پاکستان میں پہلی بار کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ انٹروڈکشن میں ڈریگن فروٹ کی آزمائشی کاشت (پائلٹ پراجیکٹ) کامیابی سے جاری ہے۔ زرعی ماہرین اسے سندھ کے ساحلی علاقوں کے لیے موزوں اور منافع بخش فصل قرار دے رہے ہیں۔ ادارے میں ڈریگن فروٹ کی پہلی کامیاب پیداوار کے بعد اس کی دوبارہ کاشت بھی کی جا چکی ہے جبکہ یلو، ریڈ اور پنک سمیت مختلف اقسام کی افزائش پر بھی کام جاری ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالفتاح سومرو نے بتایا کہ ادارے کا بنیادی مقصد دنیا کے مختلف خطوں سے ایکزوٹک پھلوں اور پودوں کا جرم پلازم پاکستان لا کر مقامی موسمی اور زرعی حالات میں اس کی آزمائش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا اگر کوئی پودا پاکستان کی زرعی و موسمی (ایگرو ایکولوجیکل) صورتحال سے مطابقت رکھتا ہو تو اسے مزید افزائش اور تجارتی کاشت کے لیے متعارف کرایا جاتا ہے بصورت دیگر اس پر مزید کام نہیں کیا جاتا۔ ڈاکٹر سومرو کے مطابق ڈریگن فروٹ کی اصل وسطی اور جنوبی امریکہ ہے تاہم اب یہ پھل تھائی لینڈ، ویتنام، ملائیشیا، چین اور انڈیا سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں کاشت کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا ادارے نے 2013 میں ڈریگن فروٹ کا پائلٹ منصوبہ شروع کیا تھا، جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے اور اب اس کی کاشت کو مزید وسعت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر سومرو کے مطابق ڈریگن فروٹ ایک کیکٹس نسل کا پودا ہے، جس کی افزائش عموماً کٹنگ کے ذریعے کی جاتی ہے۔ کٹنگ سے اگایا گیا پودا تقریباً 18 ماہ بعد پھل دینا شروع کر دیتا ہے جبکہ تیسرے اور چوتھے سال میں اس کی پیداوار نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا سندھ کے ساحلی علاقے، جن میں کراچی، ملیر، ٹھٹھہ اور بدین شامل ہیں، ڈریگن فروٹ کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہیں کیونکہ اس پودے کو گرم اور نسبتاً خشک آب و ہوا درکار ہوتی ہے۔ ان کے بقول 25 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اس کی بہترین نشوونما کے لیے سازگار سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سومرو نے بتایا روایتی فصلوں کے مقابلے میں ڈریگن فروٹ ایک اعلیٰ نوعیت کی فصل ہے، تاہم اس کی ابتدائی لاگت نسبتاً زیادہ ہونے کے باعث کئی کاشت کار اس کی جانب آنے سے ہچکچاتے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان کے مطابق ایک ایکڑ پر ڈریگن فروٹ کی کاشت کے لیے ابتدائی طور پر تقریباً 35 سے 40 لاکھ روپے چاہییں اور ایک ایکڑ زمین میں 680 سے 700 پودے لگائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک بار پودا لگانے کے بعد یہ تقریباً 20 سال تک پیداوار دیتا رہتا ہے۔ ایک ایکڑ سے اوسطاً چھ سے آٹھ ٹن پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ مقامی مارکیٹ میں ڈریگن فروٹ کی قیمت 400 سے 800 روپے فی کلوگرام تک رہتی ہے۔ ڈاکٹر سومرو کے مطابق موجودہ قیمتوں کے تناظر میں ڈریگن فروٹ کی کاشت کسانوں کے لیے سالانہ لاکھوں روپے آمدن کا ذریعہ بن سکتی ہے، جس سے نہ صرف کاشت کاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے پاکستان میں ڈریگن فروٹ کی کاشت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے اس کی پیداوار اور برآمدات کا الگ سرکاری ڈیٹا دستیاب نہیں۔ تاہم مقامی سطح پر پیداوار میں اضافے کے ساتھ مستقبل میں خلیجی ممالک سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں اس پھل کی برآمد کے روشن امکانات موجود ہیں۔ سندھ کراچی زراعت سندھ میں ڈریگن فروٹ کی کاشت کسانوں کے لیے سالانہ لاکھوں روپے آمدن کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ممتاز جمالی بدھ, جون 24, 2026 – 06: 45 Main image: تحقیق jw id: Sa4URGxC type: video related nodes: پھلوں کو خشک کر کے فروخت کرنے والی کوئٹہ کی ہنرمند گھریلو خواتین ’لوگ پہلے اپنی روٹی خریدیں گے یا ہمارے آم؟‘ کشمیری بمقابلہ ایرانی سیب کیلے کی اہمیت پر سندھ میں منفرد ’بنانا فیسٹیول‘ SEO Title: امریکہ سے سندھ تک: ڈریگن فروٹ کسانوں کے لیے نئی امید copyright: show related homepage: Hide from Homepage
امریکہ سے سندھ تک: ڈریگن فروٹ کسانوں کے لیے نئی امید
RELATED ARTICLES



