73.6 F
Pakistan
Friday, September 11, 2026
HomePoliticsالف نون سے کراچی تک

الف نون سے کراچی تک

ایک سفید پوش صاحب، عمر تقریباً پچپن سال، رائیڈ (کرائے کی گاڑی) بُک کروا کر جا رہے ہیں۔ سامنے ایک کالے رنگ کا ڈالا ریورس کرنا چاہتا ہے، چنانچہ اس میں سے مسلح گارڈ اُتر کر اِن کی کار کو روکتے ہیں۔ ڈالے کا ڈرائیور ریورس کرتا ہے، جس سے کار کو کچھ نقصان پہنچتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ سفید پوش کار سے نیچے اترتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ غریب رائیڈر کار چلا کر اپنا گزارا کرتا ہے، آپ نے اس کا نقصان کیا ہے، بہتر یہ ہے کہ اس کا ازالہ کیا جائے۔ یہ ایک منصفانہ بات تھی جو اس سفید پوش شخص نے کہی، مگر یہ بات ڈالے میں بیٹھے شخص کو پسند نہیں آئی اور اس نے اپنے مسلح گارڈ سمیت اس پچپن سالہ سفید پوش شخص پر تشدد شروع کر دیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ مسلح گارڈ اسے اور گاڑی کے ڈرائیور کو قریب موجود اپنے ہوٹل میں لے گئے، وہاں لے جا کر بند کر دیا اور پھر تشدد کیا۔ جب اس پچپن سالہ سفید پوش شخص نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ ایک یونیورسٹی کا استاد ہے تو اس پر مزید تشدد کر کے لہولہان کر دیا گیا۔ یہ واقعہ کسی گاؤں، دیہات کا نہیں ہے جہاں کوئی چوہدری یا وڈیرہ حکومت کرتا ہو، بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا ہے اور اس علاقے کا ہے جو کراچی کا مصروف ترین علاقہ ہے، اور یہ 55 سالہ استاد پاکستان کی ایک بڑی یونیورسٹی( کراچی یونیورسٹی) کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر عارف ساقی ہیں لیکن ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ایسا ہے جیسے کسی گاؤں میں کوئی چوہدری یا وڈیرہ کسی مزدور یا مزارع پر ظلم کر رہا ہو اور کوئی بچانے والا بھی نہ ہو۔ کراچی شہر اب ٹوٹے پھوٹے گاؤں کا سا نقشہ ہی نہیں رکھتا بلکہ قانون کی حکمرانی کے اعتبار سے بھی بالکل کسی گاؤں کا ہی ماحول رکھتا ہے کہ جہاں کوئی بھی بدمعاش کھڑے ہو کر کسی سفید پوش کی عزت کو تار تار کر دے، اسے لہولہان کر دے اور کوئی اسے بچانے والا بھی نہ ہو۔ مجھے یاد ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن سے ایک مشہور پروگرام ’’الف نون‘‘ آتا تھا، جس میں معاشرے کے مختلف معاملات کو اجاگر کیا جاتا تھا۔ اس میں ایک دن دکھایا گیا کہ ایک بدمعاش کسی چھوٹے سے علاقے میں آ کر سب سے بھتہ لیتا ہے، سب کی عزت تار تار کر دیتا ہے اور کوئی اسے کچھ نہیں بولتا بلکہ سب خاموشی سے سر جھکائے رہتے ہیں۔ پھر ایک دن منصوبے کے تحت کمال احمد رضوی ’الف نون‘ ڈرامے کے دوسرے کردار ’ننھا‘ کو تیار کرتا ہے کہ وہ جعلی بدمعاش بن کر علاقے میں آئے اور کہے کہ اس سے بڑا بدمعاش کوئی اور نہیں، لہٰذا سب اس کو ہی بھتا دیں۔ ننھا ایسا ہی کرتا ہے۔ ایک روز اصلی بدمعاش کے آتے ہی ننھا ایک دکان کے سامنے ’بدمعاش‘ بن کر کمال کے کپڑے پھاڑ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ وہی اس علاقے کا سب سے بڑا بدمعاش ہے، لہٰذا سب اس کو ہی بھتا دیں۔ کمال ڈر کے مارے ننھے کے قدموں میں گر جاتا ہے اور معافی مانگنے لگتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر محلے کا بدمعاش ننھے سے ڈر جاتا ہے کہ یہ تو اس سے بھی بڑا اور طاقتور بدمعاش ہے، چنانچہ وہ ڈر کر وہاں سے چلا جاتا ہے۔ اس ڈرامے میں سبق دیا گیا تھا کہ بدمعاش کے آگے اگر اس سے زیادہ طاقتور شخص آ جائے تو بدمعاشی ختم ہو سکتی ہے۔ آج جو حال ہمارے معاشرے کا ہو چکا ہے، یہاں بھی آئے دن کوئی نہ کوئی طاقتور اپنی بدمعاشی دکھاتا ہے اور لوگوں کو ڈراتا ہے کہ کوئی بیچ میں نہ آئے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی منشیات کے کیس میں گرفتار ملزم کیٹ واک کرتے ہوئے عدالت آتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ کبھی قتل کر کے ضمانت پر باہر آنے والا انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنا کر بتاتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ کبھی کوئی لڑکی نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے کسی کو ٹکر مار کر اس کی جان لے لیتی ہے اور پھر عدالت سے بری ہوجانے کے بعد اس کی مسکراہٹ بتاتی ہے کہ وہ سب سے زیادہ طاقتور ہے اور قانون بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جامعہ کراچی کے ایک پروفیسر پر کھلے عام مصروف شاہراہ پر تشدد کرنا، پھر اغوا کر کے حبسِ بے جا میں رکھنا، دوبارہ تشدد کرنا اور پھر گرفتاری سے قبل ہی ضمانت کروا لینا۔ یہ واقعہ بھی ہمارے قانون نافذ کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو یہی پیغام دے رہا ہے کہ جو تم چاہو گے وہ نہیں ہوگا، جو ہم چاہیں گے وہ ہوگا، کیونکہ ہم طاقتور ہیں۔ یہ طمانچہ صرف ایک ایس ایچ او پر نہیں، آئی جی، ڈی آئی جی سمیت وزیرِ قانون تک سب کے منہ پر ہے۔ ہمارے ہاں یہ کلچر اب بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور اب اس کلچر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے مگر یہ کلچر ختم کیسے ہوگا؟ یہ ’’الف نون‘‘ کے ڈرامے میں بہت پہلے ہی بتا دیا گیا تھا، یعنی بدمعاش سے بڑا بدمعاش، یعنی طاقتور بن کر کسی کی بدمعاشی ختم کی جا سکتی ہے اور قانون سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ اگر وہ ان تمام قسم کے بدمعاشوں کے آگے آ کر کھڑا ہو جائے اور یہ پیغام دے کہ وہ ان بدمعاشوں سے زیادہ طاقتور ہے تو ہمارے معاشرے سے ڈالا کلچر، بدمعاشی کلچر ختم ہو سکتا ہے اور اس کا آغاز جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر عارف ساقی کے واقعے سے کیا جا سکتا ہے۔ جامعہ کراچی کے پروفیسر اس واقعے پر ڈٹ کر کھڑے ہو گئے ہیں جو ایک اچھی اور جرات مندانہ بات ہے۔ یہ موقع ہے کہ قانون نافذ کرنے والے حرکت میں آئیں، خواہ وہ ایک ایس ایچ او ہو یا عدالت کا جج، سب مل کر اس ظلم کے خلاف ایکشن لیں اور مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں، اور نہ صرف پروفیسر اور ڈرائیور کو پہنچنے والے نقصان کا ہرجانہ فوراً ادا کروائیں بلکہ سب کے سامنے مجرم کو پروفیسر کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگنے پر مجبور کریں۔ اگر ہمارے قانون نافذ کرنے والوں اور انصاف کرنے والے ججز نے آج یہ کام کر لیا تو یقیناً یہ کلچر آگے نہیں بڑھے گا اور رفتہ رفتہ دم توڑ دے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو آج یہ پروفیسر تو کل کسی اور کی باری ہوگی۔ مختصر یہ کہ اب قانون کو بدمعاش کے آگے کھڑا ہونا ہی ہوگا! آئیے ذرا غور کریں۔ نوٹ: مصنف ڈاکٹر نوید اقبال انصاری جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ یہ تحریر ان کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments