امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے تین سال سے زائد عرصے بعد شرح سود میں 0. 25 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ فیصلے کا مقصد مسلسل بلند مہنگائی کو کم کرنا ہے، جو اب بھی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے کافی اوپر ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق فیڈ کے فیصلے کے بعد قرض لینے والوں کے لیے نئی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں، جبکہ بچت کرنے والوں کو بعض صورتوں میں اپنی رقم پر زیادہ منافع ملنے کا امکان ہے۔ تاہم اس فیصلے کا اثر ہر قسم کے قرض اور بچت پر ایک جیسا نہیں ہوگا۔ فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے 18 میں سے 16 ارکان نے رواں برس مزید ایک مرتبہ شرح سود بڑھانے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ اگر کسی شخص نے پہلے ہی مقررہ شرح سود پر قرض لیا ہوا ہے، جیسے گاڑی یا گھر سے متعلق کچھ قرض، تو فی الحال اس کی شرح میں تبدیلی نہیں ہوگی کیونکہ وہ پہلے سے طے شدہ ہے۔ اسی طرح مقررہ شرح والے سرٹیفکیٹ آف ڈپازٹ میں رکھی رقم پر بھی موجودہ شرح برقرار رہے گی۔ البتہ نئے قرض لینے یا نئی بچت اسکیم میں رقم رکھنے والوں کو آنے والے دنوں میں نئی شرحوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی بچت یا قرض جن کی شرح وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے، ان پر بھی فیڈ کے فیصلے کا اثر پڑ سکتا ہے۔ آن لائن ہائی ییلڈ سیونگ اکاؤنٹس میں رقم رکھنے والوں کو شرح سود میں اضافے کا فائدہ ملنے کا امکان ہے۔ ماہر کین ٹومن کے مطابق فیڈ کی شرح بڑھنے کے بعد ان اکاؤنٹس کی شرحیں عام طور پر ایک ماہ کے اندر بڑھ سکتی ہیں۔ ٹومن کے مطابق بڑے آن لائن بینکوں میں اوسط شرح تقریباً 3. 14 فیصد تھی، جبکہ کچھ بینک 4. 1 سے 4. 34 فیصد تک سالانہ شرح دے رہے تھے۔ سرٹیفکیٹ آف ڈپازٹ بھی بچت کرنے والوں کے لیے ایک آپشن ہیں۔ ان میں رقم ایک مقررہ مدت کے لیے رکھی جاتی ہے اور شرح پہلے سے طے ہوتی ہے۔ کچھ سرٹیفکیٹ آف ڈپازٹ پر 4 فیصد سے زیادہ سالانہ منافع بھی دستیاب تھا۔ فرسٹ بینک کے صدر اور سی ای او پیٹرک ریان کے مطابق بینک بعض اوقات نئے صارفین سے رقم حاصل کرنے کے لیے سرٹیفکیٹ آف ڈپازٹ کی شرح میں فیڈ کی شرح سود سے بھی زیادہ اضافہ کردیتے ہیں۔ ان کے بقول، سرٹیفکیٹ آف ڈپازٹ رکھنے والا عام طور پر زیادہ شرح پر نظر رکھنے والا صارف ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ٹریژری بانڈز بھی ایک راستہ ہیں، جن پر مختلف مدت کے حساب سے تقریباً 4. 1 سے 4. 99 فیصد تک منافع دستیاب تھا۔ ماہر کین ٹومن کے مطابق زیادہ ٹیکس والے امریکی ریاستوں میں ٹریژری بانڈز کو فائدہ حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ ان پر ریاستی اور مقامی آمدنی ٹیکس نہیں لگتا۔ قرض لینے والوں کے لیے کیا بدلے گا؟ شرح سود میں اضافے سے کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے والوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس وقت اوسط کریڈٹ کارڈ شرح تقریباً 19. 56 فیصد ہے اور ماہرین کے مطابق بینک آئندہ ایک سے دو ماہ میں اس شرح میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔ ایسے افراد جو ہر ماہ کریڈٹ کارڈ کا پورا بل ادا نہیں کرتے، ان کے لیے سود کی اضافی رقم بڑا بوجھ بن سکتی ہے۔ گھروں کے قرض یعنی مارگیج کی شرح کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ 30 سالہ مقررہ مارگیج کی اوسط شرح گزشتہ ہفتے 6. 76 فیصد تھی۔ مارگیج کی شرح براہ راست صرف فیڈ کے فیصلے سے نہیں بلکہ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی پیداوار سمیت دیگر عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ مارگیج ماہر میلیسا کوہن نے سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ 2025 میں جب فیڈ شرحیں کم کر رہا تھا، مارگیج کی شرحیں بڑھ گئی تھیں۔ تو 2026 میں اگر فیڈ شرحیں بڑھاتا ہے تو مارگیج کی شرحیں کم کیوں نہیں ہوسکتیں؟ گاڑیوں کے قرض پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق فیڈ کی شرح میں صرف ایک چوتھائی فیصد اضافے سے 40 ہزار ڈالر کے قرض کی ماہانہ قسط میں ممکنہ تبدیلی چند ڈالر تک محدود رہ سکتی ہے۔ گاڑیاں خریدنے سے منسلک ویب سائٹ ایڈمنڈز کے صارفین سے متعلق تجزیہ کار جوزف یُون کے مطابق گاڑی خریدنے والوں کو صرف شرح سود ہی نہیں بلکہ کمپنیوں کی جانب سے دی جانے والی خصوصی کم شرح والی فنانسنگ پر بھی نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں بعض اوقات فروخت بڑھانے کے لیے کم شرح کی پیشکش کرتی ہیں۔ مجموعی طور پر فیڈ کے تازہ فیصلے کا فوری اثر ہر شخص پر مختلف ہوگا۔ پہلے سے مقررہ شرح والے قرض اور بچت پر فوری تبدیلی نہیں آئے گی، جبکہ متغیر شرح والے اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور مستقبل میں لیے جانے والے نئے قرضوں پر اثر نسبتاً جلد نظر آسکتا ہے۔



