امریکا میں سال میں دو مرتبہ گھڑیوں کا وقت ایک گھنٹہ آگے یا پیچھے کرنے کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سینیٹر ٹام کاٹن کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگیا۔ ٹرمپ نے ڈے لائٹ سیونگ ٹائم مستقل کرنے کے لیے سینیٹر ٹام کاٹن کا بظاہر ذاتی موبائل فون نمبر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے امریکی شہریوں سے ان سے رابطہ کرنے اور بل کی حمایت پر زور دینے کی اپیل کردی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ سال میں دو مرتبہ گھڑیوں کا وقت تبدیل کرنے کا موجودہ طریقہ مہنگا ہونے کے ساتھ لوگوں کے معمولات میں بھی خلل ڈالتا ہے۔ انہوں نے سینیٹر ٹام کاٹن سے کہا کہ وہ ڈے لائٹ سیونگ ٹائم مستقل کرنے سے متعلق سن شائن پروٹیکشن ایکٹ کی منظوری میں رکاوٹ نہ بنیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ کسی وجہ سے ٹام کاٹن اس بل کو روک رہے ہیں۔ انہوں نے ریاست آرکنساس کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سینیٹر سے کہیں کہ بل کو منظور کرانے کا عمل مکمل کیا جائے۔ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں سینیٹر کاٹن کو فون کرنے کا کہتے ہوئے ایک ایسے موبائل نمبر کا ذکر کیا جس کے ساتھ آرکنساس کا ایریا کوڈ موجود تھا۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے مذکورہ نمبر پر رابطہ کیا تاہم فون نہیں اٹھایا گیا جبکہ وائس میل بھی مکمل تھی۔ دوسری جانب گارڈین نے بھی نمبر پر رابطہ کیا تو ٹیلی فون کمپنی کی جانب سے پیغام سنایا گیا کہ جس صارف سے رابطہ کیا جا رہا ہے وہ دستیاب نہیں۔ سینیٹر ٹام کاٹن نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کی مخالفت کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ گھڑیوں کا وقت تبدیل کرنا کسی کو پسند نہیں، وہ خود بھی اس کے خلاف ہیں، تاہم ماضی میں کانگریس نے مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ کرنے کی کئی مرتبہ کوشش کی اور بعد میں اسے ختم کرنا پڑا کیونکہ سردیوں میں سورج بہت دیر سے طلوع ہونے لگا تھا۔ ٹام کاٹن نے کہا کہ ریاست آرکنساس کے لوگ نہیں چاہتے کہ ان کے بچے مکمل اندھیرے میں اسکول جائیں، اس لیے وہ ہمیشہ ریاست کے مفاد کو ترجیح دیں گے۔ سینیٹر کے مطابق اگر ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کو مستقل کردیا گیا تو سردیوں میں آرکنساس کے کئی علاقوں میں سورج صبح 8 یا ساڑھے 8 بجے تک طلوع نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں سیئٹل میں سورج تقریباً صبح 9 بجے جبکہ نارتھ ڈکوٹا کے شہر ولسٹن میں تقریباً پونے 10 بجے طلوع ہوگا۔ ٹام کاٹن نے خبردار کیا کہ مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے باعث صبح کا اندھیرا اسکول جانے والے بچوں اور کام پر جانے والے افراد کے لیے خاص طور پر نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے 1974 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بچوں کو مکمل اندھیرے میں اسکول جاتے دیکھا گیا تھا۔ ادھر صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے اوہائیو میں انتخابی ریلی کے لیے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سینیٹر کاٹن کا فون نمبر شیئر کرنے کی وجہ بھی بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سال میں دو مرتبہ گھڑیوں کو آگے پیچھے کرنے کے اس طریقہ کار اور روایت سے چھٹکارا چاہتے ہیں، کیونکہ اس کے باعث لوگ کھانے اور اہم ملاقاتوں میں بھی دیر سے پہنچتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ تقریباً چھ ماہ قبل جب گھڑیوں کا وقت تبدیل کیا گیا تو بہت سے لوگوں نے وقت تبدیل نہیں کیا، جس کے نتیجے میں لوگ تاخیر کا شکار ہوئے اور معمولات متاثر ہوئے۔ سن شائن پروٹیکشن ایکٹ کیا ہے؟ سن شائن پروٹیکشن ایکٹ کے تحت امریکا میں سال میں دو مرتبہ گھڑیوں کا وقت ایک گھنٹہ آگے یا پیچھے کرنے کا سلسلہ ختم کرکے ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کو مستقل کرنے کی تجویز ہے۔ یہ بل جولائی میں امریکی ایوانِ نمائندگان سے 117 کے مقابلے میں 308 ووٹوں سے منظور ہوچکا ہے، تاہم سینیٹ میں اسے مخالفت کا سامنا ہے۔ بل کے حامیوں، جن میں صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ بھی شامل ہے، کا مؤقف ہے کہ مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم سے اس وقت زیادہ روشنی دستیاب ہوگی جب امریکی شہری زیادہ سرگرم ہوتے ہیں۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں سردیوں کی صبحیں زیادہ تاریک ہوجائیں گی، جس سے اسکول جانے والے بچوں اور کام پر جانے والے افراد کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ امریکا کی تمام ریاستوں میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ نہیں ہے۔ مجوزہ قانون میں ریاستوں کو اس نظام سے الگ رہنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، بشرطیکہ متعلقہ ریاستی قانون ساز ادارے قانون کے نفاذ سے قبل اس حوالے سے فیصلہ کریں۔ 2025 کے ایک سروے کے مطابق اگر امریکی شہریوں کو شام کے وقت ایک اضافی گھنٹہ روشنی برقرار رکھنے اور موجودہ نظام میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو اکثریت شام کی اضافی روشنی برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔ سروے میں صرف 12 فیصد بالغ افراد نے موجودہ ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نظام کی حمایت کی، جبکہ 47 فیصد نے مخالفت اور 40 فیصد نے غیر جانب دار رہنے کا اظہار کیا۔ امریکا میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے فوائد اور نقصانات پر کانگریس میں طویل عرصے سے بحث ہوتی رہی ہے۔ یہ نظام دوسری عالمی جنگ کے دوران 1942 میں جنگی ضرورت کے طور پر اپنایا گیا تھا۔ 2022 میں بھی امریکی سینیٹ نے ڈے لائٹ سیونگ ٹائم مستقل کرنے کا بل منظور کیا تھا، تاہم یہ ایوانِ نمائندگان میں زیرِ التوا رہ گیا تھا۔



