے مقدمے کے حوالے سے میڈیا کی خبریں پڑھنے کی اجازت ہے یا نہیں۔ وہ نہیں جانتی کہ ان کی بیٹی یہ خبر پڑھے گی یا نہیں۔ لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس اس کے لیے کوئی پیغام ہے، تو انہوں نے کہا: ’انسیہ، گھر واپس آ جاؤ۔ ماما تم سے پیار کرتی ہیں اور، تم جانتی ہو، ماما صرف اتنا چاہتی ہیں کہ تم محفوظ رہو۔ تم ڈچ شہری ہو۔ تم کسی بھی وقت ڈچ قونصل خانے جا سکتی ہو۔ میں تم سے پیار کرتی ہوں، مجھے تمہاری بہت یاد آتی ہے، اور مجھے تم پر فخر ہے، اور میں تمہاری ماں ہونے پر بہت شکر گزار ہوں۔‘ نیدرلینڈز انڈیا بیٹی ماں والدین اغوا بیٹی کے اغوا کے جرم میں نیدرلینڈز کی عدالت سے سزا یافتہ شخص ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بچی کے ساتھ انڈیا میں مقیم ہیں۔ شویتا شرما سوموار, جولائی 6, 2026 – 09: 30 Main image:
مبینہ اغوا سے قبل انسیہ اپنی والدہ نادیہ راشد کے ساتھ (فراہم کردہ تصویر)
دنیا type: news related nodes: نیدرلینڈز: گیرٹ ولڈرز کے قتل پر اکسانے پر دو پاکستانیوں کو سزا پاکستان اور نیدرلینڈز کے ایک دوسرے پر ’احسانات‘ دشت سانحہ: ’بیٹیاں بار بار پوچھتی ہیں بابا کب آئیں گے؟‘ انڈیا جانے والی برطانوی خاتون کے دماغ میں 38 کیڑے کیوں پیدا ہوئے؟ SEO Title: انڈین والد کے ہاتھوں ’اغوا‘ بیٹی کے لیے تڑپتی ماں کی کہانی copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/asia/india/insiya-hemani-dutch-girl-kidnapped-netherlands-india-b2993173. html show related homepage: Hide from Homepage



