76.1 F
Pakistan
Friday, September 4, 2026
HomePoliticsامریکی افواج کی تعیناتیوں میں ایک سال اضافے کی تیاریاں: ٹرمپ کی...

امریکی افواج کی تعیناتیوں میں ایک سال اضافے کی تیاریاں: ٹرمپ کی ایران جنگ خطرناک موڑ میں داخل

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی 2027 تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی یہ طویل تعیناتی ایران کے خلاف واشنگٹن کی غیر معینہ مدت کی فوجی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کے لیے مختلف آپشنز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ابتدا میں امریکی وزیرِ جنگ کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی کو ایک مختصر اور فیصلہ کن فوجی مہم کے طور پر پیش کیا گیا تھا، تاہم یہ کارروائی توقع سے کہیں زیادہ طویل ہوگئی ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی، 19 جنگی بحری جہاز، لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرن، فضائی دفاعی یونٹس اور پیرا ٹروپرز موجود ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل نے معاملے سے واقف افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنگی بحری جہازوں کے عملے، فضائی دفاعی یونٹس اور پیرا ٹروپرز کو توقع سے زیادہ عرصے تک خطے میں رہنے کے احکامات دیے جا رہے ہیں۔ امریکی فوج کے فضائی دفاعی اہلکاروں کی تعیناتی کی مدت 9 ماہ سے بڑھا کر 12 ماہ کردی گئی ہے، جبکہ یورپ اور بحرالکاہل سے مشرق وسطیٰ بھیجے گئے بعض فوجی یونٹس بھی ایک سال سے زائد عرصے سے خطے میں موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طویل تعیناتی کا دباؤ اب امریکی فوجیوں، ان کے خاندانوں اور فوجی سازوسامان پر بھی پڑ رہا ہے۔ امریکی بحریہ کو بھی اسی طرح کے دباؤ کا سامنا ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں موجود 19 امریکی جنگی بحری جہازوں میں 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور 13 گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر شامل ہیں۔ امریکی بحریہ کے دو جنگی جہاز، یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک اور یو ایس ایس سپروئنس، جنگ کے آغاز میں خطے میں بھیجے گئے تھے اور اب سمندری ناکہ بندی پر عمل درآمد میں مدد دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان جہازوں پر تقریباً 300 افراد سوار ہیں اور انہیں معمول کے وقفوں کے بجائے کئی ماہ تک سمندر میں رہنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سخت معاشی دباؤ بڑھانے کی طرف بھی جا رہی ہے۔ واشنگٹن کا مقصد ایرانی قیادت کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا بتایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے اعلان پر بھی نجی طور پر بات کر رہے ہیں، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ معاشی دباؤ ایران کو اپنے جوہری پروگرام میں تبدیلی پر مجبور کرسکتا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ مجھے ہماری موجودہ پوزیشن اب بہت زیادہ پسند ہے، آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول اور ان کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو رہی ہے۔ وہ صرف ناگزیر انجام کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایرانی عوام کب اٹھیں گے اور مقابلہ کریں گے؟ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے بعض مشیر اس بات پر بھی فکرمند ہیں کہ جنگ کو مزید وسیع کرنے سے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن امیدواروں کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فیصلے کرتے وقت وہ انتخابی نتائج کو سامنے نہیں رکھ رہے۔ امریکی صدر نے بدھ کے روز بھی ایران کے خلاف مزید حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا جب چاہے دوبارہ کارروائی کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم بہت سے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، وہ انہیں دیکھ نہیں سکتے کیونکہ ان کے پاس ریڈار نہیں، ہم نے اسے تباہ کردیا ہے۔ ٹرمپ نے امریکی نگرانی کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا تھا ہم نے دیکھا کہ وہ کیا بنا رہے تھے۔ ہم ان کی ہر کارروائی دیکھتے ہیں۔ وہ ہماری نظر سے بچ کر حرکت بھی نہیں کرسکتے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments