لاہور کے علاقے کینٹ سے پولیس نے ڈی ایس پی اظہر نوید کے بیٹے محمد نائل اظہر خان کو گرفتار کر لیا ہے۔ نائل خان کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آ گئی ہے، جس میں پولیس اہلکاروں کو انہیں اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ نائل خان پر شہر کے مختلف تھانوں میں اغوا، کروڑوں روپے کے مالیاتی فراڈ اور شہریوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے جیسے سنگین مقدمات درج ہیں، جس کے باعث وہ اور ان کے والد گزشتہ کچھ عرصے سے قانونی تنازعات کی زد میں ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق نائل خان کے خلاف فیصل ٹاؤن تھانے میں ایک شہری حارث کو اغوا کرنے کا مقدمہ درج ہے، جبکہ تھانہ سرور روڈ میں بھی شہریوں کو ہراساں کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نائل خان کا مجرمانہ ریکارڈ پرانا ہے اور ان پر سنہ 2025 میں ڈیفنس اے تھانے میں امانت میں خیانت کا مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔ نائل خان اور ان کے والد ڈی ایس پی اظہر نوید اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہوئے جب ان پر تین کروڑ چالیس لاکھ روپے کے بڑے مالیاتی فراڈ کا الزام سامنے آیا۔ اس بڑے فراڈ کے حوالے سے درج کرائی گئی شکایت میں ایک شہری حسام خان نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ حسام خان نے اپنے باقاعدہ بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایس پی اظہر نوید اور ان کے بیٹے نائل اظہر نے قیمتی اور پرتعیش گاڑیوں کی خرید و فروخت کے ایک سودے میں دھوکہ دہی کی، انہوں نے مجھ سے تین کروڑ تینتیس لاکھ روپے سے زائد کی خطیر رقم وصول کی لیکن نہ تو گاڑیاں فراہم کیں اور نہ ہی میری رقم واپس کی۔ اس شکایت کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایس پی کو پہلے ہی گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی تھی، جبکہ ان کے بیٹے نائل اظہر نے گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت سے عبوری ضمانت کی درخواست کر رکھی تھی، تاہم اب پولیس نے انہیں کینٹ کے علاقے سے حراست میں لے لیا ہے۔



