80.7 F
Pakistan
Wednesday, April 29, 2026
HomeEntertainmentانتھک محنت ہی کا ثمر تھا کہ محکمانہ ترقیاں قدم چومتی رہیں...

انتھک محنت ہی کا ثمر تھا کہ محکمانہ ترقیاں قدم چومتی رہیں اور آگے سے آگے بڑھتے رہے،ہلکے پھلکے ہیر پھیر کو بھی نہ بخشتے، جُرم کی سزا تو بھگتنی ہی پڑے گی

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 131ریٹائرمنٹ کے بعد آٹھ دس دفتری ریٹائرڈ سینئر سٹیزنز کے ملاپ کی ایک سوسائٹی بنا دی۔ جو ہر ماہ، 2ماہ بعد، قاضی عبد الرحمان کے درِ دولت پر اکٹھے ہوتے اور گھنٹوں وہاں خوش گپیوں سے خواجہ صاحب کے زرّیں خیالات سے اِستفادہ کرتے۔ چوہدری غلام حسین کی مستقل ڈیوٹی، وہ انہوں نے خود ہی ایک والنٹیرکے طور پر سنبھالی ہوئی تھی۔ شہر سے مشہور و معروف جگہوں سے چیدہ چیدہ کھانوں کی مستقل فراہمی اُن کے ذمے تھی۔ جو انہوں نے پوری جانفشانی سے ادا کی اور حساب کتاب جوڑ کے رکھّا۔ اور سب سے وصولی کرتے رہے۔ یہ اجتماع کم و بیش چودہ پندرہ سال تو رہا ہوگا۔ بعد میں خواجہ صاحب دل کے عارضے کی وجہ سے کچھ انحطاط پذیری کا شکار ہوئے اور گھر کے ہی ہو کر رہ گئے۔دوست وہاں بھی اُن سے ملاقات کے لیے آتے جاتے رہے اور اُن کی بذلہ سنجی سے پھر بھی مستفید ہوتے رہے۔ آخیر یہی کوئی 85سال کی عمر میں وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ مغفرت کرے۔ عجیب آزاد مرد تھا۔ قاضی عبد الرحمن لمباقد، کلین شیو، متناسب جسم، بڑے خوش پوش، لیکن قناعت پسند، متانت، سنجیدگی، ٹھہراؤ کو یکجا کریں تو قاضی صاحب بنتے ہیں۔ قاضی عبد الرحمن، ساری عمر کام کی لگن میں مُستغرق سرجھکائے، کام میں نئی نئی درخشندّہ راہیں تلاش کرتے ریسرچ کے شعبہ میں نکھار پیدا کرتے رہے۔ ایمانداری کا پیکر عظیم قاضی عبد الرحمان ایک سوئی کو بھی راہ دینے کا روادار نہ تھے۔ اِسی انتھک محنت ہی کا ثمر تھا کہ محکمانہ ترقیاں قدم چومتی رہیں اور آپ آگے سے آگے بڑھتے رہے۔ طبیعت میں سادگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ کسی سے کوئی کہیں ہلکی پھلکی اگر خدمت کروا لیتے تو اُس سے بڑھ کر اُس کا اُدھار اتارنے کی سوچ رکھتے تھے۔ مجسمہئ ایمانداری. .. .. . کبھی ہلکے پھلکے ہیر پھیر کو بھی نہ بخشتے تھے۔ جُرم کی سزا تو بھگتنی ہی پڑے گی، اگر آپ قاضی صاحب کے زیر سایہ ایسی کوئی حرکت کر بیٹھیں گے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد مغل پورہ سے ماڈل ٹاؤن میں ایک کوٹھی میں شفٹ ہوگئے تھے اور پھر وہاں کئی سالوں پر محیط دفتری سینئر سٹیزنز جن میں: 1: خواجہ عبد القیوم 2: چوہدری غلام حسین 3: عبد الرحمان طارق 4: عبد الغفور جانباز وہ باقاعدگی سے ہر ماہ، 2 ماہ بعد اکٹھے ہوتے تھے۔ ایک محفل جماتے، گپ شپ ہوتی۔ ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہتے اور پھر ایک پُر تکلف کھانا (جس کا اہتمام چوہدری غلام حسین نے اپنے ذمہ لے لیا تھا) تناول فرماتے اور ہلکے پھلکے ذہن لیے گھروں کی راہ لیتے۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 35 اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments