امریکہ کی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے بدھ کو جنگ بندی پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا، تاہم اس کے لیے ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا ’مکمل خاتمہ‘ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ دونوں فریق، جن کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات موجود نہیں، اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ ایسے ’پائلٹ زونز‘ قائم کیے جائیں گے جہاں لبنانی مسلح افواج علاقے کا ’مکمل اور خصوصی کنٹرول‘ سنبھالیں گی اور وہاں کسی بھی غیر ریاستی گروہ کی موجودگی نہیں ہوگی۔ اے ایف پی کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب بدھ کی صبح سرحد پار حملے جاری رہے۔ حزب اللہ نے کہا کہ اس نے اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں کم از کم نو اموات ہوئیں۔ واشنگٹن میں مذاکرات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ جنگ بندی کا انحصار حزب اللہ کی جانب سے فائرنگ کے ’مکمل خاتمے‘ اور جنوبی لبنان سے اس کے جنگجوؤں کے انخلا پر ہوگا۔ یکم جون 2026 کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک ہسپتال کے قریب ہونے والے اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں (اے ایف پی) واشنگٹن میں ہونے والے یہ مذاکرات لبنانی اور اسرائیلی سفارت کاروں کے درمیان براہِ راست بات چیت کا چوتھا دور تھا۔ یہ مذاکرات دو مارچ کو شروع ہونے والی لڑائی کے بعد ہوئے، جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر حملے دوبارہ شروع کیے تھے۔ بیان کے مطابق، دونوں فریق 22 جون کے ہفتے میں مزید مذاکرات کریں گے تاکہ ’جامع معاہدے‘ تک پہنچا جا سکے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) یہ بھی کہا گیا کہ تمام ممالک نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان تعلقات کے مستقبل کا فیصلہ دونوں خودمختار حکومتیں کریں گی اور کسی بھی ریاستی یا غیر ریاستی فریق کی جانب سے لبنان کے مستقبل کو یرغمال بنانے کی ہر کوشش کو مسترد کر دیا گیا۔ اس سے قبل بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ لبنان کے تنازع پر ہونے والے مذاکرات کو ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق بات چیت سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم تہران کا اصرار ہے کہ دونوں تنازعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ بیروت پر کسی بھی حملے کی صورت میں جنگ ’مکمل شدت‘ سے دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ لبنان میں لڑائی روکنے کے لیے 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہونا تھی، لیکن اس پر کبھی عمل نہیں ہوا اور دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کا الزام لگا کر اپنے حملوں کا جواز پیش کرتے رہے ہیں۔ حزب اللہ کے سینیئر عہدیدار محمود قماطی نے منگل کو اے ایف پی کو بتایا تھا کہ تنظیم ’جزوی جنگ بندی قبول نہیں کرے گی۔‘ View this post on Instagram A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) منگل کو اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ کے ارکان صور کے مسیحی علاقے میں سرگرم ہیں اور خبردار کیا تھا کہ اگر وہ وہاں موجود رہے تو شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دی جائے گی۔ اے ایف پی کے ایک نمائندے کے مطابق بدھ کی صبح صور میں صورت حال نسبتاً پرسکون تھی، تاہم مسیحی علاقے کے کنارے گاڑیوں یا خیموں میں رات گزارنے والے بعض افراد شہر کے دیگر حصوں میں منتقل ہو گئے۔ صور کو کسی بھی مسلح موجودگی سے پاک ’کھلا شہر‘ قرار دینے اور وہاں لبنانی فوج تعینات کرنے کے مطالبے پر مبنی ایک درخواست پر مقامی وکلا اور دانشوروں سمیت 180 سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔ صور میں حزب اللہ کا مضبوط اثر و رسوخ موجود ہے، اور درخواست پر دستخط کرنے والے بعض افراد کو بعد ازاں سوشل میڈیا پر تنقید اور حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جنوبی لبنان کے ایک اور بڑے شہر نبطیہ سے متعلق اسی نوعیت کی درخواست پر بھی 200 سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔ یہ شہر بھی اسرائیلی حملوں کی زد میں رہا ہے۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے اور گزشتہ دو دہائیوں میں لبنان کے اندر اپنی سب سے گہری زمینی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ لبنان اسرائیل امریکہ جنگ بندی حزب اللہ واشنگٹن میں مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی پر عمل درآمد پر اتفاق کیا، تاہم اس کے لیے حزب اللہ کے حملوں کا ’مکمل خاتمہ‘ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو جمعرات, جون 4, 2026 – 07: 45 Main image:
3 جون 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی محکمۂ خارجہ میں امریکہ کی میزبانی میں ہونے والے اسرائیلی اور لبنانی وفود کے اجلاس میں اسرائیل کے امریکہ میں سفیر یخیئیل لیٹر، امریکی محکمۂ خارجہ کے چیف آف سٹاف ڈینیئل ہولر، لبنان میں امریکہ کے سفیر مشیل عیسیٰ اور امریکہ میں لبنان کی سفیر ندا حمادہ شریک ہیں (اے ایف پی)
دنیا type: news related nodes: لبنان پر حملے، ایران نے امریکہ سے پیغامات کا تبادلہ بند کر دیا اسرائیل کوئی فوج بیروت نہیں بھیجے گا: ٹرمپ واشنگٹن میں مذاکرات کے دوران اسرائیل اور حزب اللہ کے ایک دوسرے پر حملے لبنان کی خودمختاری کے احترام کیا جائے: پاکستان کا مطالبہ SEO Title: اسرائیل اور لبنان مشروط جنگ بندی پر متفق copyright: show related homepage: Show on Homepage



